کورونا نے ہمیں مسلمان کردیا۔نہ بارات نہ دھوم دھڑاکہ، نہ ناچ گانے

0
191
کورونا نے ہمیں مسلمان کردیا۔نہ بارات نہ دھوم دھڑاکہ، نہ ناچ گانے
کورونا نے ہمیں مسلمان کردیا۔نہ بارات نہ دھوم دھڑاکہ، نہ ناچ گانے
کورونا نے ہمیں مسلمان کردیا۔کورونا کی تباہی تو اتنی ہے کہ بیان نہیں کی جاسکتی لیکن اس کورونا نے فائدہ کیا پہنچایا ہے وہ جان لیں تو بڑی حیرت ہوگی۔کورونا نے سچ میں ہی ہم کو مسلمان بنادیا ہے
اس کورونا کی وجہ سےسارے ہندوستان میں شادیاں دوپہر کی ہونے لگی ہیں۔ کوئی یقین کرے یا نہ کرے حیدرآباد میں بھی ظہر میں ہی شادیاں ہورہی ہیں۔ نہ بارات نہ دھوم دھڑاکہ، نہ ناچ گانے نہ پٹاخے، نہ بیوٹی پارلر,  اورنہ ہی صرف ایک دن کے لئے شیروانیاں اور دلہن کے ایک رات کے جوڑے۔ ہر شر میں خیر تو ہوتا ہی ہے، لیکن اس کورونا سےاتنا بڑاخیرہوجائیگا یہ کسی کو خبر نہیں تھی کہ علما اور سماجی تنظیمیں سالہا سال سے چِلّا رہی تھیں کہ سادگی اختیار کرو، کوئی سننے تیار نہیں تھا لیکن صرف دو تین مہینے کے نے کورونا نےانہیں مسلمان کردیا۔ مجبوراً ہی سہی، لوگ پولیس کے ڈر سے پچاس یا سو مہمانوں پر اکتفا کرکے یہ شان سے کہہ رہے ہیں کہ شادی الحمدللہ سنّت کے مطابق سادگی سے ہوگئی۔ (بشرطیکہ ان سے جہیز کتنا لیا ہے یہ نہ پوچھیں)کل تک یہی لوگ تھے جو لڑکی والوں سے شادی کے دن کے کھانے اور وہ بھی پانچ سو  مہمانوں سے کم پر راضی نہیں ہوتے تھے۔ اگر ان سے سادگی سے کرنے کو کہاجائے، حدیثِ نبوی سنائی جائے تو فوری جواز لاتے تھے کہ:کھانا کھلانا سنّت ہے،دعوت قبول کرنا سنت ہے،جس کی جو استطاعت ہے کرنا چاہئے،لڑکی والے اگر خوشی سے کھلائیں تو جائز ہے،شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے،کیا مہمانوں کو بھوکا بھیج دیں۔ ہمارا خاندان بہت بڑا ہے،
اگر انہیں قرآن کا فرمان سنایا جائے کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور ایسے شیطان کے بھائیوں کی تقریبات کا بائیکاٹ کرنا فرض ہے تو وہ ہمارا مذاق اڑاتے،  ہمیں شدّت پسند، Extremist  اور Backward  کہتے تھے۔ لیکن اب کورونا  کے ہاتھوں یہ خود اتنے شدّت پسند ہوگئے ہیں کہ کل تک جو پانچ سو یا ہزار باراتیوں کے بغیر شادی کوناممکن سمجھتے تھے، خود کہہ رہے ہیں کہ اتنے لوگوں کی کیا ضرورت ہے۔ راتوں کی شادیاں رکنے سے فضول خرچے تو بہت سارے رک گئے، اللہ کرے  کورونا کے بعد بھی یہ روش قائم رہے۔ لیکن دو نحوستیں اور باقی ہیں، جو نہ صرف شرعی طور پر قطعی ناجائز ہیں بلکہ مسلمانوں کی غربت و افلاس کا اہم سبب ہیں۔ ایک ہے شادی کے دن کا کھانا، دوسرے جہیز کی ہوس۔ ایسی کئی اطلاعیں ملی ہیں کہ پانچ سو یا ہزار مہمانوں کی دعوت کا جو خرچہ بچ گیا اس پیسے کو لڑکے والوں کو نقد دے کر یا جہیز میں اضافہ کرکے Compensate کردیا گیا۔ کہیں پر یہ حرکت لڑکی والوں نے خود ضد کرکے کی ہے اور کہیں لڑکے والوں نے بے شرمی سے خود کہہ کر وصول کیا ہے۔ جن لوگوں نے مانگ کر لیا وہ اتنے بڑے مجرم نہیں ہیں، وہ لوگ جنہوں سے زبان سے تو کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے لیکن ”جو آرہا ہے آنے دو“ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وصول کیا ہے، وہ قابل معافی نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر واقعی یہ خوددار ہوتے تو ہرگز ہاتھ نہ لگاتے اور واپس کرتے۔
