شمس الرحمان فاروقی کا انتقال تنقید کے ایک عہد کا خاتمہ ہے ۔ عقیل احمد

0
57
شمس الرحمان فاروقی کا انتقال تنقید کے ایک عہد کا خاتمہ ۔شیخ عقیل احمد

شمس الرحمان فاروقی کے انتقال سے اردو ادب میں ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا مشکل ہے۔شمس الرحمن فاروقی اس عہد کے عبقری شخص تھے جنھوں نے تنقید کو ایک اعلیٰ
معیار عطا کیا اور جن کی تحریروں نے تنقیدی اور تخلیقی ذہنوں کو مہمیز اور متحرک کیا۔
ترجمہ، تخلیق اور تنقید کے باب میں ان کی جو خدمات ہیں انھیں اردو دنیا کبھی فراموش نہیں
کرسکتی۔ ان کا انتقال تنقید کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل کے
ڈائرکٹر شیخ عقیل احمد نے ممتاز ناقد شمس الرحمن فاروقی کے سانحہ ارتحال پر قومی اردو
کونسل کے صدر دفتر میں منعقدہ تعزیتی میٹنگ میں کیا۔انھوں نے کہا کہ بیوروکریٹ ہوتے ہوئے
اردو زبان و ادب میں شمس الرحمن فاروقی نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ قابل رشک ہے۔ انھوں
نے صرف اردو زبان کی ثروت میں ہی اضافہ نہیں کیا بلکہ اردو ادبیات کو انگریزی اور دوسرے
حلقوں میں بھی متعارف کرایا۔یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
آئندہ کی نسلیں ان کی تصنیفات سے بطور خاص استفادہ کریں گی۔ سرسوتی سمان یافتہ شمس
الرحمن فاروقی نے شعر شورانگیز، تفہیم غالب، اردو کا ابتدائی زمانہ، افسانے کی حمایت میں اور
کئی چاند تھے سر آسماں جیسی کئی اہم تصنیفات اردو دنیا کو دی ہیں۔ انھو ں نے یہ بھی کہا کہ
شمس الرحمن فاروقی نے ‘شب خون’ جیسے مجلے کے ذریعے ایک پوری نسل کی تربیت کی اور
جدیدیت جیسا رجحان دیا جس کی تقلید کرنے والے بہت سے تخلیق کار عصری ادبی منظرنامے کا
ایک روشن دستخط ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شمس الرحمن فاروقی کی
وابستگی کے حوالے سے ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ این سی پی یو ایل سے ان کا بہت گہرا
رشتہ رہا ہے۔ ترقی اردو بیورو کے ڈائرکٹر اور قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین کی حیثیت
سے انھوں نے کونسل کو ایک وژن اور ایک نئی سمت دی ہے۔ قومی اردو کونسل کے اسسٹنٹ
ڈائرکٹر (ایڈمن) جناب کمل سنگھ نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی ایک اعلیٰ سوچ رکھنے والے
شخص تھے۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ اچھے کام کرنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے
تھے۔ قومی اردو کونسل سے ان کی گہری وابستگی تھی۔اردو زبان کی ترویج اور قومی اردو

کونسل کی توسیع کے لیے ان کے پاس بہت سے اہم مشورے اور تجاویز تھیں جنھیں وہ عملی
جامہ پہنانے کے لیے فکرمند رہتے تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر) نے بھی
شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نابغہ روزگار
شخص تھے۔ ان کی باتو ںسے علمیت اور عظمت ٹپکتی تھی۔ ان کا مطالعہ وسیع اور نظر عمیق
تھی۔ بجا طورپر انھیں استاذ الاساتذہ کہا جاسکتا ہے۔
اس تعزیتی میٹنگ میں قومی اردو کونسل کا عملہ موجود رہا ۔ ان کی روح کی تسکین کے
لیے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here