دیش سیوا پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہندوستان میں انتخابی اخراجات کو کم کرنا ہے

0
68
دیش سیوا پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہندوستان میں انتخابی اخراجات کو کم کرنا ہے
دیش سیوا پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہندوستان میں انتخابی اخراجات کو کم کرنا ہے

 

دیش سیوا پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہندوستان میں انتخابی اخراجات کو کم کرنا ہے- اقبال امروہی

بھارت میں انتخابات دن بدن مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات تو بہت دور کی بات ہے اب تو ایک عام آدمی کے ليے گرام پنچایت کا چنائو لڑنا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔

اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کا سماج دو حصوں میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔ سماج کا ایک حصہ وہ ہے جو الیکشن لڑ سکتا ہے اور ایک حصہ وہ ہے جو الیکشن نہیں لڑ سکتا اور اس کا کام صرف ووٹ ڈالنا رہ گیا ہے۔

سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کی ایک رپورٹ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں انتخابات کتنے مہنگے ہوچکے ہیں۔

سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز  فنکاروں ، ماہرین تعلیم ، محققین ، طلباء اور اسکالرز کا ایک گروپ ہے جو تدریس ، میڈیا ، فلم ، ٹیلی ویژن اور آرٹس کے شعبوں میں سرگرم ہے۔ اس کا کام مختلف مسايل کا مطالعہ ، ورکشاپس کا انعقاد اور کانفرنسوں کا اہتمام کرنا ہے۔ ڈاکٹر پی این واسنتی اس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

اس انسٹی ٹیوٹ نے سال ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ، انتخابات کے اخراجات بارے ایک رپورٹ تی٘ار کی۔ یہ رپورٹ انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہے۔ ہر شخص کو اس رپورٹ کو پڑھنا چاہئے۔

اس رپورٹ کا پیش لفظ ہندوستان کے سابق چیف الیکشن کمشنر جناب ایس وائی قریشی صاحب نے لکھا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ، ملک کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے پچپن ہزار سے پینسٹھ ہزار کروڑ روپے کے درمیان پیسہ خرچ کیا۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نے اس رقم کا 45 فیصد خرچ کیا۔

بزنس اسٹینڈرڈ اخبار سے بات کرتے ہوئے سی ایم ایس کے چیئرمین، جناب این بھاسکر راؤ نے کہا تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے اخراجات ایک لاکھ کروڑ کو عبور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، “انتخابات کا خرچ ہر طرح کی بدعنوانی کی ماں ہے۔ اگر ہم اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو ہم کبھی بھی ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں ان بڑھتے ہوئے اخراجات کو دیکھ کر خوف زدہ ہونا چاہئے۔ مضبوط جمہوریت کی تشکیل کے لئے اصلاحی اقدامات کرنے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔”

اس کے علاوہ انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم میں بدعنوانی بھی ایک عام بات ہے۔ ہر الیکشن میں ایسی خبریں آتی ہیں کہ پیسے لے کر ٹکٹ دیئے جارہے ہیں۔ اس طرح کے الزامات کسی خاص پارٹی پر ہی عائد نہیں کیے جاتے، بلکہ ہر پارٹی پر اس طرح کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔

سال ۲۰۲۰ میں دہلی کے اسمبلی انتخابات کے وقت ایک پارٹی کے ایک ام ال اے نے ایک ویڈیو جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ان کی پارٹی انھیں دوبارہ ٹکٹ دینے کے لئے ان سے 20 کروڑ روپے مانگ رہی ہے۔ یہ ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے اور اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پارٹی نے اس دعوے کی تردید کر دی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کچھ بھی کہے، حقیقت یہی ہے کہ بہت سی پارٹیاں انتخابات میں پیسے لے کر ٹکٹ دیتی ہیں۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے ممبروں سے ممبرشپ فیس کے نام پر کچھ بھی نہیں لیتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان پارٹیوں کا خرچہ کہاں سے چلتا ہے اور ان کو پیسہ کون دیتا ہے اور کیوں دیتا ہے۔ کوئی بھی شخص چندے کی شکل میں کسی کو کچھ پیسہ دے سکتا ہے، لیکن جب بات کروڑوں اور اربوں روپے کی ہو تو ظاہر ہے کہ دینے والے کو بدلے میں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ انتخابات میں ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرنے والی پارٹیوں سے پوچھا جانا  چاہئے کہ وہ رقم کہاں سے آرہی ہے، کیوں آرہی ہے اور کس شرط پر آرہی ہے۔ آج کل عوام کو بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ملک کے انتخابات میں دولت کی ایک آندھی سی آگئی ہے۔ اگر یہ آندھی اور تیز ہوتی ہے تو ہمارے ملک میں جمہوریت کے درخت کی جڑیں اکھڑ جائیں گی۔

جو لوگ اپنے آپ کو محب وطن کہتے اور سمجھتے ہیں ان کا فرض کہ ہے کہ اس آندھی کا رخ موڑنے کی کوشش کریں۔

