دہلی وقف بورڈ میں ایس او محفوظ محمد کی من مانی سے ملازمین پریشان

0
62
دہلی وقف بورڈ میں ایس او محفوظ محمد کی من مانی سے ملازمین پریشان
دہلی وقف بورڈ میں ایس او محفوظ محمد کی من مانی سے ملازمین پریشان

دہلی وقف بورڈ ایک ایسا ادارہ ہے جس نے دہلی کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کام کیا ہے اس وقت وہاں کوئی چئیر میں نہین ہے اور اسی لئے دہلی وقف  ملازمین من مانی کر رہے ہین بورڈ کے ۔دہلی وقف بورڈ کے چئیر مین اما نت اللہ خاں تھے جن کی وجہ سے دہلی وقف بورڈ میں بہت کام ہوا
ھندوستان میں اوقاف کی صورتحال اظہر من الشمش ھے، قوم کا یہ ادارہ جس کی کوئی منزل ھے نہ مقصود لیکن جس دن سے دہلی وقف بورڈ کے چیرمین کی کرسی اوکھلا کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان نے سنبھالی تو ایک بے جان ادارہ میں روح واپس آگئی ملک اور بیرون ممالک میں امانت اللہ خان اور دہلی وقف بورڈ کاچرچہ ھونے لگا لیکن دوسروں سے زیادہ اپنوں کی نظر لگ گئی، آل انًڈیاندوہ اولڈ بوائزکے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سعد رشید ندوی نے پریس ریلیز کے ذریعہ ان خیالات کا اظہار کیا۔ ساتھ ھی دہلی کے وزیر اعلی اور لفٹننٹ گورنر سے مطالبہ کیا کہ فوری طورپہ امانت اللہ خان کو دوبارہ بحال کیاجائے تاکہ بورڈ میں ھورھی طوفان بدتمیزی کو روکا جاسکے،انہوں نے آگے کہا کہ محفوظ محمد نے ضابطوں اور اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے چھوٹے سے دور ملازمت میں کئی کئی پرموشن لے لئے ہیں جس کے نتیجہ میں ایک کمپوٹر آپریٹر آج سیکشن آفیسر بنابیٹھا ھے جو بورڈ کے ملازمین ،ائمہ،موذنین سبھی کو پریشان کئے ہوئے ہے۔
ندوہ اولڈ بوائز کے دیگر ذمہ داروں نے کہا کہ سینئر کے رھتے ھوئے آخر ایک جونئیرسیکشن آفیسر کیسے بن گیا اس کی تحقیق ھونی چاھئے۔انہوں نے مزید کہاکہ آج پوری پرانی دہلی علاقہ میں دہلی وقف بورڈ میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف بڑے بڑے پوسٹر چسپاں ہیں جن میں سیکشن آفیسر محفوظ محمد کا نام سر فہرست ہے ،محفوظ محمد پر مبینہ 100کروڑ کی بدعنوانی کا الزام ہے جسکی سی بی آئی میں انکوائری چل رہی ہے اور حال ہی میں سابق سی ای او نے محفوظ محمد کی بدعنوانی و من مانیوں کو دیکھتے ہوئے انھیں ملازمت سے معطل بھی کردیا تھا مگر انہوں نے اپنی چالاکی و چاپلوسی کی وجہ سے سی ای او کا ہی تبادلہ کرادیا اوراب بورڈ میں چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ محمد کی من مانیوں میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ مزید برآں محفوظ محمد کی چالاکی کی وجہ سے ہی کچھ ملازمین کو چھوڑ کر بورڈ کے 100سے زائدملازمین کو فروری سے تنخواہ جاری نہیں کی گئی ہے۔ آخر اس کاذمہ دار کون ھے۔؟
جنرل سکریٹری نے محفوظ محمد کی منمانی کاتذکرہ کرتے ھوئے کہاکہ اس مہاماری کے وقت میں حکومت اور عدالت نے کسی بھی ملازمین کے ٹرانسفر پر روک لگارکھی ھے جبکہ دھلی وقف بورڈ کے چار موذنین کا ٹرانسفر بغیر کسی وجہ کے ایس او کے ذریعہ کیا گیا ھے جسکی وجہ سے مساجد کے خدام اکثر پریشان ھوتے رھتے ھیں، سعد رشید ندوی نے یہ بھی کہا کہ آخر ایک سیکشن آفیسر اپنی مرضی سے کیسے کسی کا ٹرانسفر کرسکتا ھے جبکہ بورڈ میں چیرمین بھی نہیں ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں وقف ایکٹ کے مطابق بورڈ کاسارا کام چیف ایگزیکیٹیوافسر دیکھتے ھیں۔ڈاکٹر سعد رشید نے کہاکہ محفوظ محمد کی وجہ سے ہی فصیل بند شہر میں بڑے بڑے پوسٹر چسپاں کیئے گئے ہیں جس سے وقف بورڈ کی اس ساکھ کو جسے بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے بڑی محنت اور لگن سے بنایا تھابہت نقصان پہونچاہے۔
انہوں نے آگے کہا کہ لوگوں کو یہ بات بھی معلوم ھونی چاھئے کہ کئی ایسے ائمہ اور موذنین بھی ھیں جنکی تنخواہ سالوں سے بند کر رکھی ھے اور وہ بیچارے بغیر وظیفہ کے خدمت انجام دے رھے ھیں افسوس ایک فلاحی ادارہ اپنے امام و موذن کی تنخواہ بند کئے ھوئے ھے اور کوئی اس ظلم کے خلاف بولنے کوتیار نہیں ہے اور بورڈکا حال یہ ہے کہ محفوظ محمد جیسے افسران کی سفارش اور منمانی کی وجہ سے آپ جہاں چاھیں جس جگہ چاھیں وھاں کی کمیٹی بناکر صدر یاسکریٹری کاعہدہ حاصل کرسکتے ھیں اسلئے آل انڈیا ندوہ اولڈ بوائز پرزور مطالبہ کرتا ھے کہ حکومت فوری طورپہ جانچ کر کے ادارہ کے ملازمین کے ساتھ ھونے والی زیادتیوں پہ قدغن لگاکر ایسے تمام بدعنوان ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کرے

سعد راشد

Article by saad Rashid on Delhi Waqf board

SADA TODAY WEB PORTAL

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here