ہاتھرس اجتماعی عصمت دری کی معصوم دلت لڑکی موت کی نیند سوگئ۔

0
72
ہاتھرس اجتماعی عصمت دری کی معصوم دلت لڑکی موت کی نیند سوگئ۔
ہاتھرس اجتماعی عصمت دری کی معصوم دلت لڑکی موت کی نیند سوگئ۔
ہاتھرس اجتماعی عصمت دری معاملہ اس وقت پوری دنیا میں مشہور ہورہا ہے۔اس واقعے نے درندگی کی تمام مثالیں توڈ دی ہیں۔ہاتھرس اجتماعی عصمت دری واقعے کی ایس ڈی پی آئی نے شدید مذمت کی ہے۔ اس سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ اتر پردیش میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی، عصمت ریزی اور مظالم کے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ ریاست اتر پردیش یوگی حکومت میں خواتین کیلئے جہنم بن گیا ہے۔جہاں ہر دو گھنٹے میں عصمت دری کا معاملہ درج کیا جاتا ہے جس سے یوپی بھارت کا جرائم کا دارلحکومت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ دہلی کے ایک اسپتال میں 19سالہ دلت بچی کی موت جو یوپی کی ہاتھرس میں اجتماعی عصمت ریزی کی شکار ہوئی تھی۔اس بچی کو بے دردی سے نوچا گیا ہے اور اس کی زبان کاٹ دی گئی ہے اور اس کی ریڑ ھ کی ہڈی شدید زخمی ہوگئی ہے۔دو ہفتے زندگی کی جدوجہد کرنے کے بعد وہ زخمیوں کی تاب نہ لاسکی اور فوت ہوگئی ہے۔ اس بچی کی افسوسناک موت کے 24گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی یوپی کے ہیر پورمیں ایک پولیس افسر کی دلت خاتون کی رانوں پر اپنے جوتے رکھتے ہوئے ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ اتر پردیش سے انسانیت فرار ہوگئی ہے اور بھگوا پہنے ہوئے غیر انسانی راہب کی حکمرانی کے تحت ظلم وبربریت ریاست کی پہچان بن چکی ہے۔ وہ نہ صرف ریاست اور ملک بلکہ سناتن دھرم پر بھی ایک داغ بن گیا ہے۔ ایک ایسے متعصب انسان سے انسانیت کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے جس نے مسلمان عورتوں کی لاشوں کی عصمت دری کرنے کیلئے کہا تھا۔ جنگل راج کی اصطلاح اتر پردیش کیلئے بالکل درست لگتی ہے۔ ریاست میں کوئی اخلاقیات اور جمہوری اقدار یا انسانیت کا احترام نہیں ہے۔یہاں گائے کو انسان سے زیادہ ترجیح ملتی ہے۔ اترپردیش میں عصمت ریزی کرنے والوں اور بدتمیزی کرنے والوں کا راج ہے۔ زخم پر مرچی لگانے کیلئے ‘سورنا پریشد ‘کے نام سے ہاتھرس میں معصوم لڑکی کی عصمت ریزی کرنے والوں کی حمایت میں ایک ٹیم سامنے آئی ہے۔ اتر پردیش میں عصمت ریزی کرنے والوں اور مجرموں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یوگی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان مجرموں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ اس اندوہناک واقعہ کا سب سے افسوسناک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ملک کے نام نہاد اجتماعی شعور رکھنے والوں کی طرف سے کوئی غم غصہ نہیں دکھائی دیا ہے جو نربھیا کے انصاف کیلئے سڑکوں پر تھے اور جسے ہاتھرس کی لڑکی ہی کی طرح قتل کیا گیا تھا۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے کہاہے کہ یہ انتہائی شرمناک اور پریشان کن بات ہے کہ عصمت ریزی اور چھیڑ چھاڑ کے شکار افراد کے ساتھ بھی ان کی حیثیت اور ذات پات کی بنیاد پر سلوک کیا جاتا ہے
(ایس ڈی پی آئی) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here