پولیس کی گولی سے شہید ہوئے لوگوں کے لواحقین کودہلی وقف بورڈدے گا مدد

0
45
میرٹھ سے آئے وفد نے پولیس کے ظلم کی سنائی داستان،چیئرمین دہلی وقف بورڈ نے تعاون کے لئے مانگی تفصیل،اللہ پر بھروسہ رکھیں اور حوصلہ نہ ہاریں:امانت اللہ خان
)گزشتہ دنوں دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اعلان کیا تھا کہحالیہ دنوں میں ملک کے جو حالات ہیں اس میں جومعصوم اور بے گناہ پولیس کی گولی سے مارے گئے ہیں دہلی وقف بورڈ ان کے خاندان کو اقتصادی مدد کے طور پرپانچ پانچ لاکھ روپئے دے گا۔آج بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان نے اپنے وعدہ  کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں پہل کرتے ہوئے میرٹھ سے آئے وفد سے ملاقات کی اور میرٹھ میں مظاہرہ کے دوران پولیس تشدد اور بے گناہ و معصومین پر بر بریت کی آنکھوں دیکھی داستان سنی۔وفد نے مرنے والوں کی تفصیل اور پولیس کے ظلم سے امانت اللہ خان کو واقف کرایااور ان کی جرائت اور مقتولین کو اقتصادی مدد دینے کا اعلان کرنے کے ان کے قدم کی ستائش کی۔چیئرمین دہلی وقف بورڈ نے کہا کہ مظلوموں کی دادرسی کرنا اور کمزوروں کی مدد کے لئے آگے آنا وقت کی ضرورت ہے اور دہلی وقف بورڈ کے مقاصد میں شامل ہے۔امانت اللہ خان نے مقتولین کے خاندان کی بورڈ کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ کی اقتصادی مدد کے لئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل اور دیگر ضروری کاغذات مہیا کرانے کے لئے کہا جس کے بعد بورڈ کی جانب سے مقتولین کے لواحقین کو اقتصادی مدد کا چیک جاری کیا جائے گا۔ میرٹھ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ میں پولیس کی گولی سے مرنے والوں کی رودادبتاتے ہوئے میرٹھ سے آئے ہوئے وفد کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔سماجی کارکنان پر مشتمل تقریبا 20لوگوں کے وفد نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کو بتایا کہ مظاہرہ کے دوران پولیس نے سیدھے گولی چلائی اور جو لوگ گولی سے مارے گئے ہیں ان کے سینے،گردن یا پھر سر میں گولی لگی۔وفد کے مطابق پولیس کی گولی سے 5نوجوانوں کی موقع پرہی موت ہوگئی جبکہ ایک کو زخمی حالت میں دہلی اسپتال میں بھرتی کرایا گیا جہاں اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔میرٹھ سے سماجی کارکنان پر مشتمل وفد نے میرٹھ میں مظاہرین اور معصوموں پر پولیس تشدد اور ظلم کی جو داستان سنائی ہے وہ روح فرسا ہے۔وفد کا کہنا ہے کہ پولیس نے اوپر سے ملے آرڈر کے مطابق بلا اشتعال لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین پر سیدھے گولی چلائی جس سے 6نوجوان مارے گئے اوردرجنوں زخمی حالت میں ہیں۔وفد کے مطابق ڈر اور خوف کی وجہ سے زخمیوں کی صحیح تفصیل سامنے نہیں آرہی ہے اور لوگ اپنا علاج بھی چھپ چھپاکر کرارہے ہیں کیونکہ پولیس اسپتالوں میں بھی چھاپے مار رہی ہے اور جو زخمی ہیں ان کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔وفدنے بتایا کہ کئی درجن لوگوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اور بہت سارے لوگوں پر مقدمات قائم کئے جارہے ہیں جس سے لوگوں میں مزید دہشت پیدا ہوگئی ہے۔وفد کے مطابق پولیس کی گولی سے میرٹھ میں جن نوجوانوں کی موت ہوئی ہے ان کے نام اس طرح ہیں (1)آصف ولد عید الحسن،عمر 20سال(2)محسن ولد احسان عمر 30سال(3)ظہیر ولد منشی عمر 45سال(4)آصف ولد سعید عمر 35سال(5)علیم ولد حبیب عمر 23سال (6)سالم ولد سلیم۔وفد کے مطابق یہ سب لوگ میرٹھ کے بھومیا کے پل اور اسلام آباد ہاپوڑ روڈ کے رہنے والے ہیں۔وفد نے بتایا کہ انھیں اخبارات کے ذریعہ علم ہوا کہ دہلی وقف بورڈکے چیئرمین امانت اللہ خان نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران پولیس کی گولی سے مارے گئے لوگوں کے خاندان کی اقتصادی مددکرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جو لوگ مارے گئے ہیں وہ غریب ہیں اور اقتصادی اعتبار سے بہت کمزور ہیں اور اپنے گھر کی دیکھ بھال اور کفالت کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر تھی جس کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو مدد کی سخت ضرورت تھی۔ وفد نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی ہمت کو سلام اور مظلوموں  کی مدد کے لئے ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہاللہ اس کے لئے انھیں بہتر اجر سے نوازے گا۔امانت اللہ خان سے ملاقات کرنے والے وفد میں ایڈوکیٹ محمد اسلام،عبد القادر ملک،محمد جاوید،خورشید ملک،عارف ملک و دیگر شامل تھے۔جعفرابادسے عام آدمی پارٹی کے کونسلر عبد الرحمن کی معرفت اس وفد نے چیئرمین امانت اللہ خان سے ملاقات کی اور جلد سے جلد مقتولین کی دیگر ضروری تفصیل مہیاکرانے کی بات کہی۔

