ایمرجنسی کی طرف تیزی سے بڑھتےقدم۔ میڈیا ہوگیا بے شرم

0
97
ایمرجنسی کی طرف تیزی سے بڑھتےقدم۔ میڈیا ہوگیا بے شرم
ایمرجنسی کی طرف تیزی سے بڑھتےقدم۔ میڈیا ہوگیا بے شرم

ایمرجنسی یعنی ہندوستانی جمہوریت کا ایک سیاہ اور شرمناک باب۔۔۔۔۔ 5؍سال قبل ایمرجنسی کی چار؍دہائیاں مکمل ہونے کے موقع پربی جے پی کے سینئر رہنما اور ملک کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی نے ایمرجنسی کو یاد کرتے ہوئے ملک میں ایک بار پھر ہنگامی صورتحال کی پیش گوئی کی تھی۔ اگرچہ ایڈوانی جی اس سے پہلے بھی متعدد بار ایمرجنسی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے تھے لیکن یہ پہلا موقع تھاجب ان کے خیالات سے ایمرجنسی کی مجرم کانگریس نہیں بلکہ خود ان کی اپنی پارٹی بی جے پی حیران و پریشان بغلیں جھانک رہی تھی۔ وہ بی جے پی جو ایمرجنسی کو یاد کرنے اوراس کی یاد دلانے میں ہمیشہ سب سے آگے رہتی ہے۔
ایڈوانی جی نے ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک کو متنبہ کیا کہ’’ جمہوریت کو کچلنے کی صلاحیت رکھنے والی طاقتیں آج پہلے سے زیادہ طاقت ور ہیں اور پورے اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایمرجنسی جیسے واقعہ کو دوبارہ نہیں دہرایا جاسکتا‘‘۔ایڈوانی جی نے یہ بھی کہا کہ ’’ہندوستان کا سیاسی نظام ابھی بھی ہنگامی صورتحال (ایمرجنسی) کے حادثہ اور اس کے معنی کو پوری طرح سمجھ نہیں سکا ہے اور میں اس امکان کو مسترد نہیں کرسکتا ہوں کہ مستقبل میں بھی ایسی ہی ہنگامی صورتحال پیدا کرکے شہری حقوق کی پامالی ہوسکتی ہے‘‘۔ایڈوانی جی کا یہ بیان اگرچہ پانچ سال پرانا ہے لیکن اس کی مطابقت پانچ سال پہلے سے زیادہ آج محسوس کی جارہی ہے۔ اگر ہم اپنے سیاسی اور آئینی اداروں کی موجودہ شکل اور عمل کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ آج ملک ایمرجنسی سے بھی کہیں زیادہ برے دور سے گزر رہا ہے۔
1975والے ہنگامی حالات تو ہم نے نہیں دیکھے البتہ اس وقت کی صورتحال کو کتابوں میں پڑھا ہے اور بہت سے واقعات اپنے بڑوں سے سنے ہیں۔جس کی وجہ سے ہمیں اس بات کا علم ہے کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی نے آئینی شقوں کا سہارا لے کر ملک پر ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔ لیکن آج ایمرجنسی کے باضابطہ نفاذ کے بغیر ، وہ سب کچھ ترقی اور شدید قوم پرستی کے نام پر ہورہا ہے جو ایمرجنسی کے دوران نظم و ضبط کے نام پر ہوا تھا۔
ایمرجنسی کے دور میں اس وقت کے کانگریس صدر دیوکانت برُوا نے چاپلوسی اور سیاسی بے حیائی کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے ‘Indira is Hindustan & Hindustan is Indira’ کے نعرے لگائے تھے۔آج بی جے پی میں امیت شاہ ، روی شنکر پرساد, شیوراج سنگھ چوہان، دیوندر فڑنویس سے لے کر نچلی سطح تک کے بیشتر لیڈر موجود ہیں جو نریندر مودی کو ہر وقت آسمانی طاقت کا اوتار کہنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ ویسے اس کی شروعات مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کی تھی جنھیں نائب صدر بنادیا گیا ۔ موجودہ بی جے پی صدر جے پی نڈا نے توحال ہی میں ان سب سے کئی قدم آگے بڑھ کر مودی جی کو دیوتائوں کا بھی رہنما قرار دے دیا ہے۔یہ مسئلہ صرف نریندر مودی یا ان کی حکومت کا ہی نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد ہندوستانی سیاست کا بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ Person Centeredرہی ہے۔ہمارے یہاں اداروں، اداروں کی وفاداری اور خود مختاری کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی ہے جتنی اہمیت کسی کرشمائی لیڈر کو۔ نہرو سے لے کر مودی تک یہی کہانی ہے۔اس سے نہ صرف مختلف ریاستی آلات ، پارٹی سسٹم، پارلیمنٹ، انتظامیہ ، پولیس اور عدالتی اداروں کی Effectivnessمیں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے بلکہ سیاسی من مانی اور غیر ضروری مداخلت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یہ صورتحال صرف سیاسی جماعتوں کی ہی نہیں ہے ۔آج ملک میں جمہوریت کے محافظ کہے جانے والے وہ ادارے بھی نظر نہیں آتے جن کی جمہوری اقدار کے ساتھ وابستگی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ ایمرجنسی کے دوران جس طرح سے پُرعزم عدلیہ کی وکالت کی جارہی تھی ، آج بھی تقریباً ویسی ہی آوازیںسنائی دے رہی ہیں۔یہی نہیں ، بہت سے اہم معاملات میں عدالتوں کے فیصلے بھی حکومت کی منشا کے مطابق ہی ہورہے ہیں۔
جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پر پہچانے جانے والے میڈیا کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج کی صحافت ایمرجنسی کے بعد جیسی نہیں رہ گئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑے کارپوریٹ گھرانے میڈیا کے شعبہ میں داخل ہوگئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوڑ شروع ہوگئی ہے۔اس منافع بخش رجحان نے میڈیا اداروں کو تقریباً عوام دشمن اور حکومت کا چاپلوس بنا دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا کو دو طرح سے اپنے قبضے میں کیا جارہا ہے۔ ایک اس کے منھ میں اشتہارات ٹھوس کر اوردوسرا سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ اس کی گردن مروڑنے کا ڈر دکھا کر۔ اس سب کے چلتے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا کا فرق تقریباً ختم ہوچکا ہے۔
تجارتی وجوہات کی بنا پر میڈیا کی جارحیت اور غیرجانبداری تو تقریباً ختم ہوہی چکی ہے ، اخلاقی اور جمہوری اقدار اور شہری حقوق سے وابستگی کا بھی کم و بیش اخراج ہوچکا ہے۔مین اسٹریم میڈیا یا یوں سمجھ لیں کہ گودی میڈیا کے علاوہ جو صحافی حکومت اور اس کے کاموں پر تنقید کرنے کی ہمت دکھا رہے ہیں انھیں بغیر کسی بنیاد کے ملک سے غداری کا مقدمہ کرکے ستایا جاررہا ہے۔ایمرجنسی کے دوران اور اس سے پہلے، جو لوگ حکومت کی مخالفت میں بات کرتے تھے انہیں امریکہ یا سی آئی اے کا ایجنٹ کہا جاتا تھا، اب صورتحال یہ ہے کہ جو بھی شخص حکومت سے متفق نہیں اسے پاکستانی یا ملک مخالف قرار دیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایمرجنسی کے بعد سے اب تک جمہوری نظام تو کسی حد تک چلتا آرہا تھا، لیکن جمہوری اداروں، روایتوں اور عقائد کا کٹاؤ جاری ہے۔لوگوں کے شہری حقوق بڑی خاموشی سے کترے جارہے ہیں۔ ستر کی دہائی میں،مرکز کے ساتھ ساتھ کانگرس کی بیشتر ریاستوںمیں حکومت تھی، اس لیے ملک پر آسانی سے ایمرجنسی تھوپی جاسکتی تھی۔اِس وقت، ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں میں اکیلے یا اتحادیوں کے ساتھ بی جے پی اقتدار میں ہے۔جبکہ اس کے برعکس ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس مسلسل زوال پذیر ہے۔ ایک طویل عرصہ تک اقتدار میں رہنے کی وجہ سے ان میں جدوجہد کی کا مادہ کبھی رہا ہی نہیں۔لہذا سڑکوں سے تو اس کا ناطہ ٹوٹا ہوا ہے ہی ، پارلیمنٹ میں بھی وہ موثر اپوزیشن کا اکردار ادا نہیں کرپارہی ہے۔دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے۔
ایمرجنسی کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ طاقت کا نزول(Decentralization of power)، آمریت ، شخصیت پرستی اور چاپلوسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ تھا۔ آج پھر وہی نظارہ نظر آتا ہے۔اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جمہوری اقدار اور شہری حقوق کا اغوا ہر بار باقاعدہ اعلان کرکے ہی کیا جائے ،یہ ضروری نہیں۔یہ سب جمہوری احاطہ اور قانون کی آڑ میں بھی ہوسکتا ہے ۔ موجودہ حکمراں طبقہ اسی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اورملک کی سب سے طاقتور وزیر اعظم اندراگاندھی تک کو ہلا دینے والا دہلی میں بہادرشاہ ظفر روڈ سے دلّی گیٹ کے راستے ترکمان گیٹ کے درمیان واقع رام لیلا میدان ’’ملک کے ایمرجنسی کی طرف تیزی سے بڑھتے قدم ‘‘ کو روکنے کے لیے کسی جے پی کی آمد کا منتظر ہے

محمد اویس سنبھلی

Article by Owais sambhali

 country heading towards the emergency

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here