دن کی شادیوں سے دونوں طرف کے ماں باپ اور دادا،  دادی  یقینا  خوش نہیں ہیں لیکن دلہا اور دلہن ضرور خوش ہیں۔ آج کی نوجوان نسل فضول رسموں اور فضول خرچیوں کو ہرگز پسند نہیں کرتی لیکن بڑوں کی وجہ سے ہتہیار ڈالنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ سوشیو ریفارمس کے جتنے پروگرامس کالجس پر ہوتے ہیں، ہم اسٹوڈنٹس سے عہد نامہ سائن کرواتے ہیں،  لڑکے اور لڑکیاں جن میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی، سارے بخوشی سائن کرتے ہیں کہ کوئی جہیز نہیں لیں گے، کوئی چھچھورے رسم و رواج کو نہیں ہونے دیں گے، ایسے سائن کرنے والے اسٹوڈنٹس کے تقریباً دس ہزار فارمس ہمارے پاس جمع ہیں، لیکن جب ان سے شادی کے بعد ملاقات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے بہت منع کیا لیکن بڑوں نے ہماری ایک نہ چلنے دی۔ یہ سارے خاندان کے بڑے خود اپنی بھی اور اپنی اولاد کی بھی دنیا اور آخرت دونوں خراب کررہے ہیں۔
سوشیوریفارمس سوسائٹی کے نائب صدر عظمت اللہ خان صاحب اور ان کے پارٹنر جناب فصیح الدین صاحب نے مکمل سنّت پرجہیز اور کھانے کے بغیر نکاح کرنے والوں کے لئے شادی خانہ فری دینے  کا اعلان کیا۔پورے ایک سال میں صرف ایک نوجوان نے نکاح سنت کے مطابق کیا اور وہ نوجوان نومسلم تھا جو ایک بنک میں منیجر تھا۔ ورنہ پیدائشی مسلمان تو کئی آئے اور ہمارے کئی گھنٹے برباد کرکے گئے۔  ہر ایک نے یہی کہا کہ کوئی جہیز، جوڑا یا کھانا نہیں لے رہے ہیں۔ لیکن جب ہم نے لڑکی والوں سے کراس چیک کیا تو پتہ چلا کہ لڑکے والوں نے کہا تو ہے کہ کچھ نہیں چاہئے، لیکن دینے سے منع نہیں کیا ہے۔ یہ ایک ایسی چال ہے جس میں شکار کرنے کی زحمت بھی اٹھانی نہیں پڑتی، شکار خود جال میں پھنس جاتا ہے۔  مختصر یہ کہ ایک سال میں شادی خانہ مفت ہونے کے باوجود کسی پیدائشی مسلمان نے سنّت کے طریقے پر نکاح کرنے پر رضامندی پیش نہیں کی۔
اصل فتنہ لڑکی والے: ایسا نہیں ہے کہ مانگ کرنے والے صرف لڑکے والے ہوتے ہیں۔ اکثریت لڑکی والوں کی ہے جس نے چلن کو خراب کیا ہے۔ حالانکہ کئی ایسے نوجوان ہیں جن کے پاس قابلیت ہے اور وہ باکردار ہیں،  لیکن لڑکی والوں کو Well settled لڑکا چاہئے، NRI چاہئے، ذاتی گھر والا چاہئے۔ اس کے لئے لڑکی والے زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرنے تیار ہوجاتے ہیں چاہے قرض لینا پڑے، چاہے لڑکیوں کے بھائیوں کو ڈرائیوری کرنی پڑے۔ اس کے نتیجے میں لڑکیوں کی عمریں تیس سال سے زیادہ کی ہورہی ہیں۔ اور اگر کہیں لڑکی زیادہ تعلیم حاصل کرکے کمانے لگے تو کئی ماں باپ جان بوجھ کر کچھ دن اور کمائی جمع کرنے کی ہوس میں لڑکیوں کو عمررسیدہ کررہے ہیں۔مجھے بنگلور کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کے لئے دو لڑکوں کے رشتے آئے۔ لڑکی کی ماں نے دونوں کے محلے کی مساجد سے یہ معلوم کروایا کہ دونوں میں سے نماز کا زیادہ پابند کون ہے۔پتہ چلا کہ ایک نوجوان فجربھی کبھی نہیں چھوڑتا، لیکن دوسرا نوجوان کبھی جمعہ میں ہی نظر آتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ پابندی سے نماز پڑھنے والا بیروزگار اور کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔ اور دوسرا لڑکا امیر گھرانے کا تھا۔ لڑکی کی ماں نے نمازی نوجوان کو منتخب کرلیا، آج وہ بنگلور کی ایک بڑی انڈسٹری کا مالک ہے۔ میں اس کا نام تو نہیں لکھ سکتا، لیکن آپ مجھ سے ملیں توضرور بتاؤں گا ان شاء اللہ
