Home زبان و ادب ادبی شخصیات دلی کی فتح اہلِ وطن کو مبارک۔بھاجپا کی نفرت انگیزی کو شکستِ...

دلی کی فتح اہلِ وطن کو مبارک۔بھاجپا کی نفرت انگیزی کو شکستِ فاش

0
90
بھاجپا کی نفرت انگیزی کو شکستِ فاش اور ہندوستان کے دل، دلی کی فتح اہلِ وطن کو مبارک

 

دلی کی گنگا جمنی تہذیب کی جیت کوہزاروں سلام

رئیس صِدّیقی
سابق آئی بی ایس ( آکاشوانی و دوردرشن)

دہلی اسمبلی انتخابات جس پر پورے ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئیں تھیں ،آخرکار
نتیجوں نے بھاجپا کی نفرت انگیزی کو شکستِ فاش اور ہندوستان کے دل، دلی کی فتح ، اہلِ وطن کو مبارک ہو،کہنے کا سنہرا موقع دے ہی دیا۔ در اصل اسکے لئے ہمیں دلی کی گنگا جمنی تہذیب کو ہزاروں سلام پیش کرنا ہوںگے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ یہ سوال کریں کہ بھاجپا کو آٹھ سیٹ حاصل ہو گئیں اور اسکا ووٹروں کی شرحِ تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے یعنی ۶ آشاریہ ۲ فی صد ووٹ بڑھا ہے اور اسبار اسے ۳۸ آشاریہ ۵ فی صدووٹ ملا ہے ۔
لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ بھاجپا کے ۲۴۰ اراکینِ پارلیامینٹ، گیارہ سابق اور موجودہ وزیر اعلیٰ ، پردھان منتری نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، صدر بھاجپا جے پی نڈّا ، بہت سے کابینی سینیئر و جو نیئر مرکزی وزراء اور اسمبلی انتخابات کے امیدواروں نیز بھاجپا کارکنوں کی لمبی فوج اور ان کے نفرت انگیز بیانوں اور تقریروں کے انبار کے باوجود ، اسکا دلی والوں کوآپس میںلڑانے اورتقسیم کرنے کا سازشی رتھ آٹھ سیٹوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔
دلی انتخابات کے دوران بھاجپا کے نفرت انگیز کارناموں کا مختصر ذکر کرنا مناسب ہوگا جسے دانشوران ملک تفصیل کے ساتھ کتابی شکل دیکر آئندہ نسل کے لئے محفوظ کر سکتے ہیں تاکہ وہ اسکے منفی نتیجوں سے آگاہ ہوتے رہیں۔
فی الحال۔ لطف اندوزہونے کے لئے بھاجپا کے فاضل سیاست دانوں کے اصل ذہن کی ترجمانی کرنے والے چند جملے یہا ں نمونے کے طور پر پیش ہیں۔
پردھان منتری کا شاہین باغ، سیلم پور، جامعہ کا اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں ذکر، انکے لباس سے پہچاننے کا ذکر، ملک کو بد نام کرنے کا الزام اور اسطرح شاہین باغ کو ملک کا ویلین بنا دیا گیا۔ ایک موقع پر پاکستان کا ذکر ، الیکشن کے دوران مندر ٹرسٹ کا اعلان وغیرہ ، وزیر داخلہ کا جملہ کہ EVM کا بٹن اتنی زور سے دبائوکہ جھٹکا شاہین باغ والوں کو لگے وغیرہ ، مرکزی وزیر انو راگ ٹھا کر کا نعرہ کہ ملک کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ۔ (حقیقتاً ، تین بار شاہین باغ اور جامعہ کے مظاہرین پر گولی داغی بھی گئی)، بھاجپا امیدوار پرویش ورما کا اکثریت کو خوف زدہ کرنے والابیان کہ شاہین باغ والے آپکے گھروں میں گھس کر عورتوں کا ریپ کرینگے وغیرہ ( گویا شاہین باغ نہ ہوا کوئی دوسرا ملک ہوا ) اس طرح دلی کو دہشت گردوں کا اڈہ بتانے کا یہ کھیل کھیلا گیا ۔ آدتیہ ناتھ جی، جو یو گی بھی ہیں، حسب عادت ، انہوں نے آگ کا گولہ داغہ کہ کیجریوال سرکار انکو (شاہین باغ والوں کو ) بریانی کھلا رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔
بھاجپا کے ایک صاحب نے تو اروند کیجریوال کو آتنکوادی تک کہہ دیا۔جب اس پر اعتراض ہوا تو ایک مرکزی سینیئر کابینی وزیر نے مختلف جواز پیش کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر ، انہوں نے بھی کیجریوال کو دہشتگرد قرار دے ہی دیا ۔ مزید برآں، کیجریوال کو آتنک وادی کہنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
