کورونا چڑیل۔بچوں کی کہانی۔ اس کورونا چڑیل کا کوئی علاج نہیں ہے

0
53
کورونا چڑیل۔بچوں کی کہانی .محمد سراج عظیم
کورونا چڑیل۔بچوں کی کہانی .محمد سراج عظیم

کورونا چڑیل۔بچوں کی کہانی ضرور ہے مگر اس وقت جس طرح کورونا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ ۔میں لے رکھا ہے اس کورونا چڑیل کا کوئی علاج نہیں ہے۔اس کو کورونا چڑیل کہنا ہی بجا ہے ۔پڑھئے دلچسپ کہانی
🌺✒رشاد پانچ سال کے تھے گورے چٹے گول مٹول سے گھر میں رشو بھیا پکارے جاتے بڑے بیچین طبیعت ہر وقت کسی نہ کسی ادھیڑ بن میں رہتے انکے ساتھ گھر والے بھی مصروف رہتے بلا کے ذہین اور باتونی دادا سے ہر وقت چھتیس کا آنکڑا گھر کا کوئ بڑا جو کہتا اس کو اپنے انداز میں ضرور دوہراتے
پرانے طرز کامکان بڑا سا آنگن جسمیں طرح طرح کے پیڑ پودھے پنجروں میں طوطے کئ طرح کی چڑیاں کبوتر بلی آنگن کےایک طرف مرغیوں کا بڑا ساڈڑبہ غرض یہ گھر کیا تھا چھوٹا سا چڑیا گھر تھا بڑے شہروں میں تو اس طرح کے گھروں کا تصور ہی محال تھا صبح ہی اٹھ جاتے اور پورے گھر میں ٹہلا کرتے کبھی ماوءں بلی سے باتیں تو کبھی مٹھو بیٹے سےکلمہ پڑھواتےکبھی اپنی سائیکل چلاتے تو سارے جانوروں کو بیٹھنے کی دعوت دیتے پھرتے سب سے زیادہ انکی توجہ کا مرکز گھر میں پلی سفید مرغی تھی جس کانام انکی دادی نے چاندنی رکھ دیا تھا اسکے چوزوں میں ایک کالا جسکو وہ کالو کہتے دوسرا لالو تھا باقی سفید چوزے۔ وہ بچے اپنی ماں کے پیچھے دوڑتے یہ بھی انکے پیچھے باتیں کرتے دوڑتے اے کالو اتنی تیزی سے مت دوڑو گر جاوگے ارے چوٹ لگ جائے گی ان سے بڑی انکی بہن تھیں جو سات سال کی تھیں پہلی کلاس میں پڑھتی تھیں ان کو سب نفو کہتے ان سے بھی انکی نہی بنتی بہرحال
ایک دن انکو پیچکش مل گیا بس سائیکل کی مرمت شروع ہوگئی نفو نے دیکھا تو پوچھا کیا کر رہے ہو بھیاارے اپی دیکھ نہی رہی ہو ٹھیک کر رہا ہوں کیا ٹھیک کر رہے ہو ارے سائیکل اور کیاارے خراب ہوجائےگی نفو نے کہا اتنے میں دادا اگئے “ارے بھیا کیا کر رہے ہو”
“ارے دادا گھنٹی ٹھیک کر رہا ہوں”
“ارے بھیا خراب ہو جائے گی سائیکل”
“دادا بےکوف سمجھاہئے کیا ”
“نہی تم بےوقوف کہاں ہو تمہارے تو پیٹ میں داڑھی ہئے” ابھی دادا نے یہ بات کہی تھی کہ پتہ نہی کیسے گھنٹی کا پش بٹن نکل کر نفو کے متھے پر لگا نفو زور سی چیخ مار کر رونے لگی انکی ممی دوڑی ائیں دادا بولے” تم مانتے نہی ہو بھیا بڑے کاریگر ہو دیکھو لگ گئ نا اپی کے چوٹ “اب یہ اپنے دونوں کولھوں پر ہاتھ رکھ کر بولے “ممی یہ دادا کی وجہ سے ہوا مجھے باتوں میں لگا لیا لگ گئ اپی کے چوٹ”
