Home زبان و ادب ارد و ادب دہلی فساد معاملہ۔ پولیس ایف آئی آر مہیا کرانے میں آنا کانی...

دہلی فساد معاملہ۔ پولیس ایف آئی آر مہیا کرانے میں آنا کانی کر رہی ہے

0
61
دہلی فساد معاملہ۔ پولیس ایف آئی آر مہیا کرانے میں آنا کانی کر رہی ہے
دہلی فساد معاملہ۔ پولیس ایف آئی آر مہیا کرانے میں آنا کانی کر رہی ہے

دہلی فساد معاملے میں پیش رفت،تمام کیسوں کا مطالعہ کرکے تمام متاثرین تک معاوضہ کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے:دہلی فساد کےریجکٹ ہوئے کیسوں کا سروے کرنے کی ذمہ داری دہلی وقف بورڈ کو دی گئی،دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی میٹنگ میں چیئرمین امانت اللہ خان کی افسران کو ہدایت،اگلی میٹنگ 16ستمبر کو

دہلی میں سال کے شروع میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں متاثرین کو حکومت کی جانب سے معاوضہ ملنے کے سلسلہ میں آج دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی میٹنگ منعقد کی گئی۔آج ہونے والی میٹنگ میں شمال مشرقی دہلی کے تینوں ایس ڈی ایم،شاہدرہ کے ایس ڈی ایم،شاہدرہ اور نارتھ ایسٹ کے ضلع مجسٹریٹ،پرنسپل ہوم سکریٹری و دیگر متعلقہ افسران کو طلب کیا گیا تھاجن سے کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان و دیگر ممبران نے فساد متاثرین کو مہیا کرائے گئے معاوضہ کے بارے میں سوالات کئے اور متاثرین کو حکومت کی جانب سے اب تک جو معاوضہ دیا گیا ہے اس کی معلومات دریافت کی گئی۔اقلیتی فلاحی کمیٹی کی آج ہونے والی میٹنگ میں چیئرمین امانت اللہ خان کے علاوہ مصطفی آباد سے رکن اسمبلی حاجی یونس،سیلم پور سے رکن اسمبلی عبد الرحمن،تغلق آباد سے رکن اسمبلی سہی رام پہلوان،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان،دہلی وقف بورڈ کے سی ای اوتنویر احمد،وقف بورڈ کے چیف لیگل آفیسر قسیم احمد،سیکشن آفیسر محفوظ محمد کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی۔میٹینگ کے دوران چیئرمین امانت اللہ خان و دیگر ممبران نے متعلقہ افسران سے فساد متاثرین کو دیئے گئے معاوضہ اور پینڈینگ کیسوں کے بارے میں تفصیل سے معلومات دریافت کی۔افسران کے ذریعہ دی گئی معلومات کے مطابق معاوضہ سے متعلق اس وقت کوئی بھی کیس پینڈنگ نہیں ہے۔افسران نے بتایا کہ جن کا سروے کرالیا گیا تھا اور جن کا معاوضہ پینڈنگ تھا ان سب کو معاوضہ دیدیا گیا ہے۔اس دوران چیئرمین امانت اللہ خان و دیگر ممبران نے افسران کی توجہ ایسے بہت سے کیسوں کی طرف دلائی جن کا نقصان لاکھوں میں ہوا ہے اور انھیں بہت کم معاوضہ ملا ہے،مثلا محمد مجاہد جس کی پوری فیکٹری جلادی گئی جس میں 35لاکھ کے قریب نقصان ہوا اور اسے صرف 35/40ہزار معاوضہ ملا اسی طرح چاند محمد،سونی،مختار احمد،رضوان،شاہد احمد دھرم کانٹا ایسے بہت سارے نام کمیٹی ممبر ان کی جانب سے افسران کے سامنے رکھے گئے جنھیں بہت کم معاوضہ دیا گیا ہے۔چیئرمین امانت اللہ خان نے افسران سے جاننا چاہا کہ ایسا کیسے ہوا ہے کہ نقصان لاکھوں میں ہے اور معاوضہ چند ہزار میں۔اس کے جواب میں افسران نے پلہ جھاڑتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی افسران کی سروے ٹیم پر ذمہ داری ڈال دی۔کمیٹی نے افسران کو ایسے تمام کیسوں کی لسٹ دوبارہ تیار کرنے اور اس میں مانگے گئے اور اور دئے گئے معاوضہ کے کالم الگ کرکے لسٹ تیار کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد کام کی تقسیم کرکے ایسے تمام متاثرین کا دوبارہ سروے کرایا جائے گا اور صحیح اور مصدقہ جانکاری فراہم ہونے کے بعد ان کے معاوضہ پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے متاثرین کی بھی ہے جن کے معاوضہ کی درخواست کو رجیکٹ کردیا گیا ہے۔چیئرمین امانت اللہ خان نے رجیکٹ کئے گئے متاثرین کا سروے اور ویری فکیشن کرانے کی ذمہ داری دہلی وقف بورڈ کے سی ای او کو دیتے ہوئے کہاکہ آپ سروے کراکر حقیقت کا پتہ لگائیں کہ ایسے متاثرین کا کیا واقعی نقصان ہوا ہے اور ایسی کیا وجہ ہے کہ ان کی درخواست کو رجکٹ کردیا گیا۔امانت اللہ خان نے ایسے متاثرین کی بھی تصدیق کرانے کی ہدایت دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کو دی جنھیں معاوضہ مل چکا ہے مگر ان کی شکایات باقی ہیں تاکہ حقیقی صورت حال کا اندازہ ہوجائے۔میٹنگ کے دوران افسران نے ایسے 15کیسوں کے بارے میں جانکاری دی جنکی ایف آئی آر پولیس نے درج نہیں کی۔چیئرمین امانت اللہ خان نے پرنسپل سیکریٹری ہوم کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ آپ ان کیسوں کی ایف آئی آر کو یقینی بنائیں ساتھ ہی سیلم پور سے رکن اسمبلی اور کمیٹی کے ممبر عبد الرحمن کو ایسے تمام متاثرین سے ملاقات کرنے اور صحیح معلومات مہیا کرانے کی ہدایت دی۔میٹنگ کے دوران مصطفی آباد سے رکن اسمبلی حاجی یونس نے ایسے کئی کیسوں کی طرف بھی اشارہ کیا جن میں معاوضہ جاری ہونے کی بات کہی گئی ہے مگر حقیقی متاثر کو معاوضہ نہیں ملا ہے،حاجی یونس نے سمیر فیصل نامی شخص کے کیس کو بطور مثال پیش کیا۔اس کے علاوہ ایسے کیسوں کی بھی نشاندہی کمیٹی ممبران نے کی جن میں نقصان کافی ہے مگر معاوضہ زیرو ہے۔اسی طرح کئی متاثرین ایسے ہیں جن کے کافی چوٹیں ہیں مگر انھیں معاوضہ نہیں ملا ہے ایسا ہی ایک کیس سلمان کا جس گولی لگی ہے اور ابھی تک گولی اندر ہی ہے مگر معاوضہ زیرو ہے۔کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کام کر رہی ہے اور کام کرنا چاہتی ہے اور حکومت کا مقصد ہے کہ جو بھی متاثرین ہیں ان تک معاوضہ پہونچے،انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم متاثرین تک پہونچیں اگر متاثرین ہم تک نہیں پہونچ پارہے ہیں اس لئے پہلے سروے کی بنیاد پر جو کمیاں یا خامیاں رہ گئی ہیں انھیں دور کرلیا جائے اور تمام کیسوں کی دوبارہ اسٹڈی کرکے سب متاثرین تک ان کا جائز حق پہونچانے کی کوشش کی جائے۔غور طلب ہے کہ دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے گزشتہ میٹنگ میں افسران سے دہلی فسادات سے متعلق تمام ایف آئی آر مہیا کرانے کے لئے کہاتھا مگر پولیس نے ابھی تک کمیٹی کو ایف آئی آر مہیا نہیں کرائی ہیں۔چییرمین امانت اللہ خان نے کہاکہ ہم نے پرنسپل سیکریٹری ہوم کے توسط سے ایف آئی آر طلب کی ہیں اگر پولیس ایف آئی آر نہ دیکر کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے تو ہم تمام ایف آئی آر کسی اور توسط سے حاصل کریں گے اور متاثرین تک انصاف کی رسائی کو یقینی بنائیں گے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔امانت اللہ خان نے واضح طور پر کہاکہ جو متاثرین ہیں انھیں انصاف ملنا چاہیئے اور جو مجرم ہیں انھیں سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیئے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

