ایودھیا فیصلے پر عالمی میڈیا نے کیا کہا ؟؟جانئے آپ بھی

0
67
ایودھیا فیصلے پر عالمی میڈیا نے کیا کہا ؟؟
سپریم کوٹ کے فیصلے نے پوری دنیا میں الگ طرح سے پیغام دیا ہے ۔اس فیصلے پر پوری دنیا کی نظر تھی ۔سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ 9 نومبر کو پوری دنیا میں سرخیوں میں تھا ۔ اس فیصلے کو دنیا کے متعدد اہم اخبارات اور نیوز چینلوں نے ترجیح دی۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ زمین کو مندر کو دیا ہے۔ وہیں مسجد کیلئے الگ سے زمین دینے کیلئے کہا ہے۔

سپریم کوٹ کے فیصلے نے پوری دنیا میں الگ طرح سے پیغام دیا ہے ۔اس فیصلے پر پوری دنیا کی نظر تھی ۔سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ 9 نومبر کو پوری دنیا میں سرخیوں میں تھا ۔ اس فیصلے کو دنیا کے متعدد اہم اخبارات اور نیوز چینلوں نے ترجیح دی۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ زمین کو مندر کو دیا ہے۔ وہیں مسجد کیلئے الگ سے زمین دینے کیلئے کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو بھی خارج کردیا ہے۔اب عالمی میڈیا نے اس کو کیسے لیا ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے
اگر پاکستان کی بات کریں تو وہاں پر اس فیصلے پر سوال ہی اٹھائے گئے۔ پھر چاہے وہاں کے لیڈر ہوں یا پھر وہاں کی میڈیا۔ پاکستانی لیڈران کے بیان پر ہندوستان نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے ہندستان کے اندرونی معاملوں پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہیں پاکستانی چینل جیو ٹی وی نے لکھا ہے۔ ہندستانی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین مندر کیلئے دے دی۔ مسلم فریق کو دوسری جگہ زمین دینے کو کہا ہے۔

امریکی اخباروں نے اس مسئلے پر لکھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا، ہندستانی کورٹ نے ایودھیا متنازعہ میں ہندوؤں کے حق میں فیصلہ سنایا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، ‘سپریم کورٹ نے ہندستان میں متنازعہ زمین پر مندر بننے کا راستہ صاف کیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا،” ہندستانی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئےمتنازعہ ارضی پر مندر بننے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ مسلم فریق کو الگ سے پانچ ایکڑ زمین دینے کا بھی حکم دیا
برطانوی اخباردا گارڈین نے لکھا ، ‘ایودھیا فیصلہ متنازعہ اراضی پر ہندو فریق نے جیتاکیس۔متحدہ عرب امارات کے اخبار گلف نیوز نے لکھا ہے ، ‘ ہندوؤں کو متنازعہ اور مسلمانوں کے لئے متبادل زمین ‘۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے ذریعہ سنایا جانے والے فیصلے کے تمام اہم پوائنٹس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
قطر میں واقع نیوز چینل الجزیرہ نے بھی اپنی ویب سائٹ میں ایودھیا فیصلے سے متعلق متعدد نیوز رپورٹس کو اہمیت دیتے ہوئے شائع کیا ہے۔ پاکستان کے معروف اخبار ڈان نے متنازعہ اراضی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کو متبادل اراضی کے طور پر دینےوالی بات کو سرخی بنایا۔ ڈان نے اس فیصلے کے اس پوائنٹ کا بھی ذکر کیا جس میں پانچ رکنی بنچ نے متنازعہ ڈھانچے کو مسمار کرنے کی بات قبول کی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here