دہلی وقف بورڈ کے حالات قابل رحم۔آج سے وقف بورڈ کا عملہ ہڑتال پر

0
68
دہلی وقف بورڈ کے حالات قابل رحم۔آج سے وقف بورڈ کا عملہ ہڑتال پر
دہلی وقف بورڈ کے حالات قابل رحم۔آج سے وقف بورڈ کا عملہ ہڑتال پر
دہلی وقف بورڈ کے حالات دگرگوں۔۔۔
آج سے دہلی وقف بورڈ کا عملہ ہڑتال
دہلی وقف بورڈ میں گزشتہ کئی ماہ سے چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے حالات دگر گوں ہوتے جارہے ہیںاور اب نوبت یہاں تک آپہونچی کہ مہینوں سے بنا تنخواہ کے کام کرنے والے بورڈ عملہ کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوگیا ہے ۔گزشتہ 9ماہ سے بنا تنخواہ کے کام کرنے والے وقف بورڈ کے عملہ کی ہمت بھی بورڈ انتظامیہ کی جانب سے دلاسے اور تسلیوں کے بعد اب جواب دے چکی ہے ۔مہنوں سے اپنی تنخواہ کے انتظارمیں بورڈ ملازمین نے آخر میں تھک ہار کر اسٹرائک پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب 5نومبر سے وہ دہلی وقف بورڈ دریا گنج واقع آفس کے باہراپنے مطالبات کی حمایت میں دھرنے پر بیٹھیں گے۔جس سے وقف بورڈکے انتظامی معاملات اور روز مرہ کے کام کاج میںمزید ابتری کا اندیشہ ہے جو چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔تفصیل کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے 150سے زائد اسٹاف کو گزشتہ تقریبا9ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔جبکہ وقف بورڈ کے ماتحت آنے والے کئی سو امام اور موذن بھی کئی ماہ سے بورڈ کی جانب سے دیئے جانے والے اعزازیہ سے محروم ہیں جسکی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کے حالات ہیں۔بہت سارے امام ایسے ہیں جو دور دراز کے علاقوںمیں غیر مسلم آبادی میں آباد مساجد میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم انھیںاپنے لیئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے امام اور موذنوں کی ہے جو اب تک قرض لیکر کسی طرح اپنے گھر میں چولہا جلارہے تھے مگر اب قرض کی ادائگی کے تقاضے بھی ہونے لگے ہیں۔بعض اماموں کا کہنا ہے کہ انہوںنے اپنی زندگی میں دہلی وقف بورڈ کے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے۔وقف بورڈ سے ایک ہزار کے قریب ایسے ضرورتمندوں کی بھی مدد کی جاتی ہے جن کے گھروں میں کوئی کمانے والا نہیں ہے اور وہ بیوائیں،مطلقہ خواتین ،مریض یا معاشرہ کے نادار اور ضرورتمند لوگ ہیں جنھیں وظیفہ کے نام پر وقف بورڈ سے ماہانہ ڈھائی ہزار روپئے دیئے جاتے رہے ہیں مگر اب جبکہ بورڈ خود محتاج ہوگیا ہے ایسے میں اس طبقہ کی بھی مدد نہیں ہوپارہی ہے اور روز بڑی تعداد میں یہ ضرورتمند وقف بورڈ کے دفتر سے خالی ہاتھ اور نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔کئی ضرورتمند تو ایسے ہوتے ہیں جو روروکر اپنادرد سناتے ہیں مگر تکنیکی اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار ہونے کی وجہ سے وقف بورڈ کا عملہ ایسے افراد کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔کل ملاکر تقریبا ڈیڑھ ہزار خاندان ایسے ہیں جن کے گھروں میں نہ صرف فاقہ کشی کی نوبت ہے بلکہ چولہا جلنا دوبھر ہوگیا ہے اوپر سے تنخواہ کی امید پر لیا گیا قرض بھی واپس کرنے کے لالے پڑگئے ہیں اور اب لیئے گئے قرضوں کے تقاضے شروع ہوگئے ہیں۔بورڈ عملہ میں بہت سے ایسے ملازمین ہیں جو کرایہ پر مکان لیکر رہتے ہیں مگر اب کئی کئی ماہ کا کرایہ جمع ہوگیا ہے اور مالک مکان گھر خالی کرنے کا دباو ¿بنارہے ہیں۔غور طلب ہیکہ یہ تمام وہ ملازمین ہیں جنہوں نے سال کے شروع میں دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہونے والے فسادات میں متاثرین کے لیئے دن رات ایک کرکے کام کیا۔کئی کئی دن تک گھر نہیں گئے اور اب کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باوجود روزانہ پابندی سے آفس آرہے ہیں اور کڑوڑوں کی وقف جائداد کی حفاظت کررہے ہیں مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان ملازمین کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ذرائع کے مطابق 20اکتوبر کو تمام ملازمین نے وقف بورڈ کے سی ای اواور تمام بورڈ ممبران کومطالبات پرمشتمل اپنی ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی تھی جسکی ایک کاپی وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بھی بھیجی گئی تھی ۔اس عرض داشت میں انتباہ دیا گیا تھاکہ اگر ان کے مطالبات حل نہ ہوئے تو وہ 28اکتوبر سے اسٹرائک پر چلے جائیں گے تاہم وقف بورڈ کے ممبران کے ایک وفد نے ایک ہفتہ کی مہلت مانگتے ہوئے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی تھی اور اسٹرائک پر نہ جانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد ملازمین کی جانب سے اسٹرائک کو مو ¿خر کردیا گیا تھا مگر بورڈ ممبران کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی جھوٹی ثابت ہوئی اور ملازمین کی تنخواہوں کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکلاجس کے بعد ملازمین نے 5نومبر یعنی آج سے غیر معینہ مدت کے لیئے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here