ماضی پرفخر کرنے کے بجائےمستقبل کے بارے میں سوچناضروری

0
83
اب ہمیں ماضی پرفخر کرنے یا حال پر ماتم کرنے کے بجائے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ملت کاہر فرد قیمتی ہے وہ ملک اور قوم کا اثاثہ ہے۔اس کی زندگی کے اثرات ملک اور قوم دونوں پر پڑتے ہیں
اب ہمیں ماضی پرفخر کرنے یا حال پر ماتم کرنے کے بجائے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ملت کاہر فرد قیمتی ہے وہ ملک اور قوم کا اثاثہ ہے۔اس کی زندگی کے اثرات ملک اور قوم دونوں پر پڑتے ہیں

قوم کو ہر دور میں عزت ملی تعلیم سے
تعلیم کا جب ذکر ہوتا ہے تو اس کی اہمیت اور افادیت پر گفتگو ہوتی ہے یا پھر مسلمانوں کی بدحال اور ناگفتہ بہ تعلیمی صورت حال کا رونا رویا جاتا ہے ۔ان دونوں موضوعات پر بہت بات ہوچکی ہے ۔اس لیے اب ہمیں ماضی پرفخر کرنے یا حال پر ماتم کرنے کے بجائے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ملت کاہر فرد قیمتی ہے وہ ملک اور قوم کا اثاثہ ہے۔اس کی زندگی کے اثرات ملک اور قوم دونوں پر پڑتے ہیں۔اس لئے ہمیں ایسا لائحہ عمل بنانا چاہئے جو قوم کے ہر فرد کے لیے قابل عمل ہواور جس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہوں۔

تعلیم کے تعلق سے ہم اپنے سماج کو چند طبقات میں تقسیم کرسکتے ہیں

۔ایک طبقہ وہ ہے جو بہت اعلیٰ دماغ رکھتا ہے۔اس کے پاس وسائل بھی ہیں ۔مگر گائڈینس کی کمی ہے۔ایک طبقہ وہ ہے جو ذہین اور اعلیٰ دماغ تو ہے لیکن اس کے پاس سرمایہ نہیں ہے ۔ایک طبقہ متوسط ذہن کا مالک ہے ،کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی معاشی تنگی کی بنا پر بچوں کو تعلیم کے بجائے پیسہ کمانے میں لگادیتے ہیں ۔ایسے بھی لوگ ہیں جو تعلیم کو دین دنیا میں تقسیم کرکے صرف دین کی تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں ۔کہیں ہماری ذہانت والدین کے جبر کا شکار ہوجاتی ہے۔کہیں اعلیٰ دماغ حجاب میں مستورہوکر اپنے جوہر دکھانے سے محروم رہتا ہے۔کہیں تعلیمی ادارے ہماری تہذیب کے لیے خطرہ ہیں اور جہاں تہذیب محفوظ رہ جائے تو وہاں معیار تعلیم کا فقدان ہے ۔

تعلیم صرف نوکری کے لیے ہی حاصل نہیں کی جاتی

تعلیم کے ذیل میں یہ غلط فہمی بھی ہمارے سماج میں پائی جاتی ہے کہ حصول تعلیم کے بعد نوکری نہیں ملتی۔ہماری بہت سی تنظیمیں حکومت سے رزرویشن کا مطالبہ بھی کرتی رہتی ہیں ،بعض ریاستی سرکاروں نے چار پانچ فیصد کا چارہ بھی ڈالا ہے ۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تعلیم صرف نوکری کے لیے ہی حاصل نہیں کی جاتی۔دوسری بات یہ ہے کہ معیاری تعلیم حاصل کرنے والوں کے دروازوں پر درجنوں نوکریاں دستک دیتی ہیں ۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ سعوی عرب نے یہ پالیسی بنائی کہ وہ صرف مسلمانوں کو ہی نوکریاں دے گا ۔مگر اسے یہ پالیسی بدلنا پڑی کیوں کہ مطلوبہ تعداد میں مسلمان نہ مل سکے ۔ اگر اندرون کے دروازے بند بھی ہوجائیں تو بیرونی دنیا اعلیٰ دماغ خریدنے کو تیار ہے

