لاک ڈائون میں رشتوں پر مبنی بہترین منی کہانی۔ بھائی ۔محمد سراج عظیم

0
492
لاک ڈائون میں رشتوں پر مبنی بہترین منی کہانی۔ بھائی ۔محمد سراج عظیم
لاک ڈائون میں رشتوں پر مبنی بہترین منی کہانی۔ بھائی ۔محمد سراج عظیم

آج لاک ڈائون کو دس دن ہو گئے تھے۔سب گھر میں محصور دل ودماغ پر اک نابیان کردہ خوف۔اس کی کیفیت عجیب تھی چہرے سے تفکرات واضطراب عیاں تھے۔اس کی بیوی کئی دن سے اسکی حالت دیکھ رہی تھی آج وہ کچھ زیادہ ہی بے چین تھا
بیوی سے رہا نہ گیا” کیا بات ہئے کئی دن کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں”
ن!!نا!! نہیں  تو”اچانک بیوی کے استفسار پر وہ گھبرا گیا
“نہیں میں مان نہی سکتی مجھ سے چھپا رہے ہیں”بیوی نے اصرار دیتے ہوئے کہا
“و !وہ!!وہ شیراز کی یاد ارہی ہئے۔پتہ نہی کیا حال ہوگا بچوں وغیرہ کے کھانے وانے کا انتظام ہئے کہ نہی”اس نے پرتفکر لہجے میں کہا
“ایسا کچھ نہی ہئے سب ہوگا”بیوی نے انکھون کو خفیف سا گھماتے ہوئے کہا
“نہیں تم پتہ نہی پچھلے دو تین سالوں میں اسکا سارا کاروبارختم ہوگیا ہئے بہت بری حالت ہئے مجھے معلوم ہئے سوچ رہا ہوں کچھ کھانے پینے کا سامان دے آوءں کسی طرح”اس نے کرب سے کہا
“اپ بہت سیدھے اور رحم دل ہیں اس کی بیوی اور اس نے پتہ نہی کس بات کا بیر باندھا ہئے ہم سے یاد ہئے پندرہ سال ہوگئے اپ کو سلام کرے ہوئے اپ کو دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہئے اب جائیں گے منہ کی کھاکر آئیں گے اس کی بیوی سب اتار کے رکھ دےگی اور خود وہ کیا کم ہئے” بیوی تیوری چڑھاتے ہوئے ترش لہجے میں بولیارے ہوگا!!وہ اس کا فعل ہے میرا اللہ جاننے والا ہے میرے دل میں اس کی طرف سے کچھ نہی ہے لائو سامان نکالو اور بیک پیک کردو میں دے کر آتا ہوں” اس نے بیگ پشت پر ٹانگاہی تھا کہ کمرے سے اسکا سترہ سال کا بیٹا نکل ایا “کیا بات ہے پاپا؟ کہاں جارہے ہیں ”
“تمہارے شیراز چاچا کو کھانے پینے کا سامان دینے جارہے ہیں” ماں کا انداز طنزیہ تھا۔کیا پاپا شیراز چاچا کے یہاں؟پاپا آپ کو کچھ لگ نہیں رہا۔ ان کے بچے تک تو سلام کرتے نہیں ہین آپ کو جبکہ ہم نے اج تک ایسا نہی کیا”اسکے بیٹے نے کہا
“بیٹا تمہارا یہ نیک عمل ہے ہم نے تمہیں غلط تعلیم نہی دی جس کا یہ نتیجہ ہے۔ پر بیٹاہے تو وہ بھائ نہ اس کی رگوں میں بھی میرے ماں باپ کا خون دوڑ رہا ہے جو مجھ میں دوڑ رہا ہے”اس نے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا
“لائیئے تو میں دے آتا ہوں”بیٹا بولا
“نا!!بیٹا نا!! باہر پولس مار پیٹ کر رہی ہئےلڑکوں کا تو برا حال کئے دے رہی ہے میں توبزرگ ہوں مجھے تو کچھ کہیں گے نہیں بس دیکر ابھی آتا  ہوں ۔چوراہے کے پار اس کے گھر تو ہی جانا ہے”یہ کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا
سڑک دور تک سانپ کی طرح دکھائ دے رہی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اس کو اتنی ویرانی دن میں نظر آئ صرف چند پولس والوں کے کوئ نہ تھا ایک نوجوان پولیس والے نے اسے روکا”انکل کہاں جا رہے ہو”