دیش سیوا پارٹی اس آندھی کو روکنے کے لئے میدان میں اترچکی ہے۔ اس پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہندوستان میں انتخابی اخراجات کو کم کرنا ہے۔

دیش سیوا پارٹی کے آئین میں کہا گیا ہے کہ چنائوکے دوران اس کے امیدواروں کا انتخاب اس کے ممبران کریں گے۔

ہر پارٹی کی طرح، دیش سیوا پارٹی میں بھی 6 سطحوں پر یونٹ بنائے گئے ہیں۔ اس پارٹی میں قومی سطح پر، ریاستی سطح پر، لوک سبھا، ودھان سبھا، نگر اور پرائمری سطح پر یونٹ تشکیل دیئے جارہے ہیں۔

ہر سطح پر امیدواروں کا انتخاب، پارٹی کی اس سطح کی جنرل اسمبلی کے ممبران کریں گے۔ مثال کے طور پر، اسمبلی کے انتخابات کے دوران، پارٹی کے امیدواروں کا انتخاب، پارٹی کی اسمبلی یونٹ کی جنرل اسمبلی کے ممبروں کے ذریعے کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کے انتخابات میں پارٹی کے امیدواروں کا انتخاب پارٹی کی لوک سبھا یونٹ کی جنرل اسمبلی کے ممبران کریں گے۔

ہر سطح پر یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

ہمارے ملک کے انتخابات میں تین طرح کے اخراجات ہوتے ہیں۔

۔ کسی بھی پارٹی سے ٹکٹ لینے کا خرچہ

۔ چناو لڑنے اور انتخابی مہم چلانے کا خرچہ

۔ پارٹیوں کی ان کی اپنی سرگرمیوں پر ہونے والا خرچ

دیش سیوا پارٹی مذکورہ بالا تینوں قسم کے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہندوستان بھر میں لگ بھگ 4120 ودھان سبھائیں ہیں۔

دیش سیوا پارٹی ملک میں ہر ودھان سبھا میں ایک فیس بک گروپ تشکیل دے رہی ہے۔ صرف اسی پارٹی کے ممبران اس گروپ کے ممبر ہوں گے۔ جب پارٹی کے امیدواروں کے انتخاب کا وقت آئے گا تو اس وقت ایسے ہر گروپ میں چناو ہوگا اور اس چناو میں جو جیتے گا اس کو پارٹی کا امیدوار بنایا جائے گا۔ اس طرح دیش سیوا پارٹی سے ٹکٹ لینے کا خرچ صفر ہو گا۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہمارے ودھان سبھا فیس بک گروپ کے تمام ممبران بھی اس مخصوص ودھان سبھا میں ووٹر ہوں گے۔ لہذا، یہ لوگ یقینی طور پر دیش سیوا پارٹی کے اس امیدوار کو ووٹ دیں گے جس کو انہوں نے خود ٹکٹ دیا ہے۔

فرض کریں کہ کسی ودھان سبھا میں ایک لاکھ ووٹر ہیں۔ اور فرض کریں کہ ہم ان میں سے 75 ہزار ووٹروں کو دیش سیوا پارٹی کا ممبر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ ہماری پارٹی کا امیدوار ہی چناو میں کامیاب ہو گا۔

اس طرح انتخابی مہم کے اخراجات بھی بہت کم ہوجائیں گے۔

دیش سیوا پارٹی اپنے اخراجات کو ممبرشپ کی فیس اور اپنے ممبروں سے ملنے والے عطیات سے پورا کررہی ہے۔ لہذا ، اس پارٹی کو کسی بڑی کمپنی سے یا کسی اور سے مالی مدد لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس طرح ، دیش سیوا پارٹی نے ملک میں انتخابی اخراجات کو کم کرنے کے لئے ایک مفصل پروگرام بنایا ہے۔

دیش سیوا پارٹی نے ملک کے تمام لوگوں کو اپنا ممبر بنانے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ پارٹی ہر اسمبلی کے بیشتر ووٹروں کو اپنا ممبر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر کسی اسمبلی حلقہ کے بیشتر ممبر دیش سیوا پارٹی کے ممبر بن جاتے ہیں تو واضح ہے کہ اس پارٹی کا امیدوار اس علاقے میں آسانی سے الیکشن جیت جائے گا۔

اگر انتخابات میں پارٹی ممبروں کے ذریعہ امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور انتخابی اخراجات کم ہوجاتے ہیں تو، پورے ملک میں ایک بہت بڑا سماجی اور سیاسی انقلاب آجائے گا۔

ایسی صورت میں سماج کے وہ لوگ بھی الیکشن لڑنے کے قابل ہوجائیں گے اور ملک کی پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچ سکیں گے جو ہر لحاظ سے اچھے اور قابل تو ہیں لیکن جن کے پاس پیسہ یا تو بالکل نہیں ہے یا کم ہے۔ اس طرح ملک میں ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر ہوگی۔

 

(اس مضمون کے مصنف دیش سیوا پارٹی کے بانی اور قومی صدر ہیں)

article by desh sewa party

sada today web portal

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here