۔سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کرنا کیا ہے

سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کرنا کیا ہے ؟سب سے پہلے ہر گائوں اور ہر شہر میںایک مقامی کمیٹی بنانا چاہئے جو اس بستی یا شہر کے تعلیم یافتہ اور ملت کے لیے فکر مند افراد پر مشتمل ہو۔اس کمیٹی میں سول سوسائٹی کے ہر طبقہ کی نمائندگی ہو۔یہ کمیٹی درج ذیل کام کرے ۔
٭اپنی بستی اور شہر کا سروے کرے ۔تعلیمی صورت حال کے مطابق فہرست سازی کرے ۔ ٭ جو بچے صرف دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو دینی مدارس میں داخل کرائے ۔البتہ ان کے لیے عصری تعلیم کا نظم کرے ۔اس کے لیے محلہ کی مسجد کا استعمال بھی ہو سکتا ہے یا مدرسہ والوں سے مل کر ایک استاذ کا نظم بھی کیا جاسکتا ہے۔٭ جو بچے اور والدین عصری تعلیم کا رجحان رکھتے ہوں ۔ان کا داخلہ عصری تعلیم گاہوں میں کرائے ۔ان کی دینی تعلیم کے لیے شبینہ یا صباحی مدارس قائم کرے۔٭وہ مقامات جہاں مسلم مینجمنٹ کے معیاری ادارے نہ ہوں وہاں برادران وطن کے اسکولوں سے استفادہ کیا جائے۔اپنے بچوں کی تہذیبی اور لسانی تحفظ کے لیے شبینہ اسکول قائم کیے جائیں ۔جس کے لیے مسجد موزوں مقام ہے۔۔

کیرئرگائڈینس کی بہت سی ویب سائٹس رہنمائی کرسکتی ہیں

٭ پانچویں ،آٹھویں،دسویں اور بارہویں جماعت میں پڑھنے والے بچوں کے لیے کائو نسلنگ اینڈ گائیڈینس پروگرام کیے جائیں ۔اس کے لیے ضلع کے کسی اچھے اسکول کے پرنسپل وغیرہ کی خدمات لی جاسکتی ہیں۔کیرئرگائڈینس کی بہت سی ویب سائٹس رہنمائی کرسکتی ہیں۔
٭ بچوں کو ان کی دل چسپی اور ذہنی استعداد کے مطابق مضامین منتخب جائیں ۔عام طور پر ہر شخص اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجیئر بنانا چاہتا ہے ۔جب کہ سماج میں ڈاکٹر اور انجینئر کے ساتھ ساتھ ،اچھے تاجر،زراعت کے ماہرین،دور اندیش منصوبہ ساز،با اخلاق معلمین،وفادار سپاہی اور داروغہ،جاں نثار فوجی،نظم و نسق سنبھالنے کے لیے ذہین ایس ڈی ایم ،ڈی ایم اور کلکٹر حتیٰ کے دین کی رہنمائی کے لیے کشادہ دل امام اور عالم کی بھی ضرورت ہے

۔کمپٹیشن اگزام کی تیاری کے لیےمعلومات ان اداروں کی ویب سائٹس پر موجود
٭ بستی اور شہر کی سطح پر ٹیلینٹ سرچ ٹیسٹ کرائے۔اس میں پاس ہونے والے بچوں کی تعلیم کا پروگرام بنائے۔کمپٹیشن اگزام کی تیاری کے لیے کوچنگ سینٹرس سے رجوع کیا جائے۔اس ضمن میں ،الامین سوسائٹی بنگلور،شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس بیدر،الامین مشن کولکاتہ،شاہین اکیڈمی دہلی،مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کیرالہ،رحمانی30پٹنہ،لطیفی40حیدرآباد،ریزیڈینشیل کوچنگ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور اے ایم یو علی گڑھ وغیرہ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ ان کی معلومات ان اداروں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں۔
٭اگر شہر یا بستی کی آبادی مسلم اکثریت پر مشتمل ہو اور وہاں کچھ اصحاب مال لوگ ہوں تو انھیں اسکول اور کالج کے قیام پر متوجہ کرے۔ یہ اسکول کالج اس طرح قائم کیے جائیں کہ خود کفیل ہوں اور بار بار چندہ کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔مناسب فیس وصول کی جائے البتہ ذہین اور نادار طلبہ کے لیے کچھ سیٹیں مخصوص کی جائیں ۔ جن پر ٹیسٹ لے کراسکالر شپ دی جائیں۔

٭ مالی اخراجات کے لیے چندہ سے جہاں تک ممکن ہو گریز کیا جائے

۔ اس کے بجائے غریب اور ذہین طلبہ کے تعلیمی مصارف اول تو تعلیمی ادارہ برداشت کرے .،یا کوئی صاحب خیر ایسے بچے کے مصارف کا ذمہ لے اور اس کی فیس وغیرہ ادا کرے۔میٹرو پولیٹن شہر کو چھوڑ دیجئے تو ہر گائوں میں دس اورشہر میں ایسے سو بچے ہوں گے ۔جن میں سے پچاس فیصد بچوں کے مصارف کے لیے اسکول حامی بھرلیں گے. اور باقی کے لیے اسی شہر سے ایسے افراد مل جائیں گے جو ملت کے مستقبل کی سرپرستی کریں گے ۔اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری ،غیرسرکاری تنظیموں کی اسکالر شپ حاصل کی جائے ۔ضرورت پڑنے پر بینک سے بھی تعلیمی لون لیا جاسکتا ہے ۔دیگر مصارف کے لیے کمیٹی کے ممبران باہم تعاون کریں۔قوم کی ذہن سازی کی جائے کہ وہ بچوں کی تعلیم پر اپنی آمدنی کا کم سے کم دس فیصدحصہ خرچ کرے۔

