نرسمہاراﺅ پر بی جے پی اور سنگھ مہربان۔بابری مسجد شہادت کااہم ذمہ دار

0
66
نرسمہاراﺅ پر بی جے پی اور سنگھ مہربان۔بابری مسجد شہادت کا ہندتوا چہرہ
نرسمہاراﺅ پر بی جے پی اور سنگھ مہربان۔بابری مسجد شہادت کا ہندتوا چہرہ

نرسمہا رائوکا نام ہندوستانی تاریخ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔نرسمہا رائو وہ لیڈر جس نے بابری مسجد کی شہادت میں اہم رول ادا کیا ۔نرسمہا رائو جس نے بابری مسجد کی شہادت کے وقت ایسی خاموشی اختیار کی کہ جسکی وجہ سسے آج بھی سیکولر ہندوستانی نرسمہا رائو کا نام لیتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں
”ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ ’من کی بات‘ کے آخری حصہ میں سابق  وزیراعظم پی وی نرسمہا رائو کی صدسالہ سالگرہ کے حوالے سے ان کی حب الوطنی کے جذبہ اور بہتر منتظم اور متعددزبانوں پر عبورکے گن گاتے ہوئے انہیں ایک ’ودوان‘ اور ’بہترین ایڈمنسٹریٹر‘تک قراردے دیا، ان کا تعارف پیش کرتے ہوئے ،راﺅکی زندگی اور ان کی کارکردگی سے عوام کوکچھ سیکھنے کی ہدایت بھی کرڈالی۔ “ مودی کے منہ سے ایک کانگریسی وزیراعظم کی تعریف کے پل باندھنا ،وہ بھی نرسمہاراﺅکے متعلق تو اس میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئیے، کیونکہ یہ وہی نرسمہا رائو تھے ،جو 6دسمبر 1992ء کی شام ہوتے ہوتے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور بہترین منتظمین کے اعزاز گنوا چکے تھے۔میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ملک کی آزادی کے بعد کے دور کو ہندوستان کے ماتھے پر کلنک قرار دینے والے اور عوام کی ترقی اورفلاح وبہبودکے لیے کچھ نہ کرنے کی سابقہ حکومتوں کی جھوٹی کہانی پیش کرنے والے بی جے پی کے لیڈران اور ان کے ہمنواسنگھ پریوار کو اچانک نرسمہارائو کیوں اچھے لگنے لگے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ یہ نرسمہا رائو  ہی تھے جنہوں نے اُس روز اجودھیا میں ہندوتوا وادیوں کا کام آسان کردیاتھااور منصوبہ بند سازش کے تحت بابری مسجد کو مسمار کردیا گیا اور اُس وقت جاری وساری سنگین نوعیت کی سرگرمیوں سے چشم پوشی برتی تھی،اُن پانچ چھ گھنٹے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا ہے کہ راﺅ کہاں روپوش تھے۔اس روز اجودھیا میں جوکچھ ہوا،وہ اچانک پیش آنے والا کوئی واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس واقعہ سے ملی بھگت کی بو بھی آتی رہی ہے۔اور اجودھیا کے قضیہ میں سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے بعد جوحالات پیدا ہوئے ہیں ،ان میں نرسمہاراﺅ تو ان لوگوں کو سب سے پیارے بھائی بندھونظرآئیں گے ہی ،پھر تعریف کرنا تو لازمی ہوجاتا ہے۔
پی وی نرسمہا راو ¿ نے6 دسمبر 1992 کے تعلق سے بار بار اور مسلسل وضاحت پیش کی ،بلکہ اپنی آنکھیں بند ہونے کے بعد بھی صفائی نامہ چھوڑگئے ،لیکن وہ اپنے دامن پر لگے دھبے کو مٹانے میں ناکام رہے ۔