کورونا چین سے نکل کر ہندوستان پہنچتے ہی مسلمان ہوا

0
215
کورونا چین سے نکل کر ہندوستان پہنچتے ہی مسلمان ہوا


محمد خورشیدعالم،آسنسول،مغربی بنگال،

۔7479055911

آج پوری دنیا کورونا وائرس کے لپیٹ میں ہے اور اپنی زندگی کی بے بسی پر ماتم زار ہوکر آہ وفغاں کے سوا کچھ بھی نہیں کر پارہی ہے۔پریشانیوں کے عالم میں انسان اتنا بے بس اور لاچار دکھائی دے ر ہا ہے کہ تکنیکی اور سائنسی صلاحیتوں کے دم بھرنے والے لوگ بھی ہائے توبہ کے سوا کچھ بھی نہیں کرپارہے انسانوں کوجب خدا نے تھوڑا سا علم دیا تووہ چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی باتیں کرنے لگا۔آسمانوں میں اڑنا،سمندروں کی گہرائیوں میں اترنا یہاں تک کہ بارش برسانے اور مصنوعی دھوپ بنانے کی طرف بھی مائل ہوتے ہوئے دکھائی دینے لگا اور ایک وقت تو ایسا لگنے لگا کہ فطرت پر بھی انسان بڑی آسانی سے قابو پالے گامگر ایک چھوٹے سے وائرس نے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ جب اسے مارنا شروع کر دیا تب جاکر انسانوں کے ہواس ٹھکانے آنے لگے۔
کورونا کی ابتداء چین کے ووہان شہر سے31 ؍دسمبر2019 کو ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یورپ امریکہ دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی اسکی دستک ہوئی ۔ جیسے ہی اسکی آمد ہندوستان میں ہوئی میڈیا اپنے پرانے ڈھرے پر عمل کرتے ہوئے پیسہ کی چکا چوندھ میں اس قدر غرق ہوگئی کہ اسے مسلمان بنا دیا اور ہندوستان میں اسے مسلمانوں کی ہی ایجاد سمجھ لیا گیا وہ یہ بھی بھول گئے یہ وائرس چین کی مرہون منت ہیں۔چین میں جب یہ وائرس شباب پر تھا۔ اگر ہماری سرکار اس وقت کوئی عملی اقدامات دکھاتے ہوئے غیر ملکوں سے آنے والے لوگوں پر کڑی نگاہ رکھتی یا ایئر پوٹ پر ہی کورونا کی چانچ کا کو ئی معقول بندوبست کر تی توشاید ہندوستانیوں کو یہ دن دیکھنے نہیں پڑتے مگر ہندوستان میں جب سے بی جے پی کی سرکار آئی ہے اپنی ہر ناکامی کو مسلمانوں کے سر پر ہی پھوڑتے ہوے دیکھائی دی ہے اور اس کام میں اسے نیشنل میڈیا کا بھر پور تعاون ملتا رہاہے

۔تبلیغی جماعت نظام الدین مرکز کے معاملہ کو میڈیا نے اتنی ہوا دی کہ ان دنوں ہندو مسلمان میں جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسکی بھر پائی کافی مشکل ہوگی۔اس مصیبت کی گھڑی میں سوچی سمجھی سازش کے تحت میڈیا نے تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کی کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی۔جماعت والے اللہ کے لے کام کرتے ہیں اس میں کچھ لوگ سادے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ برائیوں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ دین کی کام کو دکاندار کی طرح کرتے ہیں اس لے وہ سوچتے ہیں کہ پڑوسی کی دکان بند ہوجائے گی تو میری دکان چلے گی اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی باتوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے تو سستی شہرت پانے کے لے اور مسلمانوں کو ڈرانے کے لے فتوے کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انکے چاہنے والے اور ماننے والے فتوے  کا ف تک نہیں جانتے ہیں۔

