Home زبان و ادب ارد و ادب بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم بنات کا فساد ذدگان اور لاک ڈائون...

بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم بنات کا فساد ذدگان اور لاک ڈائون سے متاثرغریبوں کی مدد کا بے مثال کارنامہ

0
168
بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم بنات کا فساد ذدگان اور لاک ڈائون سے متاثرغریبوں کی مدد کا بے مثال کارنامہ
بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم بنات کا فساد ذدگان اور لاک ڈائون سے متاثرغریبوں کی مدد کا بے مثال کارنامہ

بنات خواتین کی ایک ایسی ادبی تنظیم ہے جس میں پورے ہندوستان سے ادب وثقافت سے وابستہ خواتین کی نمائندگی ہے ۔ایک ایسی تنظیم جو سیمینار،مشاعروں اور ادبی محفلوں میں پیش پیش رہنے کے ساتھ ساتھ دہلی فساد ذدگان کی تو خاموشی سے مدد کر ہی رہی ہے لیکن اس لاک ڈائون میں غریبوں،محتاجوں اور دہاڑی مزدوروں کو ضروریات ذندگی فراہم کرنے کا بھی کام انجام دے رہی ہے۔بنات نے اب تک 500سے ذیادہ مجبور اور روزی روٹی کو ترستے بے سہارا لوگوں کے اہل خانہ کو راشن کٹ تقسیم کی ہیں ۔اس کے علاوہ دہلی فساد میں جو لوگ پوری طرح اجڑ چکے تھے بنات نے ان کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لئے نقدی بھی دی ہے۔اور یہ نقدی امداد 5سے20ہزار تک کی ہے ۔اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔بنات کی صدر اور مشہور افسانہ نگار ، نگار عظیم نے خود ان علاقوں کا دورہ کرکے پہلے سارے ضروورت مندوں کی فہرست مرتب کی ۔پھر کس کو کس چیز کی ضرورت ہے کس کو کاروبار شروع کرایا جاسکتا ہے کس کو راشن کٹ کے ساتھ ساتھ اور کیا ضروریات ذندگی کی ضرورت ہے اس کا خیال رکھا گیااور سب سے اہم اور قابل تعریف بات یہ رہی کہ راشن کٹ بنواتے وقت اس بات کابھی  خاص خیال رکھا گیا کہ کسی گھر میں لڑکیاں ہیں یا حاملہ خواتین ہیں تو انکی اہم ضرورتوں کو دھیان میں رکھ کر کٹ تیار کروائ جائے۔ اس کے حساب سے کچھ سرگرم کارکنان کی مدد سے پوری طرح منظم طریقے سے اس کار خیر کو انجام دیا گیا۔ یہی نہیں ضرورت مند افراد کو کہیں ایک کوئنٹل چاول کہیں آٹا ۔کہیں 60کلو چنا ،کہیں 50لٹر تیل اور دوسری ضروریات ذندگی کا سامان مہیا کرایا گیا ہے۔جامعہ میں بھی شاہین باغ ،حاجی کالونی،قادری مسجد،علی وہار۔جولینا،بٹلہ ہاوس،ذاکر نگر،وغیرہ میں دو دو بار غریب ای رکشا والوں اور دہاڑی مزدوروں کو مدد پہنچائی گئی ۔اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