پہلے نکاح یاپہلے کیرئیر؟:  رسول اللہ ﷺ نے پہلے نکاح بعد میں کیرئیر کا حکم دیا لیکن پہلے کیریئیر کے چکّر میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں اپنی عمروں کے بہترین حصے کو ضائع کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر ان کی شادی بیس اکیس سال میں کردی جائے تو وہ ساری زندگی ماں باپ کے بھی فرمانبردار اور ایک دوسرے کے وفادار رہتے ہیں کیونکہ بھوکے کو وقت پر سوکھی روٹی بھی مل جائے تو وہ شکر کے ساتھ پیٹ بھر کھاتا ہے ورنہ پیٹ بھر ا ہو تو بریانی میں بھی کچھ نہ کچھ نقص نظر آتا ہے۔ شادی جلد کرکے وہی پیسہ جو مہنگی شادی خانوں پر برباد کیا جاتا ہے اسی پیسے سے دونوں  آگے تعلیم  حاصل کرسکتے ہیں اور کیرئیر بنا سکتے ہیں۔ لیکن بچوں کی پلاننگ کرنی پڑے گی۔ بچے اگر تین چار سال لیٹ ہوجائیں تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ یقینا مذہبی طور پر یہ ذہنوں میں بٹھادیا گیا ہے کہ فیملی پلاننگ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔وہ رمزِ شوق جو پوشیدہ لاالٰہ میں ہے طریقِ شیخ فقیہانہ ہو تو کیا کہئے
اس کا حل یہ ہے کہ ایک کاغذ پربچوں کی پیدائش کو تین چار سال روکنے کا گناہ  لکھیئے، اور دوسرے کالم میں شادی وقت پر نہ ہونے کی وجہ سے آج نئی نسل کیا کیا بدکاریاں کرنے پر مجبور ہے تمام بدکاریاں لکھئے اور اندازہ لگایئے کہ کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ ماں باپ اولاد جوان ہوجانے کے بعد ان کے ذہنوں میں کیا چلتا ہے، ا س سے بالکل واقف نہیں ہوتے، اور نہ ان کے جذبات کا ماں باپ کو اندازہ ہوتا ہے۔ کئی شریف گھرانوں کے لڑکے سروں پر ٹوپیاں پہن کر اور لڑکیاں گھروں سے برقع پہن کر نکلتی ہیں، باہر یہ لڑکے لڑکیاں کیا کیا کرتے ہیں اس سے ہر شخص واقف ہے، لیکن پھر بھی ہرشخص آنکھ بند کرکے دودھ پی رہا ہے، یہ سمجھ رہا ہے کہ دوسروں کے بیٹا بیٹی آوارہ ہوسکتے ہیں، میرے نہیں۔
کرونا اور جہیز ۔  دونوں وائرس ہیں:  لوگ محسوس نہیں کرتے کہ یہ شادیاں بھی کرونا کی طرح کا ایک وائرس ہیں۔ اس کو Epidemic  کہتے ہیں، یعنی کہ ”وبا“۔ وبا پھیلنے والی چیز کوکہتے ہیں۔ کرونا ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگتا ہے۔ شادیوں میں حرام خرچی کا شوق بھی ایک جِٹھانی سے دیورانیوں، نندوں اور بہنوں کو لگتا ہے، اگر بڑے بھائی یا بڑی بہن کی شادی دھوم سے ہو تو چھوٹے بھائیوں اور چھوٹی بہنوں کی شادیاں بھی ایسی ہی کرنا لازمی ہوجاتا ہے۔ کرونا میں مرنے والوں کی تعدادہندوستان میں صرف پچاس ہزار ہے۔ جبکہ جہیز کی وجہ سے خودکشی، قتل، زخمی، Infenticide اور پولیس مقدمات کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کرونا کی وجہ سے لوگوں کو علاج کے لئے مالی طور پر سخت تنگی کا سامنا ہے، شادیوں کے لئے بھی جو ایک گھر پر مالی پریشانیاں آتی ہیں اس سے ہر شخص واقف ہے۔ اس طرح کرونا کا مقابلہ شادیوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے سے ہٹ کر، سنّت سے بغاوت کرکے  کی جانے  والی شادیاں کرونا سے کئی گُنا بڑھ کر خطرناک ہیں۔ اس لئے جس طرح کروناسے اپنے آپ کو بچانے کے لئے  سماجی دوری  ضروری ہے، اسی طرح معاشرے کو تباہی سے بچانے کے لئے ایسی شادیوں، ایسی منگنیوں، جہیز، ہُنڈے یا جوڑے کی رقموں اور باراتیوں کے کھانے والی شادیوں سے نہ صرف سماجی دوری  ضروری ہے بلکہ ایسے لوگوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ Social Boycott  بھی ضروری ہے، ورنہ ان کی وبا پورے معاشرے کو تباہ کرڈالتی ہے۔