بوکس:دہلی اسمبلی کی اقلیتی کمیٹی کی میٹنگ کے دوران آج اس موقع پر افسران کے چہرے پر ہوائیاں دیکھی گئیں جب چیئرمین امانت اللہ خان نے افسران سے فساد کے دوران کردم پوری میں پیش آئے پولیس کے ذریعہ پانچ نوجوانوں پر تشدد کرنے اور ان سے زبردستی نعرے لگوانے کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ااس افسوسناک واقعہ میں فیضان نامی ایک نوجوان کی موت واقع ہوگئی تھی۔میٹنگ کے دوران امانت اللہ خان نے سوال کیا کہ ان پولیس افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی مگر سب اس وقت حیرت میں پڑ گئے جب افسران نے ایسے کسی واقعہ سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔جب انھیں یہ بتایا گیا کہ اس کے عینی شواہد اور ویڈیو موجود ہے جسے پوری دنیا نے دیکھا تو افسران نے وہ ویڈیو دینے کے لئے کہا۔امانت اللہ خان نے کہاکہ وہ ویڈیو آپ کو مہیا کرادیا جائے گا تاہم آپ اگلی میٹنگ میں یہ بتایں کہ ایسے پولیس افسران کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں کیا گیا یا کیا کارروائی کی گئی؟

Article BY Delhi waqf board on meeting of delhi riot
sada today web portal

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here