یہ بھی سچائی ہے کہ 1980 کے عشرے کے آخر میں ایک نچلی عدالت کے حکم پرراجیو گاندھی کے حواریوں نے بابری مسجد کا تالا کھلوایا اور شیلانیاس کروادیاتھا ،لیکن اس کے بعد نئی نویلی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس معاملہ کو بھنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور رام جنم بھومی معاملہ کو قومی سیاست کی مرکزیت تک پہنچادیا گیا،بی جے پی کے اشارے پروشواہندو پریشد ( وی ایچ پی)اور سنگھ پریوار کی ہمنوا پارٹیوں اور تنظیموں نے اجودھیاسمیت ملک بھر میں’مندر وہیں بنائیں کے نعرے ‘کے ساتھ ایک مہم شروع کردی ،وی ایچ پی کے عہدیداران نے بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا کو انتہائی کامیاب بنادیا ،لیکن پہلے دور میں بہار میں ان کے رتھ کو روک دیا گیا اور وی پی سنگھ سرکار گرگئی تھی ،مگردوسرا دورکامیاب ترین رہا اور 6 دسمبر 1992 کواجودھیا میں کارسیوا کے اعلان کے بعد ریاست ہی نہیں بلکہ مرکز کی دورخی پالیسی نے اس روز بابری مسجدکو مسمارہی کروادیا۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے ایک سپہ سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا ، اس مقام کے بارے میں ہندوتواوادیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے،حالانکہ اجودھیا میں واقع ہر ایک رام مندرکامہانت اور پجاری یہی دعویٰ کرتا ہے، بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں قومی سطح پر جو حالات پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد ہوا ، ہندو اور مسلمان کے درمیان خلیج پیدا ہوئی۔ دہلی ،ممبئی ، کولکتہ ، احمد آباد ، حیدرآباد ، بھوپال سمیت تقریبا ہر بڑے چھوٹے شہر میں بدامنی پھیل گئی ، ان حالات کے لیے صرف اور صرف نرسمہا راو ¿ ہی قصوروار تھے۔ان کی بھی بڑی عجیب داستان ہے ،علالت اور ضیعف العمری کی وجہ سے آنجہانی راجیو گاندھی نے نرسہما راو کو لوک سبھا لڑنے کا ٹکٹ تک نہیں دیا تھا ،لیکن واہ ری قسمت راجیو گاندھی کے قتل کے بعد کانگرس پارٹی میں ایک بزرگ لیڈر کے طور پر انہیں کانگریس کا کارگزار صدر بنا دیا گیااور انہوں نے کمال ہوشیاری سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد 1991 سے 1996 تک ایک اقلیتی حکومت کے وزیرِاعظم کی حیثیت سے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور اقتدار کے لیے بدعنوانی کا ان پر الزام عائد کیا اور ہرشد مہتا شیئر بازار گھوٹالہ بھی راﺅ کے دورمیں پیش آیا تھا۔
پی وی نرسہما راوکے دور میں ہی نوے کے عشرے میں ملک میں آنے اقتصادی تبدیلیوں کا آغاز کیاگیا ۔ نرسہما راو ، نہرو ۔گاندھی خاندان سے تعلق نہ رکھنے والے ایسے وزیرِاعظم بن گئے تھے ،جنہوں نے دفتر میںپانچ برس کی مقررہ مدت پوری کی۔انہوںنے اقتصادی اصلاحات کے بہتر اقدام ضرور ہوئے ،لیکن دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی مسماری نے ساری چیزوں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔پہلے ذکرآیا ہے کہ نرسمہا راو کے بارے میں مودی نے تعارف کراتے ہوئے انہیں کئی زبان کا جاننے والا قراردیا،جی ہاں یہ سچ ہے کہ وہ اردو کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی بھی روانی سے بول لیتے تھے ،لیکن ان کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اقلیت کے دوست نہیں تھے ،کیونکہ پہلے حیدر آباد کی نظام حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور پھر 1970کے عشرے میں زمینی اصلاحات کا قانون نافذ کیا تاکہ نظام مملکت کی زمین پر قبضہ کیا جاسکے ،جس سے اقلیتی فرقہ ہی متاثر ہوا،جبکہ سنگھ پریوار کی تلنگانہ تحریک میں بھی راﺅ پیش پیش رہے اور حیدرآباد پولیس ایکشن میں بھی ان کا رول مشتبہ رہا ہے۔ راجیو گاندھی کے قتل نے انہیں دوبارہ عملی سیاست میں داخلہ دے دیا تھا۔اور پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر فائزہونے کے بعد ملک کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی ،لیکن نرسمہا راو ¿ نے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے،درپردہ سنگھ پریوار کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا تھا۔ 1957 سے انہوں نے سیا ست میں قدم رکھنے والے جنوبی ہند کے پہلے سیاستداں تھے ،جوکہ وزارت عظمیٰ کے مسندپر براجمان ہوئے تھے۔