صدا ٹوڈے کی یہ خواہش تھی کہ ان لوگوں کے نام ہی پتہ چل جائیں جو اس کار خیر میں شامل رہے ہیں لیکن صدر صاحبہ نے سختی سے یہ کہ کر انکار کردیا کہ بنات نہ تو یہ چاہتی ہے کہ مدد کرنے والوں کے نام ظاہر ہوں اور نہ ہی یہ چاہتی ہے کہ جن کی مدد کی گئی ہو ان کی شناخت سامنے آئے لیکن یہ ضرور ہے کہ بنات کی نہ صرف بہنوں نے بلکہ بہنوں کی بہنوں اور عزیز واقارب کے ساتھ ساتھ انکے دوست احباب نے بھی مدد کی ہے ۔اس کے علاوہ بنات کے باہر کے بھی کچھ دوست احباب اور ادیب شامل ہیں ۔اس کے لئے بنات کی بہنوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔صدر صاحبہ نے اپنی بناتنوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔اور دوست ادیبوں کا بھی۔نگار عظیم صاحبہ نے بتایا کہ دہلی فساد کے بعد بنات کی طرف سے یہ پروپوزل آیا کہ کچھ فلاحی کام شروع کیا جائے اور دہلی فسادذدگان کی مدد کی جائے ۔پھر صدر صاحبہ کی بھی خواہش رہی کہ بنات کی طرف سے فلاحی کام کا آغاز ہو۔سب نے لبیک کہا اور پھر جہاں چاہ وہاں راہ۔سب کام آسان ہوتا گیا۔نگار صاحبہ لگاتار فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرتی رہیں مصطفی آباد ،الہند اسپتال،گھونڈا ،شو وہار،سیلم پور،بھاگیرتھ وہار،عید گاہ وغیرہ کا دورہ کرتے ہوئے انھوں نے اچھی طرح یہ پتہ کرلیا کہاں کس چیز کی ضرورت ہے۔اور اس طرح فلاحی کام ہوتا رہا ۔،کسی کو سبزی کی دکان کے لئے کسی کو نائی کی دکان دوبارہ شروع کرنے کے لئے غرض یہ کہ بازآباد کاری کے لئے بنات نے بہت مدد کی ۔اور اس کے بعد کورونا کے قہر نے رہی سہی غریبوں کی کمر بھی توڑ دی ۔اور پھر بقول صدر صاحبہ کہ وہاں دوبارہ جانا مشکل ہوگیا تو پھر کچھ سرگرم کارکنان کی مدد سےراشن کٹ جس میں دس کلو آٹا ،پانچ کلو چاول،تین کلو دال،دو کلو تیل،مصالحے ،چینی ،چائے کی پتی ،صابن وغیرہ شامل تھے ۔تقسیم کی گئیں ،ڈاکٹر نگار عظیم نے بتایا کہ سورت میں کچھ لوگ پھنسے ہوئے تھے ان کی بھی آن لائن پیسے بھیج کر مدد کی گئی ۔جامعہ میں 10طلبہ پھنسے ہوئے تھےان کی بھی راشن اور پیسوں سے مدد کی گئی اس کے علاوہ کے علاوہ امداد پانے والوں میں دلی میں پھنسے سیمانچل اور پوروانچل کے مزدور اور رکشہ چلانے والے غریب کنبے بھی شامل ہیں جو کام ادب سے شروع ہوا وہ سماج کے سروکاروں سے براہ راست جڑ گیا۔ادب کو زمانے کی تاریخ سمجھنے کی کنجی کہنا غلط نہیں ۔بنات اس تاریخ میں اپنا کردار نبھا کر دستاویز کا حصہ بن گئ ہے۔جب تک خاموشی سے کام ہو رہا تھا محدود تھی ۔اب خبر کے ذریعے دھنک رنگی ہو گئ ہے توذمہ داریاں کئ گنا بڑھ گئ ہیں اور توقعات بھی۔یہ فلاحی کام ابھی تک جاری ہے ۔روز ہی ضرورت مندوں کو راشن کٹ پہنچائی جارہی ہیں ۔ہندوستان میں بے شمار ادبی تنظیمیں ہیں لیکن کسی بھی ادبی تنظیم نے ابھی تک غریبوں کی مدد کو اہمیت نہیں دی نہ ہی کوئی تنظیم آگے آئی۔لیکن بنات نے اپنے محدود وقت میں اپنی شناخت بھی بنائی ہے اور یہ بھی ثابت کردیا کہ انسانی ہمدردی اور مدد سے بڑھ کر کوئی تنظیم دلوں کو نہیں جیت سکتی اور ارادے مضبوط ہوں تو کوئی بھی مجبوری آڑے نہیں آسکتی بقول مجروح
دیکھ ذنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پائوں کی زنجیر نہ دیکھ

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here