نشترؔ امروہوی ایک خوش مزاج شخص اور طنز و مزاح کے بہترین شاعر تھے

0
90
نشترؔ امروہوی ایک خوش مزاج شخص اور طنز و مزاح کے بہترین شاعر تھے
نشترؔ امروہوی ایک خوش مزاج شخص اور طنز و مزاح کے بہترین شاعر تھے

معروف طنز و مزاح کے شاعر نشترؔ امروہوی کے سانحۂ ارتحال کے سلسلے سے علامہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ کی جانب سے زوم ایپ پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت علامہ قیصر اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر ہلال نقوی پروگرام میں شامل ہوئے ۔پروگرام کی نظامت محمد عادل فرازؔ نے انجام دئیے۔اس موقع پر ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے کہا کہ نشترؔامروہوی ایک خوش مزاج شخصیت کے حامل تھے چونکہ وہ میرے بہنوئی بھی تھے اس لئے میں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا ۔ان کے یہاں خوش اخلاقی و خوش مزاجی انتہائی درجہ پر پائی جاتی تھی۔میں نے کسی وقت ان کی زبان پر کسی کے لئے نہ برے کلمات دیکھے اور نہ انھیں کسی کی غیبت کرتے ہوئے دیکھا ۔بلا شبہ وہ طنز و مزاح کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے کلام میں سماج کا درد،زمانے کی تلخیا ں اور معاشرے کی حقیقی تصویر ملتی ہے۔وہ پہلے کسی چیز کا باقاعدہ مشاہدہ کرتے تھے اور اس کے بعد اس موضوع پر اس طرح قلم اٹھاتے تھے کہ بہترین تخلیق سامنے ہوتی تھی۔انھوں نے اپنی زندگی میں متعدد مشاعرے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر پڑھے اور ادبی دنیا میں بہت شہرت حاصل کی لیکن اس کے باوجود ان میں انکساری پائی جاتی تھی۔وہ خود نمائی اور بناوٹ سے بہت دور تھے۔یہی وجہ ہے ہے کہ وہ ہر دل عزیز شاعر بن کر اردو دنیا میں ابھرے لیکن افسوس اجل نے ان کو ہم سے بڑی جلدی چھین لیا۔یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی جلدی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اﷲانھیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ڈاکٹر ہلال نقوی نے کہا کہ وہ جب علی گڑھ آتے تھے تو ہلال ہائوس ضرور آتے تھے ان کی شخصیت ان کی گفتگو ان کا اندازِ تکلم نہایت جاذب نظر تھا وہ جب بھی کسی مشاعرے میں کلام پیش کرتے تھے تو سادگی کو ملحوظِ خاطر رکھتے تھے اور مشاعرے میں چھاپ چھوڑنے میں کامیاب ہوتے تھے۔میں ان کی شاعری سے نہایت متاثر ہوں ان کی شاعری میں اصلاحی پہلو بہت نمایاں اور واضح ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی فکر قوم و ملت کی زبوں حالی کے لئے بے چین و مضطرب تھی۔میری دعا ہے کہ انھیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا ہو۔محمد عادل فراز نے کہا کہ نشترؔ امروہوی امروہہ کی سرزمیں کے ایک نمائندہ شاعر تھے انھوں نے ادبی دنیا میں امروہہ کا نام مزید روشن کیا ان کی شاعری میں امروہہ کا رنگِ اسلوب صاف نظر آتا ہے ان کی مزاحیہ شاعری میں کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک شگفتہ فضا پائی جاتی ہے۔ڈاکٹر سرورؔ مارہروی نے کہا کہ نشترؔ امروہوی کا انتقال اردو ادب میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک بڑا نقصان ہے بلا شبہ وہ ایک منفرد و معتبر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین شخص تھے۔ان کی شاعری میں ایک مخصوص قسم کی جاذبیت و کیفیت نظر آتی ہے۔ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے علامہ اقبال اور میر انیس سے استفادہ کیا اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے لئے نئی راہ منتخب کی میں ان کے انتقال پر دلی رنج کا اظہار کرتا ہوں۔اﷲان کی مغفرت فرمائے۔اس کے علاوہ پروگرام میں شامل ہونے والوں میں جعفر رضا روشنؔ،ناصر محمد،مرتضیٰ نقوی وغیرہ وغیرہ رہے۔آخر میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔

Condolence Meeting by Qaisar Academy Aligarh

Sada Today Web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here