اپنی صفائی میں باقی زندگی باتیں کرتے رہے اور” اجودھیا 6 دسمبر 1992“نامی کتاب کا مسودہ اس وصیت کے ساتھ چھوڑگئے کہ اس کتاب کو ان کی موت کے بعد شائع کیا جائے۔ ہے اور اسے پینگوئن نے 1 اگست 2006 کو شائع کیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک کتاب ”خود صداقت یا جواز کی مشق“ نہیں ہوتی ہے ، لیکن اس کتاب کے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ انہوںنے خود کو اور اپنی حکومت کو ذمہ داری سے مستثنیٰ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور ایسی علامتیں ملتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ بابری مسجد کی مسماری کو روکنے میں ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہے۔ نرسمہا راو نے جون 1991 میں اپنا عہدہ سنبھال لیا تھا ، اور اس وقت تک رام جنم بھومی۔ بابری مسجد مسئلہ پہلے ہی سنگین رُخ اختیارکرچکا تھا ، جس میں اس معاملے کو حل کرنے کے مداخلت کی ضرورت تھی،لیکن ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ،کتاب دو حیران کن سوالات کے جوابات کے بجائے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے ، یعنی پورے ہندوستان سے ہندوﺅں کے مقدس شہر اجودھیا میں ہزاروں کارسیوک مذہبی تبدیلیوں کے پیش نظر ، جن میں سے کچھ نیپال اور دنیا کے دیگر ممالک سے آئے تھے ،انہیں کیوں روکا نہیں گیا ،وفاقی حکومت نے متنازعہ ڈھانچے کے تحفظ کے لئے ضروری اور مناسب اقدامات کیوں نہیں کیے اور اگر کیے تو عمل آوری کیوں نہیں ہوئی تھی۔ انہوںنے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 356 کی استدعا کرتے ہوئے ، کلیان سنگھ کی سربراہی میں ، اترپردیش حکومت کے برخاست نہ ہونے کی وجہ نہیں پیش کی ہے، کتاب یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ متنازعہ ڈھانچے کو بچانے کے لئے ہندوستان کی حکومت یا ان کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی طرف سے کسی قسم کی کوئی خامی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ”مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی اور اگر ریاستی حکومت کم سے کم وقت میں وہاں موجود مرکزی سلامتی فورسیز کا استعمال کرتی تو بابری مسجدکو 6دسمبر ، 1992 کو یقینی طور پر بچایا جاسکتا تھا۔“ساری ذمہ داری کلیان سنگھ سرکار پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔بابری مسجد کے معاملہ میں حیرت انگیز طور پر بعد میں لبراہن کمیشن نے وسیع سماعت اور چھان بین کے بعد پی وی نرسمہا راو ¿ کوکلین چٹ دے دی ہے اورسارا دوش ریاستی حکومت اور گورنر پر ڈال دیا۔
