غزل

0
41

 

 

 

غزل

غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے
مجھ پہ بس تیری نظر کی چاندنی قائم رہے
اس لئے اوڑھے ہوئے ہوں میں خزاؤں کی ردا
میرے گلشن کی فضا میں تازگی قائم رہے
ہم نشیں.! اتنا بتا دے کیا کروں تیرے بغیر
کس طرح سانسوں سے عاری زندگی قائم رہے
رنگِ الفت کی بقا کے واسطے میرے خدا
عاشقی قائم رہے اور دلبری قائم رہے
کھارے پانی کا سمندر یوں ہوا مجھ کو عطا
عمر بھر ہونٹوں پہ میرے تشنگی قائم رہے
جب حریفِ جاں ہی دل کی دھڑکنوں میں آ بسے
غیر ممکن ہے کسی سے دوستی قائم رہے
بوئے”مینا” رات کے کھیتوں میں یوں سورج کے بیج
اپنی کوشش ہے جہاں میں روشنی قائم رہے

ڈاکٹر مینا نقوی ۔۔مراداباد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here