ترکی ڈرامہ ارطغرل ۔ ایک انقلاب کا اشارہ۔بےآواز ایٹم بم

0
52
ترکی ڈرامہ ارطغرل ۔ ایک انقلاب کا اشارہ۔بےآواز ایٹم بم
ترکی ڈرامہ ارطغرل ۔ ایک انقلاب کا اشارہ۔بےآواز ایٹم بم

ڈاکٹر علیم خان فلکی

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈرامہ ارطغرل جس نے اس وقت پوری دنیا میں ہنگامہ مچادیا ہےکتنے ہی مملک میں اس کو دیکھنے پر ۔۔ کا نام دے رہا ہےsilent atom bombپابندی لگادی گئی ہے۔امریکہ اس کو خاموش طوفان سایلینٹ ایٹم

مصر اور سعودی عرب اس کو مسلمانوں کی شاندار تاریخ کہ رہے ہیں تو کچھ علما اس کا دیکھنا ناجائز اور حرام کہہ رہے ہیں۔ لیکن عوام کا یہ حال ہے کہ اس سیرئیل نے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے بھی تمام TRP Records توڑ دیئے ہیں۔ گھر گھر مرد اور خواتین ہی نہیں بچہ بچہ اس کا دیوانہ ہوچکا ہے۔ 150 قسطوں پر مشتمل یہ سیرئیل تاریخی، ادبی اور عہدِ حاضر کی تمام فنّی مہارتوں سے پُر ہے ۔اس سیرئیل کو کئی اعتبار سے ایک انقلابی Turning point کہا جاسکتا ہے۔ پہلے ہم اس پر ہونے والے چند اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ ایک فرضی کہانی ہے اور سارے واقعات Dramatised ہیں۔ یہ بالکل صحیح تجزیہ ہے،ارطغرل کا کردار حقیقی ہے لیکن واقعات کو ڈراماٹائز کیا گیا ہے، لیکن جتنے کردار ہیںسارے کے سارے آج کی دنیا کے چلتے پھرتے کردار ہیں،سچے ہیںاور آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو امت مسلمہ کی ذلّت و رسوائی کا سبب ہیں۔ اس سیرئیل کو غور سے دیکھئے اور اپنے موجودہ حالات پر نظر ڈالیئے۔ کیا Ural اور Kortuglu جیسے غدّار لیڈر بننے اور Power حاصل کرنے کے لئے دشمنوں سے ہاتھ ملا کر اپنے ہی بھائیوں کو نقصان نہیں پہنچاتے؟کیا آج عزیز جیسے بیوقوف حکمران موجود نہیں ہیں جن کو یہی خبرنہیں کہ انہی کے محل میں ان کی محبوبائیں اور وزیر مسلمانوں کے بھیس میں گُھسے ہوئے ہیں جو دراصل عیسائی Crusaders ہیں؟ کیاNoyan اور Alanchak جیسے منگولوں کی شکل میں اسلام دشمن کفّار آپ پر مسلّط نہیں ہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے ہیں؟ کیا Aytulan, Gonchagul اور Colpan جیسی چالباز عورتیں ہمارے خاندانوں میں نہیں ہیں ؟ کیا Saaduddin Vazirکی طرح کے منافق ہمارے درمیان نہیں ہیں جو جس کا نمک کھاتے ہیں اسی کی پیٹھ میں چُھرا گھونپتے ہیں؟ کیا Bahadur Bey, Batulan, Alptakin اور Gumustakinجیسے مسلمان جاسوس ہمارے اپنے محلّوں میں نہیں ہیں جو چند سِکّوں کی خاطر جاسوسی کرتے ہیں اور اپنے ہی ہیروز کو پسپا کرتے؟ کیا Titus, Aeris, Cardinal اور Bazantinians جیسے عیسائی اور یہودی مسلمانوںکو لڑوانے کی عالمی سیاست نہیںکھیل رہے ہیں؟ کیا Dundar Bey جیسے سگے بھائی نہیں ہیں جو ایک لڑکی کی عاشقی کی نادانی میں خاندانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں؟
