برھانپور طبیہ کالج کا تدریسی عملہ غیرمعینہ مدت کی ہڑتال پر

تنخواہ میں اضافہ کرنے کے اپنے لگ بھگ 5ماہ پرانے مطالبے کو لیکر یونانی طبیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے عہدے داران کے ذریعے انحراف کرنے پر مجبوراًتدریسی عملہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہے، تدریسی عملے سے وابستہ ڈاکٹر فرید قاضی نے بتایاکہ تدریسی عملے کی جانب سے 24؍جولائی، 8؍اگست ،25؍ستمبر 2018کو تنخواہ میں اضافہ کرنے کے مطالبات کولے کر ذمے داران سوسائٹی کو مکتوب دیاگیاتھا،سوسائٹی کے ذمے داران کے ذریعے تدریسی عملے کے ذمے داران کو جوابیہ مکتوب میں 29؍ستمبر 18کو واقف کرایاگیاکہ معاشی بحران کے سبب فی الحال اضافے پر غورکرنا ممکن نہیں ہے، بعد میں صدراورسیکریٹری اور گورننگ باڈی چیئرمین کے مشترکہ دستخط سے جاری مکتوب کے ذریعے تدریسی عملے کے ذمے داران کو واقف کرایاگیاکہ ان کے مطالبات من وعن تسلیم کئے گئے ہیںلیکن اسے دسمبر 18سے نافدالعمل کیاجائیگا، دسمبر 18کی تنخواہ جو جنوری 19میں اداہوتی ہے اسمیں مذکورہ اضافہ نہیں جوڑے جانے سے تدریسی عملے کی جانب سے یکم جنوری 19کوایک یاددہانی مکتوب یونانی طبی ایجوکیشن سوسائٹی برھانپور کو دیاگیاجسکے جواب میں سوسائٹی نے 7؍جنوری کو اضافی تنخواہ دینے سے انکار کردیا،سوسائٹی کے جواب سے ناخوش ہوکر تدریسی عملہ8؍جنوری 19سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں، ڈاکٹر فرید قاضی نے بتایاکہ سوسائٹی اور کالج کے پاس معقول ذریعہ آمدنی ہونے کے بعد بھی تدریسی عملے کو معقول تنخواہ نہ دیکر استحصال کررہاہے ،دریں اثناء سوسائٹی کی جانب سے نورقاضی نے میڈیا کو بتایاکہ ابھی تک کالج خسارے میں تھالیکن امسال سے کالج منافع میںرہے گا ،نصف صدی سے زائدعرضے کی تاریخ گواہ ہے کہ سوسائٹی اپنے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا استحصال کررہی ہے،اور پرائیوٹ سوسائٹی میں استحصال ہوتاہی ہے،جوبدستورجاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے