دلی بولے دل سے ۔کیجریوال پھر سے ۔نفرت کی ہار محبت کی جیت

0
34
آج بہت عرصے بعد اداریہ لکھنے کو جی چاہا ورنہ جب سے این آر سی اور سی اے اے کا مدعا چھڑا ہے ہم نے پوری طاقت صر ف اورصرف احتجاج میں شامل ہونے اور سچی ایماندار رپورٹنگ میں ہی لگادی تھی آج جب دلی والوں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے تو اب دل سے خوشی منانے کو جی کرتا ہے ۔دلی والوں نے کییجریوال پر پھر سے بھروسہ دکھایا ہے اور ایک بار پھر نفرت کی سیاست ہار گئی اور محبت جیت گئی
دلی بولے دل سے ۔کیجریوال پھر سے ۔نفرت کی ہار محبت کی جیت

آج بہت عرصے بعد اداریہ لکھنے کو جی چاہا ورنہ جب سے این آر سی اور سی اے اے کا مدعا چھڑا ہے ہم نے پوری طاقت صر ف اورصرف احتجاج میں شامل ہونے اور سچی ایماندار رپورٹنگ میں ہی لگادی تھی آج جب دلی والوں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے تو اب دل سے خوشی منانے کو جی کرتا ہے ۔دلی والوں نے کییجریوال پر پھر سے بھروسہ دکھایا ہے اور ایک بار پھر نفرت کی سیاست ہار گئی اور محبت جیت گئی ۔دلی والوں نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ صرف اور صرف کام کی بنیاد پر اپنا رہنما چنتے ہیں اور سیاسی شعبدہ بازیوں کے جھانسے میں نہیں آتے ۔شاہین باغ اس بار محور تھا پورے الیکشن کا ۔اور شاہین باغ نے ہی اس بات کو ثابت کردیا کہ دلی کے عوام دلوں کو جوڑنے والی سیاست کرتے ہیں توڑنےوالی نہیں ۔
آخر کیوں دیا دلی والوں نے کیجریوال کو ووٹ ۔ کیا ہوتی ہیں کسی بھی شہری کی بنیادی ضروریات ۔بجلی ،پانی ، اسپتال ۔تعلیم ۔عوام کا تحفظ ۔میں بتاتی ہوں آپ کو عام آدمی پارٹی نے کس طرح دلی کا دل جیتا
دلی والوں کے بجلی کے بل معمولی جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے بھی ہزاروں میں آتے تھے ۔لوگ ہر وقت بجلی کے بلوں کے بوجھ سے پریشان رہتے تھے آج لاکھوں لوگوں کے بل زیرو آرہےہیں ۔کم سے کم ایک بوجھ سے تو چھٹکارہ ملا
اسپتالوں میں یہ حال تھا کہ غریب آدمی کی سنوائی ہی نہیں تھی باہر کوریڈور میں پڑے رہتے تھے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسپتال ،سفائی ستھرائی میں اور سہولیات میں بہتر ہوئے ہیں، مفت دوائیاں بھی مل رہی ہیں ۔سب سے بڑی بات کسی کا ایکسیڈنٹ ہوجائے تو کوئی اسپتال کسی کو ایڈمیٹ نہیں کرتا تھا جب تک پولیس کیس نہ ہوجائے ،کوئی سڑک پر پڑے ہوئے آدمی کو اٹھانا پسند نہیں کرتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں وہ ہی نہیں پھنس جائے ۔کیجریوال نے عوام کو بھروسہ دلایا کہ اب کوئی سوال نہیں کریگا پہلے فرسٹ ایڈ دی جائگی
سرکاری اسکول جیسے ختم ہی ہوگئے تھے کوئی بھی اپنے بچے کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانا پسند نہیں کرتا تھا نوکریاں سب کو سرکاری اسکول ٹیچر کی چاہئے ہوتی تھیں لیکن پڑھائی کے نام پر صفر اور اساتذہ بھی عیش کی کھاتے تھے ۔پہلی بار ہندوستان کی تاریخ میں سرکاری اسکولوں کو پرائیوٹ اسکولوں کے برابر لاکرکھڑا کردیا گیا۔جو والدین یہ نہیں جانتے تھے کہ پیرنٹس ٹیچرس میٹنگ کیا ہوتی ہے وہ بھی اب صاف ستھرے کپڑے پہن کر پیرنٹس ٹیچرس میٹنگ میں جانے لگے یہ ہے کیجریوال کی جیت ۔منیش سسودیا نے اتنی محنت کی اور ساتھ میں آتشی نے کہ آج دہلی کے سرکاری اسکولوں کی حالت شاندار ہے ۔اب بتائے اس پر کوئی ووٹ کیوں نہیں دیگا ؟
اور خواتین کے لئے بسوں میں ٹکٹ فری کر دیے گئے ۔اسکا مطلب ہے کہ وہ نوکری پیشہ عورتیں جو سفر نہیں کرپاتی تھیں ان کا پورا ووٹ کیجریوال کو ملا ہے ۔تیرتھ یاترا دلی کے  بزرگوں کے لئے فری کردی گئی
ہر طرف شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں ۔عوام کو اس سے ذیادہ تحفظ اور کہاں ملیگا
اب آئیے شاہین باغ کی طرف ۔بار بار سمبت پاترا کہتے ہیں کہ وہاں جناح والی آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں تو کوئی بھی اگر ایک بار یہ ثابت کردے کہ وہاں جناح والی ّزادی کے نعرے لگے ہیں تو پھر خود شاہین باغ کی دادیاں ان سے معافی مانگینگی ۔۔لیکن سمبت پاترا کھسیانی بلی کی طرح ایک ہی بات دہراتے ہیں جس پر لوگ ہنس رہے ہیں ۔اور جو بے بنیاد ہے
شاہین باغ ایک سیکولر احتجاج کا وہ نمونہ بن کر ابھرا ہے جسکی مثال نہیں ملتی ۔ترنگا ہاتھ میں ترنگا ماتھے پر ترنگے کے لہراتے آنچل اور لبوں پر بھارت ماں کی جے کے نعروں نے بی جے پی کی ہر چال کو ناکام بنادیا ۔جامعہ ملیہ اور شاہین باغ نے جس ہمت ،سکون اور سمجھ داری کا ساتھ دیا ہے وہی آپ کی جیت ہے
امانت اللہ صاحب کی بڑے مارجن سے جیت اس بات کی علامت ہےکہ شاہین باغ کے عوام نے ہی نہیں اس علاقے کے ہمارے ہندو بھائیوں نے بھی امانت اللہ کا ساتھ دیا ہے نہ کہ بانٹنے کی سیاست کا
آخر میں ایک بات ہم بہت ہی دکھ سے کہنا چاہتے ہیں کہ جو نفرت کا ماحول بی جے پی نے اس وقت پورے ملک میں بنادیا ہے ایسی نفرت ایسی شدت سے مسلمانوں سے نفرت کا اظہار نہ کبھی دیکھا نہ سنا ۔بی جے پی نے ایسا ماحول بنادیا ہے جس کا نقصان ان کو ہی ہوا ہے اور ہوگا بھی ۔ایک بڑی دوسری اکثریت کو نفرت میں بانٹ کر ہندوستان کا دل نہیں جیتا جاسکتا ۔اب بس اور نہیں نفرت کی سیاست اور نہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here