٭مسلم مینجمنٹ کے اداروں کے ذمہ داران سے مل کر ان کے مسائل معلوم کیے جائیں ،مسائل کے حل اور ادارے کے فروغ و استحکام میں معاونت کی جائے،ان کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مشورے دیے جائیں ۔مسلم مینجمنٹ کے اداروں کو اپنی تعلیمی پالیسی اس طرح وضع کرنی چاہئے کہ وہ ہندوستانی آئین کے مطابق بھی ہو اور کسی دھرم اور کلچر کے خلاف بھی نہ ہو۔٭سرکاری اور برادران وطن کے اسکولوں سے بہتر تعلقات بنائے جائیں ،ان کو اسلام اور مسلمانوں کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے۔
٭ مسلم جماعتیں اورملی تنظیمیں کم از کم ضلع سطح پر ہی ایک آئیڈیل اور ماڈل تعلیمی ادارہ قائم کرنے میں سول سوسائٹی کی معاونت کردیں تو بڑا کام ہوگا۔یہ نہ کرسکیں تو ضلع سطح پر ایک کیرئر گائڈینس سینٹر ہی قائم کردیں جہاں کسی بھی طالب علم کو مطلوبہ تازہ معلومات مل جائیں ۔یہ بھی ممکن نہیں تو کم از کم اپنے اپنے ہیڈ کوارٹر پر ہی ایک کیرئر گائڈینس کا سینٹر بنالیں ،تاکہ لوگ فون یا آن لائن ذرائع کا استعمال کرکے رہنمائی حاصل کرسکیں ۔چھوٹی چھوٹی کمپنیاںکسٹومر کیئرسروس (گراہک سیوا کیندر ) قائم کرکے چوبیس گھنٹے لوگوں کے مسائل حل کرتی ہیں ۔آپ بارہ گھنٹے ہی اس کام کے لیے کچھ افراد کو نوکری پر رکھ لیں توقوم پر آپ کا عظیم احسان ہوگا۔

مقامی تعلیمی کمیٹی کے لیے مندرجہ بالا کام کچھ مشکل نہیں ہیں ۔ قوم کی تقدیر صرف تقریر کرنے یابہتر منصوبہ بنانے سے نہیں بدلے گی ۔تقدیر بدلنے کے لیے مقامی سطح پر ہی سول سوسائٹی کو متحرک ہونا پڑے گا۔اپنا آرام اور نیند حرام کرنی پڑے گی۔اپنے سرمایہ کا کچھ حصہ خرچ کرنا ہوگا۔کچھ پتھر کھانے ہوں گے ۔ لیکن ذرا سوچیے اگر آپ نے یہ سب کچھ برداشت کرلیا توقوم کی حالت سدھر جائے گی ۔اس کو عزت اور عروج حاصل ہوگا ۔ملک کی تعمیر اور ترقی میں اضافہ ہوگا ۔کیا ہم دیکھتے نہیں کہ ایک سرسید ؒنے جب یہ سب کچھ برداشت کیا تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی وجود میں آگئی ،ایک قاسم نانوتوی ؒ نے قربانیاں دیں تو ہزاروں دارالعلوم بن گئے۔اگر ہر شہر اور بستی میں ایک سرسیدؒ اور ایک قسم نانوتویؒ پیدا ہوجائے تو کیا حال ہوگا۔؟
مگر ہم مسائل پر صرف بات کرتے ہیں ،کام کرنے والوں میں کمیاں تلاش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سارے کام کوئی دوسرا کرجائے ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے ۔تو اے مرے عزیزو! کان کھول کر سن لو ۔جب تک تم خود کچھ نہیں کروگے تب تک آسمان والا بھی تمہارے لیے کچھ کرنے والا نہیں تو پھر تم زمین والوں سے یہ امید کیوں لگائے بیٹھے ہوکہ وہ تمہارے بچوں کی تعلیم کا انتظام بھی کریں گے ،تمہاری صحت کا خیال بھی رکھیں گے،تمہارے منھ میں نوالہ بھی دیں گے ۔اگر تمہاری یہی روش رہی تو آئندہ تم چبانے اور ہضم کرنے کا کام بھی دوسروں کو سونپ دوگے ۔پھر تم اپنی موت کے خود ذمہ دار ہوگے۔
علم کے باعث فرشتوں پر ملی ہے فوقیت
قوم کو ہر دور میں عزت ملی تعلیم سے

کلیم الحفیظ۔نئی دہلی

Article by Kaleem-ul-Hafeez

Education is the only way to success for Muslims

Sada Today web portal

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here