نرسمہاراﺅ نے اپنے آخری دورمیں صحافی شیکھر گپتا کے ساتھ ایک ملاقات میں بابری مسجد کے انہدام سے متعلق بڑی ہٹ دھرمی سے واضح کیا کہ ” وہ قوم پر سیکڑوں اموات کے اثرات کے پیش نظرمحتاط رہے تھے ، اور اگر اُس روزکارروائی ہوتی تو اس سے بھی بدتر صورتحال ہوسکتی تھی اور اسے اس منظر نامے پر بھی غور کرنا پڑا جس میں شاید حفاظتی دستوں کے چند اہلکار مڑ کر ہجوم میں شامل ہو گئے ہوں۔ کلیان سنگھ کی حکومت کو برخاست کرنے کے بارے میں ، نرسمہاراﺅکا کہنا تھا کہ صرف برخاستگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنا اقتدار سنبھال لیں۔ اس میں ایک دن یا تو مشیروں کی تقرری ہوتی ہے ، انہیں ریاست کاانتظام سنبھالنے کے لیے لکھنو ¿ بھیج دیا جاتا ،لیکن اس دوران ، جو ہونا تھا وہ ہوچکاتھا اور اس کے لیے ریاستی حکومت زیادہ ذمہ دار رہی ہے۔“ البتہ دوبارہ مسجد کی تعمیر کے قوم کے نام خطاب میں کئیے گئے وعدہ پر ان کی زبان سُن پڑگئی تھی۔
نرسمہاراﺅ نے اپنی صفائی پیش کرنے میں پوری طاقت لگا دی تھی، لیکن 6دسمبر 1992کو ان کی پُراسرارخاموشی کے متعلق انہوں نے ہمیشہ گول مول جواب دیا ،انہوںنے درپرہ جس ایجنڈے پر کام تھا ،اس کے لیے صف اوّل میں رہنے والے بی جے پی کے رہنماءآج ان کی تعریف کے پُل باندھنے سے نہیں تھک رہے ہیں۔اور ان کی شخصیت ’مہان اورودوان ‘ کے طورپر پیش کی جارہی ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ان باتوںکو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئیے کہ آخر ایک کانگریسی کی مودی کیوںتعریف کرنا پڑی ،وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ان کی ستائش کرنے اور ان کی عمر کے 100ویں سال کاذکر کرنا کوئی عام بات نہیں ہے ،بلکہ اجودھیا تنازع نے جو رُخ اختیار کیا ہے ، وہ ان کی جیت ہے اورنرسمہاراﺅ کا ذکر انہیں شاباشی اور پیٹھ تھپتھپانے کے مترادف ہے۔ کچھ بھی ہو،لیکن ایک عام ہنبدوستانی کی نظرمیں نرسمہاراو بابری مسجد کی شہادت کے گہنگارہیں۔کیونکہ انہوں نے اس معاملہ میں پراسرار خاموشی اختیار کی اور راز کو سینے میں لے کر چلے گئے۔ اگر وہ بابری مسجد کی حفاظت کے بارے میں اتر پردیش حکومت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ پربھروسہ نہ کرتے ہوئے ریاست اور ایودھیا اور فیض آباد ضلع کی سرحدوں کو سیل کروادیا جاتا تو بابری مسجد کا سانحہ نہیں پیش آتا۔اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا کہ نرسما راو نے کا نگریس کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا کام بھی کیا تھا،واضح رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مرکزمیں کانگریس اکثریت کے ساتھ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔
دوسری طرف غور کیا جائے تومحسوس ہوگا کہ 6دسمبر 1992کے واقعہ نے ملک کی تاریخ کا دھارے کوموڑ کے رکھ دیا ہے ، یاد رہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ بابری مسجد ہی نہیں بلکہ ہرایک مسجد مسلمان کے لیے قابل احترام ہے ،گزشتہ چھ سال کے دوران اورپھر حال میں سی اے اے ،این آرسی کی تحریک اوردلی فساد میں اقلیتی فرقے کے ساتھ ہوئے بلکہ جاری نارواسلوک اور کورونا وائرس کو پھیلانے کا الزام ،چھ سال سے جاری موب لنچنگ وغیرہ سے ملک میں مسلمانوں کی حالات کاسبھی کو علم ہے،لیکن حالات نے ہمیں مصالحت کی چادر اوڑھنے پر مجبور کر دیا ۔

javedjamaluddin@gmail.co9867647741

Article by Javed Jamaluddin on Narsimharao
 Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.
Sada Today web portal
؎

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here