آئندہ انتخابات مودی بمقابلہ راہل ہونے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے

0
106

2019میں 2004جیسے صورتحال اورمعلق لوک سبھا کاامکان :شردپوار

ملک کے میں آئندہ سال 2019کے عام انتخابات میں مرکز اور ریاست مہاراشٹر میں اقتدار میں تبدیلی واقع ہوگی اور آج دونوں جگہ جن کا اقتدار ہے ،وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوں گے اور 2019میں بی جے پی دوبار ہ اقتدار سے باہر ہوجائے گی اور کسی بھی پراٹی کو اکثریت نہیں ملے گی ،لیکن بی جے پی کے لیڈران کی کوشش ہے کہ مذکورہ انتخابات کو مودی بمقابلہ راہل کردیا جائے جسے ہم ہونے نہیں دیں گے ۔نشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) کے رہنماء شردپوار نے آج یہاں ایک نجی ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے۔
شردپوار نے مزید کہا کہ 2019میں بھی بالکل 2004جیسے حالات پیدا ہوجائیں گے اور اُس وقت معلق لوک میں بیرون حمایت کے بعد ڈاکٹر من موہن کی قیادت میں حکومت تشکیل دی گئی تھی۔یہی صورتحال 2019میں ہونے کا امکان ہے ،انہوںنے کہا کہ اس طرف کو ئی توجہ نہیں دیتا ہے ،دنیا بھر کے کئی ملکو ںمیں اتحادی سرکاریں کام کررہی ہیں ،جرمنی ،برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں ملی جلی سرکاریں ہیں۔بی جے پی کیت حکمت عملی ہے کہ 2019کے انتخابات کو مودی بمقابلہ راہل گاندھی کردیئے جائیں ۔لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ الیکشن کے بعد قیادت کون کرے گا یہ طے کیا جائیگا۔
شردپوار نے کہا کہ ملک کے عوام تبدیلی کی خواہش کررہے ہیں اور آئندہ سال 2019میں ملک میں ایک تبدیلی واقع ہوگی اور مرکزمیں اتحادی حکومت کا امکان ہے ،اس بات کا اشارہ پی چدمبرم نے بھی دیا ہے۔کانگریس کا وزیراعظم بنے گا ،ایسا نظرآرہا ہے ،2004میں من موہن سنگھ وزیراعظم نامزد کیے جائیں گے ،ایسا کسی نے نہیں سوچاتھا ،لیکن یہ ممکن ہوگیا اور 2019میں بھی یہی حالات پیدا ہوں گے اور ایک نئی قیادت ابھر نے کے بھی امکانات ہیں۔
شردپوار نے ایک سوال پر کہا کہ وہ زمین پر پائوں رکھنے کے عادی ہیں اور وزرات عظمیٰ کیلیے ان کے پاس عدد نہیں ہیں ،اس لیے کچھ کہنا بے معنی ہے۔انہوںنے کہا کہ سابق آنجہانی ومیراعظم اٹل بہاری واجپئی جیسے مودی میں لیڈر شپ نہیں ہے ،بی جے پی کے وہ طاقتور لیڈر ہوسکتے ہیں مگر ملک کے لیے منصوبہ بندی میں ناکام نظرآرتے ہیں ،وہ صرف ’من کی بات ‘کرتے ہیں اور ’جن کی بات ‘ پر توجہ نہںی دیتے ہیں ،البتہ مودی نے کہا کہ مودی کے پاس ٹیم ہے ،لیکن اس کے ٹیم میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔جبکہ نصف فائلیں پی ایم او میں پاس ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here