اگر شادیاں وقت پر ہوجائیں تو فائدے: جس طرح شادیاں دوپہر میں کرنے سے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ کتنے خرچ بچ گئے، کتنے لوگ قرض لینے سے بچ گئے، کتنی حرام کاریاں ختم ہوگئیں۔ سادگی سے نکاح کرنے کے حکم کا یہ تو ایک حصہ تھا، اگر جہیز اور جوڑے کی رقم اور مہنگے کھانوں کو بھی بند کرکے پوری شادی نبی ﷺ کے حکم کے مطابق کرلیں تو فائدے دیکھتے جایئے۔
۱۔ لڑکی بوجھ نہیں، رحمت ہے یہ ثابت ہوجائیگا۔ ورنہ آج لڑکی ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ غربت و افلاس کا سبب ہے۔ اگر آپ کسی کی بیٹی، بہن، بھانجی یا بھتیجی کو جہیز اور کھانے کی بھیک لئے بغیر شادی کرکے لائیں گے تو کل کوئی آپ کی بیٹی، بہن، بھانجی یا بھتیجی کو بھی ایسے ہی کرکے لے جائیگا۔ اگر آج آپ اپنے سسر اور سالوں پر بوجھ نہیں بنیں گے تو کل دوسرے بھی آپ پر یا آپ کے بیٹوں پر بوجھ نہیں  بنیں گے۔  لڑکیاں پیدا ہونے پر واقعی خوشی ہوگی کہ گھر میں رحمت آئی ہے۔
۲۔ شادیاں وقت پر ہوں گی۔ عیاشی، آوارہ گردی اور بے حیائی کافی حد تک ختم ہوجائیگی۔ نئی نسل بری عادتوں اور بری صحبتوں سے بچ جائیگی اور ان میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوجائیگا۔
۳۔ 11 August,2020 کو ہونے والے بنگلور فساد پر غور کیجئے۔ کسی نے رسول اللہ ﷺ کی فیس بک پر گستاخی کی۔ فرقہ پرستوں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور گھروں کو، گاڑیوں کو آگ لگادی، سارا الزام مسلمانوں پر لگادیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ گستاخی کرنے والے نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ اس کے پاس ہمارے رسول ﷺ کا امیج ویسا ہی ہوگا جیسے ہمارا آج کردار ہے۔مسلمانوں میں  جھوٹ، دھوکہ، سود کا لین دین، شراب، قتل وقبضہ وغیرہ کے موضوع پر ہم پھر کسی اور وقت گفتگو کریں گے، یہاں ہم صرف شادیوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر غیرمسلم، ہمارے نبیﷺ کے نکاح کے طریقے کو عملی طور پر ہماری زندگیوں میں دیکھ لیں تو کوئی عجب نہیں کہ وہ سارے ایمان لے آئیں، کیونکہ ان کا معاشرہ شادیوں کی وجہ سے جتنا تباہ ہے وہ ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں تو پھر بھی کئی ایسے سچے مسلمان ہیں جو لڑکی والوں سے ایک روپیہ بھی خرچ کروائے بغیر سنّتِ نکاح کی تکمیل کرتے ہیں، لیکن ان کے ہاں بغیر جہیز کے شادی کا کوئی تصوّر نہیں۔ حتیٰ کہ کئی لڑکے لڑکیاں محبت کی شادی کے نام پر کورٹ میریج کرلیتے ہیں، لیکن شادی کے بعد جہیز کے جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ لوگ دیکھ لیں کہ مسلمان کی شادی  چاہے وہ کوئی کروڑ پتی ہو یا غریب، مکمل ان کے پیغمبر کے طریقے پر ہوتی ہے، نہ منگنی نہ جہیز، نہ ہنڈا نہ بارات، مسجد میں نکاح کرتے ہیں، مہر ادا کرتے ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق سادگی سے ولیمہ کرتے ہیں تو اس سے ہمارے نبی ﷺ کا امیج ہر مذہب کے لئے ایک ماڈل بن جائیگا۔ ان شاء اللہ
تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اب اِن دوپہر کی شادیوں کو مستقل چلن بنالیں اور فضول خرچ کرنے والے جن کے ارمان نبی ﷺ کے طریقے کے خلاف ہیں، ان کے ارمانوں کا حصہ نہ بنیں اور ان کی تقریباتِ شادی کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کریں جیسے کہ کورونا کے مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں

Dr. Aleem Khan Falaki
President Socio Reforms Society
9642571721
Hyderabad
Article by Aleem khan Falaki on corona and Muslims
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here