“بیٹا اپنے چھوٹے بھائ کے یہاں کھانے کا سامان دینے جا رہا ہوں”اس نے بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“آگے صاحب بیٹھے ہیں انھیں صحیح بات بتا دینا” پولیس والے نے اسے جانے دیا وہ جیسے ہی چوراہے پر پہنچا انسپکٹر نے اسے اواز دے کر روک لیا”او!! او کدھر جا رہا ہے”
اسے انسپکٹر کے تخاطب پر جھٹکا لگا وہ تلملا کر رہ گیا”جی بھیا میں بھائ کے گھر یہیں چوراہے کے اس طرف کھانے کا سامان دینے جا رہا ہوں”
“کیوں بھائ ہم یہاں تجھے چ۔۔۔۔۔ نظر اہے ہیں “انسپکٹر کڑکتی اواز میں بولا
“نہی بھائ ہم نے آپ سے کہاں ایسا کچھ بولا” بہت لجاجت سے اس نے کہا”بھیا ہمارے بھائ کے یہان کھانے کے لئیے کچھ نہی ہے اس لئیے یہ سامان لیکر جا رہے تھے آپ۔۔۔” ابھی اسکا جملہ پورا بھی نہی ہوا تھا کہ انسپکٹر کا ڈنڈا گھوم گیا اور زبان پر مغلظات آگئیں اس کی انکھوں کے سامنے تارے ناچ گئے اور اور وہ تکلیف کی شدت سے لڑ کھڑا گیا یکلخت اس نے اپنے ہواس مجتمع کئے تکلیف کے باوجود وہ چوراہے کی دوسری جانب پوری قوت سے بھاگ کھڑا ہوا انسپکٹر اس پر گالیوں کی بوچھار کرتے ہوئے دوڑا لیکن وہ کہیں تیز رفتاری سے بھاگ رہا تھا انسپکٹر نے گندی سی گالی دیتے اپنی لاٹھی پھینک کر ماری اسکی رفتار تیز ہونے کے باوجود لاٹھی اس کے ٹخنے پر لگی اسکو لگا کہ اس کے کسی نے بھالا پیوست کر دیا وہ چکرا کر گرتا کہ اپنی قوت ارادی پر تکلیف کو حاوی نہ ہونے دیا اور بھاگتا ہوا بھائ کی گلی مین گھس گیا تیسرے مکان کی پہلی منزل پر چڑھکر بھائ کے فلیٹ کے دروازے پر لگی کال بیل پر ہاتھ رکھ دیا اس کا سانس بےقابو تھا انکھوں میں اندھیرا چھا رہا تھا جسکی وجہ سے وہ آنکھیں پھاڑے دے رہا تھا سینے میں شدید تکلیف شروع ہوگئ تھی ٹخنہ شائید ٹوٹ گیا تھا گھنٹی پر مستقل دبائو پڑنے کی وجہ سے فلیٹ میں آواز کا کہرام مچ گیا تھا اسکا بھائ اور بھاوج دروازے پر گبرائے ہوئے پہنچے اندر کادروازہ کھول کر جالی کے دروازے سے انھوں نے پوچھا” کون؟”
“بھیا!!!م!!میں!!!میں۔۔۔فراز۔۔!! یہ!!تمہا۔۔۔۔رے ۔۔۔۔۔ لئیے۔۔۔کھا۔۔۔نے ۔۔۔۔کا!!!!! سا۔۔ما۔۔۔ن۔۔لا۔۔یا ۔۔۔۔تھا۔۔۔ پولی۔۔۔س” یہ کہتے کہتے اس کے منہ سے خون نکلا اور وہ دھڑ سے زمین پر گر گیا اور ان واحد میں روح قفس عنصری سے پرواز کر گئ
“بھائ صاب”کہتا ہوا سرفراز جیسے ہی آگے بڑھنے کو ہوا اس کی بیوی نے ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کہا پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔ جو باہر جارہے ہو۔۔۔ یہیں آکے مرنے کو رہ گئے تھے دیکھو کیا ہو اندر چلو مصیبت میں پھنس جائوگے” دانت پیستے ہوئے اس کی بیوی نے کہا اور دروازہ بند کر لیا

سراج عظیم

article by siraj azeem

afsana bhaai

sada today urdu news portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here