ایک دن ٹی وی پر جوئیل تھیف فلم کا گانا آرہا تھا ہیرو گلےمیں ڈھول ڈالے تھا ہیروئین گا رہی تھی بس انکو بھی یاد اگیا انکے چچا نے ایک ڈھلکیا لاکر دی تھی گلےمیں ڈال کر آگئے آنگن میں بجاتے ہوئے گھوم رہے ہین “ہونتوں میں میتھی پان میں چبا کے چلی ائ”اور گھر کےسب لوگ ہنس رہے ہیں
لاک ڈاوءن کی وجہ سے سب گھر میں تھے ٹی وی پر خبریں آرہی تھیں ڈاکٹر ایپرن پہنے ہوئےتھے انھوں نے دیکھا تو ممی سے پوچھا ممی یہ کیا ہئے انکی ممی نے کہا “یہ ڈاکٹر لوگ پہنتے ہیں حفاظت کے لئے”
“کائے کے لئے ممی”
“ارے بھیا تم بڑا دماغ چاٹتے ہو”
“ارے ممی میں کہاں دماغ چاٹ رہا ہوں پوچھ رہا ہوں”
“اف فو اوہ رشو بھیا آجکل ایک چڑیل آئ ہوئ ہئے وہ سب کو لے جاکر الگ کمرےمیں بند کر دیتی ہئے”
“کیا ممی کون سی چڑیل ”
“کرونا کی چڑیل”
“تو ممی اسکو ڈرانے کے لئے ان لوگوں نے رینکوٹ پہنا ہئے”
“ہاں” انکی ماں نے جواب دیا بس کیا تھا رشو جلدی سے اندر گئے اپنا رینکوٹ پہن کر اگئے “ممی اب کرونا کی چڑیل میرے پاس تو نہی ائے گی” رشو نے اپنی ممی سے کہا انکی ممی نے انکی طرف دیکھا تو ہنس دیں”ارے بھیا یہ تو ڈاکٹر لوگ اس کو بھگانے کے لئیے پہنتے ہیں اگر تم صاف رہوگے ہر وقت ہاتھ دھوگے گندگی میں نہی کھیلوگے تو چڑیل تمہارے پاس نہی آئے گی اور اگر تم نے ایسا نہی کیا تو وہ تمہیں الگ کمرے میں بند کر دےگی”
“ہاں ممی وہاں کوئ نہی ہوگا”
“ہاں بالکل اکیلے”
“ممی میں صاف صاف رہتا ہوں ہاتھ بھی دھوتا ہوں مجھے تو لیکر نہی جائےگی ناچڑیل” رشو بھیا نے بڑے بھولے پن سے کہا
صبح پھر انکی چہل پہل شروع ہوگئ مرغی اور مرغی کے چوزوں کا ڈربہ کھل گیا تھا سب ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے تھے اج پتہ نہیں کہاں سے رشو کے ہاتھ ایک چھڑی آگئ تھی وہ سب سے باتیں کرتے جارہے تھے ” اے چاندنی یہ کالو اور لالو دونوں کا منھ ہاتھ دھلانا نہیں تو کرونا کی چڑیل آجائیگی ان کو الگ کمرے میں بند کر دیگی پھریہ تمہارے پاس نہی ائیں گے”لیکن چاندنی کہاں انکی بات سمجھتی
اب وہ کالوکے پیچھے لگ گئے وہ گندگی میں منھ مار رہا تھا “اے کالو تم بےکوف ہو بالکل گندے بچے ہو تم نالی میں چونچ ڈال رہے ہو چھی گندے چلو اپنے پیر اور چونچ دھوو تمہیں کرونا کی چڑیل تمہاری ممی سے الگ کمرے میں بند کر دے گی تم روتے رہوگے اپنی ممی کے لئےاور دادا بھی تمہیں الٹا لٹکا دیں گے”وہ دانت پیس پیس کر اور ڈنڈی کو ہلا ہلا اور گھما گھما کر کالو کو بتا رہے تھے اور اسکے پیچھے پیچھےچل رہے تھے اور گھر کے سارے لوگ انکو دیکھ دیکھ کر قہقہے لگا رہے تھے

محمد سراج عظیم

A short story by Siraj Azeem

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here