یہ سارے کردار سچے ہیں اور ہر جگہ موجود ہیں۔ نہیں ہے تو آج ایک ارطغرل نہیں ہے جو کبھی واقعی تھا۔ جس کی ہمت، ذہانت اور بہادری کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت ، سلطنتِ عثمانیہ وجود میں آئی۔ یہ سیرئیل دیکھتے ہوئے ہر دل میں ایک ارطغرل بننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے۔ یہ فلم ان تمام غدّاروں سے مقابلہ کرنے کے لئے تلوار سے زیادہ عقل اور جوش سے پہلے ہوش استعمال کرنے کے گُر سکھاتی ہے۔ ارطغرل کا مقصدِ حیات مظلوم کی مدد اور عدل و انصاف کا قیام دکھایا گیا ہے، اسی مقصد کے لئے وہ اپنی جان کی پروا نہیں کرتا اور ہر دشمن کو مارگراتا ہے۔ عدل اور انصاف کا قیام ہی ایک اسلامی ریاست کو قائم کرسکتا ہے، یہی اس سیرئیل کا اصل میسیج ہے۔
دوسرا الزام اس سیرئیل پر یہ ہے کہ یہ محض ایک فلم ہے اور فلم دیکھنا اسلام میں حرام ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں انگریزوں کی ہر ایجاد پہلے حرام قرار دے دی جاتی ہے، پھر اسے حلال ہوتے ہوتے کئی سال لگ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم زمانے سے کئی سال بلکہ کئی سو سال پیچھے ہیں۔ جس طرح پرنٹنگ مشین حرام تھی، لاؤڈاسپیکر، گھڑیا ل دیکھ کر اذان دینا حرام تھے ، اسی طرح ہم نے حالیہ تاریخ میں بھی انٹرنیٹ، TV، فلم، موبائیل، تھیئٹر، سوشیل میڈیا، کیمرہ اور ویڈیووغیرہ ایجاد ہونے ساتھ ہی انہیں حرام قرار دے دیئے۔ ان فتوؤں پر مشتمل بے شمار کتابیں آج بھی موجود ہیں۔ برسوں بعد یہ رفتہ رفتہ حلال ہونے لگے بھی تو اس حد تک کہ آپ مولاناؤں کی تقریریں سن سکتے ہیں۔
غورفرمایئے۔ ہماری کم سے کم دو نسلیں علمی اور تہذیبی طور پر انٹرنیٹ کے دور میں اپنے شعور کو پہنچی ہیں۔ Tom & Jerry کے ساتھ بچپن گزرا ہے، مائیکلجیکسن کے ساتھ جوان ہوئے ہیں اور گوگل سے دین، History اور کلچر سیکھا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثریت کو وہی تاریخ معلوم ہے جو انہیں TV،یا انٹرنیٹ پر انگریزوں نے بتائی ہیں۔ جس میں ہمارے ہیروز کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا لیکن ان کے ہیروز کا تذکرہ اس طرح ہوتا ہے جیسے کہ وہ اصلی مہذب اور تاریخ ساز لوگ تھے۔ حالانکہ صدیوں پورے ایشیا، افریقہ اور آدھے یورپ پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ سائنس، ٹکنالوجی، حساب، فنِ تعمیر اور ادب میں صرف مسلمانوں ہی کی تہذیب تھی جس کا عشرِ عشیر بھی کسی اور قوم کے پاس نہیں تھا۔ آغازِ اسلام سے لے کر 19th سنچری تک مسلمانوں سے منگولوں ، عیسائیوں اور یہودیوں نے بے شمارخونی جنگیں لڑی ہیں، لیکن جیت آخر میں مسلمانوں ہی کی ہوئی ہے۔ لیکن جب کیمرے ، ویڈیو اور انٹرنیٹ ایجاد ہوئے تو ہم حلال حرام کی بحثوں میں اٹک گئے ۔ اسی طرح جس طرح بغداد میں جب ہلاکو خان داخل ہوا اس وقت ہم گدھے اور کوّے کا گوشت حلال ہے یا حرام کی بحثوں میں مشغول تھے۔ غیروں نے میڈیا، فلموں، ڈاکومینٹریز اور E-Libraries کے ذریعے انٹرنیٹ پر اتنا مواد بھر دیا کہ آج خود ہماری نسلیں اس کامپلیکس میں مبتلا ہیں کہ کیا کبھی مسلمانوں نے جنگوں اور مذہبی اختلافات پر بحثوں کے علاوہ بھی کچھ اور کیا ہے؟ کیونکہ پورے میڈیا میں مسلمانوں کا کردار طالبان، القاعدہ یا داعش ISIS کی طرح صرف خون بہانے والوں کا ہے

۔اگلی قسط کل

 صد ر سوشیو ریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

9642571721

  نوٹ ۔۔یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے ادارے کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here