جامعہ کے طالب علم کوعلاج کے لئے دیاتعا 25ہزار کا چیک اور 5ہزار نقد،بی ایڈ کے طالب علم کے پولیس تشددمیں دونوں ہاتھ فریکچر ہوگئے تھ

)دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے جامعہ ملیہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران طلبہ پر پولیس کے ذریعہ کئے گئے تشددمیں بی ایڈ فائنل ائر کے طالب علم تنزیل احمد کی علاج کے لئے مدد کی ہے۔امانت اللہ خان نے پولیس تشدد میں کافی زخمی طالب علم کو 25ہزار کا چیک اور 5ہزار نقد دیتے ہوئے اسے تسلی دی اور حوصلہ کے ساتھ تعلیمی سفر جاری رکھنے کی ہدایت کی۔تنزیل احمد نے چیئرمین صاحب کو اپنی روداد بتاتے ہوئے کہاکہ وہ تو مظاہر میں بھی شریک نہیں تھا بلکہ ڈینٹل ڈپارٹمنٹ کے باہر گارڈ روم میں بیٹھا ہواتھاتبھی پولیس وہاں گھس آئی اور اس پر اندھادھند لاٹھی برسانی شروع کردی۔طالب علم کے مطابق اس نے پولیس سے نہ مارنے کی درخواست بھی کی مگر پولیس نے اسے آتنکوادی بتاتے ہوئے اور زیادہ پیٹاجس سے اس کے پورے جسم پر پولیس تشدد کے نشانات ہیں اور اس کے دونوں ہاتھوں میں فریکچر ہوگیا ہے اور ڈاکٹروں نے پلاسٹر چڑھادیا ہے۔تنزیل احمد نے بتایا کہ امانت اللہ خان نے اسے اپولو اسپتال میں علاج کے لئے بھرتی کرایا تھااور علاج کرانے کے لئے اسکا تعاون کرنے کا وعدہ کیا تھا۔تنزیل نے بتایا کہ جب تک علاج مکمل نہ ہوجائے آگے بھی امانت اللہ خان نے اس کا تعاون کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے لئے وہ بورڈ چیئرمین کا شکر گزار ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here