بھاجپا کے عقیدت مندوں نے ایک بھارتیہ ہندو کو دہشت گرد کہا ہے اور کہہ رہے ہیں جبکہ اسکے بر عکس، بھاجپا خود ہمیشہ یہ شور مچاتی رہتی ہے کہ کانگریس اپنے دور حکومت میں ہندوئوں کو آتنکواد کے نام پر بد نام او اپمانت کر تی رہی ہے۔ اب یہ کام خود بھاجپا کر رہی ہے ۔بہت خوب!
کسی بھگت نے ووٹر وں سے کہا کہ تم مفت بجلی اور پانی کے لئے اپنا دھرم چھوڑ دوگے؟ گویا کہ عاپ پارٹی مسلم لیگ ہے اور اروند کیجریوال مسلم ہیں ۔ ایک موقع پر کیجریوال کو اپنے آپکو ہندو ثابت کرنے کے لئے ہنومان چالیسہ منھ زبانی سنانا پڑا ۔ اس طرح ہندو خطرے میں ہے کی گھنائونی سیاسی چال بازی کا تماشہ کیا گیا ۔ دراصل، بھاجپا کے زیادہ تر پیروکار، بھاجپا کی ہر بات کو آنکھ بندکر کے ، سر خم کرکے تسلیم کرنے والوں کو اصلی ہندو سمجھتے ہیں۔باقی ہندوستانی ملک کے غدار ہیں!
اسکے علاوہ مودی۔ شاہ نے ۴۹ سیٹوں کے لئے کمپین کیا لیکن کامیابی ملی صرف پانچ سیٹوں پر۔ جن چھ نشتوں پر فوکس کرتے ہوئے مرکزی وزیر انوراگ ٹھا کر نے لوگوں سے گولی مارو کے نعرے لگوائے تھے ، وہ سبھی سیٹیں بھاجپا ہار گئی ۔ بھاجپا کا دعویٰ تھا کہ دلی میں اسکے باسٹھ لاکھ اٹھائس ہزار ممبر ہیں جبکہ بھاجپا کو ووٹ ملے پیتیس لاکھ چھ ہزار یعنی بھاجپا نے نام نہاد راشٹرواد ، دھرم ، پاکستان،مسلمان، اصلی ہندو،نقلی ہندو،شاہین باغ، جامعہ ، سیلم پور، مغل راج آجائے گا اورہندو ۔مسلم کارڈ کا جم کر استعمال کیا۔ انتخاب جیتنے لے لئے بھاجپا نے سارے ہتھکنڈے بڑی بے شرمی سے آزمائے ۔پوری سیاسی طاقت، دولت، مین پاور جھونک دی۔لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود، اپنے دعوے کے مطابق، بھاجپا ۴۵ سیٹوں کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی۔ وہ صرف آٹھ نشتوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔جبکہ عاپ کو باسٹھ نشتوں پر کامرانی حاصل ہوئی۔
یہ ایک طرح سے دلی والوں کا بھاجپا کی نفرت آمیز اور ملک کے لئے مضر سیاست کو محبت بھرا جمہوری طمانچہ ہے ۔زور کا جھٹکا لیکن خاموشی سے !
ذرا غور فرمائیں کی اوکھلا سیٹ ، جس مین شاہین باغ ، جامعہ کے علاوہ دیگر غیر مسلم علاقے بھی شامل ہیں، وہاں ایک مسلم امیدوار ، امانت اللہ کو لگ بھگ ۷۲ ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی ملی۔ واضح رہے کہ کہ امانت کو ۸۲ فی صد ووٹ ملے ہیں جبکہ یہاں مسلم کل چالیس فی صد ہیں۔ ظاہر ہے کہ باقی بیالیس فی صد ووٹ غیر مسلموں نے دئے ہیں ۔ اسی طرح، جن دس سیٹوں پر سی اے اے کے خلاف سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے ہوئے ، وہ سبھی نشتیں عاپ نے جیتیں۔ عاپ کے سبھی پانچ مسلم امیدواروںنے بھی کامیابی حاصل کی۔
یہاں یہ وضاحت کرنا لازمی ہے کہ اسمبلی سیٹ کے لئے ، حلقہ کی حدبندی مذہب یا فرقوں کے حساب سے نہیں کی جاتی ہے بلکہ آبادی کے حساب سے ہوتی ہے ۔ان علاقوں مین صرف مسلم نہیں رہتے ہیں، غیر مسلم بھی رہتے ہیں۔
ان حقائق کے پیش نظر ، ہم اعتماد سے کہ سکتے ہیں کہ دلی کی گنگا جمنی تہذیب کی جڑیں ابھی بھی مظبوط ہیں۔ لہٰذیٰ دلی والوں کی آپسی میل جول ، باہمی محبت، قومی ، سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کو ہم سب کی جانب سے دل کی گہر ائیوںسے ہزاروں پر خلوص سلام نیز بھاجپا کی نفرت انگیزی کو شکست ِفاش اور دل وجان سے زیادہ عزیز ہمارے پیارے ہندوستان اور ہندوستان کے دل ، دلی کی محبت بھری فتح و کامرانی ، ہم سب دلی والوں اور سبھی اہل وطن کو مبارک ہو !
rais.siddiqui.ibs @ gmail.com

RAIS SIDDIQUi

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here