کچھ ماہ قبل زمانہ اپنی تیز رفتار سے اتنی تیزی کے ساتھ سفر پر گامزن  تھا کہ کہیں پر قتل و غارت گری تو کہیں پر ظلم وستم کے ساتھ ساتھ خوشیوں کی محفل بھی سجتے ہوئے دکھائی دیتی تھی۔پتھر کے زمانے سے لیکر انٹر نیٹ کے زمانے تک دنیا میں خدا کی وباء آتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا دنیا میں جوکچھ بھی ہوتا ہے یہ مومن کی اپنی اعمال کا نتیجہ ہوا کرتا ہے اس سے پہلے بھی دنیا ایڈس اور دیگر وبائوں کو دیکھ چکی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخر خدا نے کورونا جیسی مہلک وباء کو دنیا کے سامنے کیوں پیش کیا۔ انسانی عقل حیرت میں ڈوب گی کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا ہوگیا علم ودانش کی مینار سرنگوں ہوگے ہماری مسجدیں مرشیہ خواں ہوگی،خانہ کعبہ خالی ہوگیا،باجماعت نمازیں بند ہوگئیں،عمرہ پر پابندی لگ گی حج اگلے سال کے لے کردیا گیا ، مندروں کے دروازے بند ہوگے، گرجا گھروں میں بھی تالا لگادیا گیا ۔گویا کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی خاموش کردیا گیا۔
دنیا اور اسلام کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب جب انسانوں نے اپنی گناہوں کا دائرہ بڑھا یا تب تب اللہ کی جانب سے ہمیں وباء میں مسلط کردیا گیاخدا جب اپنے بندوں کی بے حیائی ،عیاشی، فحاشی پر ناراض ہوتا ہے تو قدرت کے طرف سے عذاب کی شکل میں وباء نازل کردیتا ۔خدا نے قران پاک میں بار بار کہا کہ تم اپنی اعمال کامحاشبہ کرو لیکن دنیا پانے کی للک نے ہمیں محاشبہ کے ساتھ ساتھ دین کے مقصد سے بھی بھٹکا دیا۔جلسہ ،جلوس،عرس،تبلیغی جماعت اورحج وغیرہ پر کڑوروں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی ہندوستان میں پانچ وقت کی نمازیوں کی تعداد مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے صرف 5فیصد ہے۔ہم عبادت خانوں میں گے لیکن خدا کے لے نہیں گے بلکہ اپنی جنت پانے کے لے گئے۔خانہ کعبہ کی چکر پر چکر لگاتے رہے اور ادھر ہماری بستیوں میں غرباء ومساکین بھوک کے چکر کی وجہ سے لقمہ اجل بنتی رہے۔پردہ کے نام پر ہم آنکھوں کے پردہ کے بجائے کپڑوں کی پردہ پر زیادہ توجہ دیتے رہے۔پیشہ لیکر لوگوں کو قران سنایا،پیشہ لیکر تعویز کی شکل میں قران کی آیات کا استعمال کیا اگر کسی نے اس جانب توجہ دلائی تو اسے کافر بول کر چپ کرا دیا۔بیٹے کا نکاح تولوگوں کے سامنے مسجدوں میں کرایا لیکن رات کی تاریکی میں ٹرک سے لاد کر جبرا جہیز کا سامان مانگنے میں کوئی مروت نہیں دکھائی جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا آج وہ قوم جہلا کے نام سے جانی جاتی ہیں والدہ کے حیات میں ان سے بات کرنا گناہ سمجھا اور ان کو کوئی عزت نہیں دی  لیکن انکے فوت  ہونے کے بعد دنیا میں اپنی نام ونمود کے لے میلہ لگاکر لاکھوں روپئے خرچ کرکے دوستوں کو کھانا کھلایا۔معاشرے میںعیاشی،جوااور منشیات کا دھندہعروج پر رہا پر لیکن مولوی صاحب نے بتا رکھا کہ نماز پڑھنے،حج کرنے،زکواۃ دینے اور روزہ رکھنے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں اور جنت بھی حاصل ہوجاتی ہے اس لے خدمت خلق سے کافی دور ہوگے اور بات بات پر لوگوں کی دل آزاری کرتے رہے ماں باپ کی خدمت کو بوجھ سمجھنے لگے۔لیکن ہم یہ بھول گے کہ کسی کی بددعا ہماری ساری نیکی پر پانی پھیر دے گا آگر میری ماں مجھ سے خوش نہیں ہوئی تو جنت مجھ پر حرام کردیا جائے گا۔دین کو ہم قران پڑھ کر نہیں سیکھا بلکہ ہمارے بزرگ جو کرتے ائے اسی طرزکو ہم دین سمجھ کر اس پر عمل کرتے رہے۔
دنیا خدا کی بنائی ہوئی ہے اور ہم سے بہتر وہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا کرنا ہے ہاں یہ طے کہ خدا پاک اپنے بندوں سے بے پنہاہ محبت کرتا ہے وہ مسلمانوں کو کبھی بھی ذلیل ہونے نہیں دے گا بس ہم امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور لاک ڈائون میں اپنے اپنے گھروں میں عبادت کرتے ہوئے خدا کو یاد کر کے اپنی غلطی پر نادم ہو کر خدا کی قربت حاصل کر لے پھر دیکھناسارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے اپ رزق کی فکر کرنی چھوڑ دیجئے وہ رزاق ہیں اپکے لے وہ بہت بہتر رزق کا انتظام کرئے گا رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہمارے لے یہ ایک نعمت ہیں کہ ہم اس ماہ میں اپنے روٹھے ہوئے رب کو منا نے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اس لے تو اللہ کہتا ہیں کہ ہم صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں یقین کرو بہت جلد انشااللہ تعالیٰ خدا کی مدد آئے گا اور ہم سب کو کورونا جیسے وباء سے نجات مل جائے گااور ہماری زندگی پھر پٹری پر دوڑتی ہوئی دکھائی دے گی۔
میڈیا اور حکومت کی مہربانی سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ہمیں پھونک پھونک کر قدم ر کھنا چاہیے اور ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہیے جس کی وجہ سے حکومت اور میڈیا کو نفرت پھیلانے کا پھر سے موقع مل جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

۔7479055911

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here