عائشہ کی کودکشی کوا س زاویہ سے بھی دیکھناچاہیئے

0
131
عائشہ کی کودکشی کوا س زاویہ سے بھی دیکھناچاہیئے
عائشہ کی کودکشی کوا س زاویہ سے بھی دیکھناچاہیئے

؎ ہواہے جب سے دلِ نا صبور بے قابو
ٓدنیامیں فی سیکنڈ لاکھوں حادثے اورموتیں ہوتی رہتی ہیں مگران میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جواپنے کچھ خاص نقوش چھوڑجاتے ہیں ،اسی قبیل سے بھی احمدآباد کی مشہور سابرمتی ندی میں غرقاب ہونے والی عائشہ عارف(اللہ اس کوبخشے) کی خودکشی کی خبربھی ہے۔ جس پر کئی مشہورکالم نگاروںسے لے کرہندستان کی مؤقر مسلم تنظیم مسلم پارسنل لاء بوڑکے جنرل سکریٹری (حفظہ اللہ) تک کے مضمون پراحقرکی نظر ہے،مگر عائشہ کی موت کے ساتھ ایک تشویشناک اورقابل افسوس پہلو یہ بھی ہے ان میں اکثرکانقطۂ نظرتقریباََ ایک جیسا ہی ہے ، کہ عائشہ کے خوکشی کے اقدام کے پیچھے اس کے شوہرکی جانب سے بار،بارجہیزکاسخت مطالبہ کارفرماہے، مجھے اس کے بدنصیب مردکے وکیل دفاع کاکرداراداکرنے کاکوئی شوق نہیں، اورنہی الحمدللہ والمنۃمیں اپنی ازدواجی زندگی میں کسی الجھن اورچپقلش کا شکار ۔
لیکن پھربھی آپ کے ساتھ اپنی یہ با ت شیئرکرنے کاحق دارہوں کہ آپ اس معاملہ کو یک طرفہ طورپردیکھنے کی غلطی میں تومبتلانہیں ؟اس موضوع پرآپ کوایک دسرے پہلوسے بھی غورکرناچاہیئے کیونکہ آپ اورہم سب نے ابھی تک جتنی بھی آڈیو،ویڈیودیکھی یاسنی ہیں وہ مرحومہ عائشہ یااس کے والدین کی ہیں، اس کے ملزم شوہرکاتوکوئی بیان کسی کوسننے اوردیکھنے کوکہیں نہیںملا،جس سے آپ اس حادثہ ٔناگہاں کی اصل حقیقت اوردرست صورت حال تک ایک انصاف پرست شخصیت کی
حیثیت سے غورکرسکیں کیونکہ دنیاکی کوئی بے ایمان سے بے ایمان عدالت یک طرفہ بات سن کے فیصلہ نہیں کردیتی چاہے اس کی نیت ہمارے ایک سابق چیف جسٹس کی طرح کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو؟مگر مدعاعلیہ کی جرح بھی سننے کی روایت لازمی طورپربرقرار رکھی جاتی ہے۔
یاپھرکہیں ایساتونہیں کہ ہم بھی رات دن گودی میڈیاکو سن، سن کر اسی کا مذموم کرداراداکرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
اس لئے مذکورہ سانحہ پر اس پہلوسے بھی غورکیاجاناچاہیئے کہ عائشہ مرحومہ کے شوہرکو جہیزکے مطالبہ کے ساتھ اپنی بیوی یااس کے سرپرستوں سے کوئی دیگر شکایات تونہیں رہیں ؟
خدانہ کرے کہ عائشہ کسی ذہنی استحصال یاجلدبازی کاشکارہوکراپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھی ہو، یہ بات میں اس لئے کہہ رہاہوںکہ مشہور قول ہے ’بدیٔ مُردہ سودندارد،۔
عورتوں کی خودکشی ، خود سوزی اور اتفاقی اموات کااگرآپ تجزیہ کرنے لگیں تو معلوم ہوگا اکثر مقدمات میں بادی النظرمردہی کو خاطی کی نظرسے دیکھاجاتاہے، چاہے بعد تفتیش اورتحقیق قصوروارعورت ہی ثابت ہو مگرہمارے معاشرہ کی ایک مشہور روایت یہ بھی ہے کہ اکثر ’مہیلا سیل ، اور ہمارے ملک کی چھوٹی بڑی تقریباََ تمام ہی عدالتوںکازاویہ نظر میاں، بیوی کے جھگڑے میں شوہرکوہی قصوروارماننے کا چلاآتاہے، تواس معاملہ میںبھی شایداپنی اسی پرانی روش پر نہ ہوں؟
نیزایک غضب کی بات یہ بھی ہے کہ عائشہ مرحومہ کی وفات پر ہمارے نومشق مفتیان کرام کوبھی اپنے لئے سامان تسلی فراہم ہوگیااورانھوںنے اس کے لئے حدیث رسولﷺ (اگرکسی نے خودکشی کی تواللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں ڈالدے گا اوروہ انسان بار باراسی چیز سے خودکوہلاک کرتارہے جس سے اس نے اپنی خودکشی تھی؛سنن نسائی،ج ۳:۳۸۰۳) کی بنیاپرجہنم رسیدکا فتویٰ صادرکر کے عائشہ پرخداکی بے پایاں رحمت اورجنت کے وسیع دروازے تنگ کردئے ۔
البتہ مجھے اس معاملہ میں اسلامک اسکالر جناب یاسرندیم کا موقف اوران کی وضاحت بہت اچھی معلوم ہوئی کہ ’’بہت ممکن ہے مرحومہ اپنے اقدام غرق سے قبل ایک ایسے مرض کا شکارہوچکی ہو جہاں انسان کو اپنے اچھے ، برے کی تمیزختم ہوجاتی ہے وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکارہوجاتاہے،، یعنی دماغی مرض(Bipolar disorder) نیز ماہرین نفسیات کے نزدیک اس مرض کا شکارمردوں کے بہ نسبت لڑکیاں اورخواتین جلدی ہوجاتی ہیں۔
اوربات رہی دنیامیں خودکشیوں کی توچونکہ عام لوگوں اورغیرمسلم حضرات کی نظر میں موت کے بعد والی زندگی، حساب ، کتاب کا کوئی تصورنہیں اوران کے نزدیک آواگون(آمدورفت) کامعاملہ ہے ، کہ اگرآج چلے گئے توکل پھرلوٹ کرآجائیںگے، اس لئے ان کی نظرمیں یہ ایک کھیل ڈرامہ سے زیادہ کچھ نہیں۔
شوہروں کی بے قصوری سرگزشت: میں اپنے قریب کی کئی فیملی کوجانتاہوں کہ وہاں مرد بالکل بے قصور اورساراقصور خاتون خانہ کاہے، مثلاََ میرے ایک خاص معتمدکے بیان کے مطابق ابھی شمالی دہلی کے بھجن پورہ علاقہ میں ایک نوجوان جوڑاتھا ، شوہرشام کو کام پرسے لوٹ کے آیا ،اہلیہ سے چائے بنانے کوکہا، چائے کاپہلوگھونٹ بھرتے ہی بولا:کیاآج ساری چین اسی ایک کپ چائے میں ہی ڈالدی؟
شوہر کااتناکہناتھا کہ بیوی چھوٹتے ہی بولی:تونے کیاکہا؟ذرادوبارہ کہہ۔ شوہرنے جیسے ہی وہ جملہ دوبارہ دہریا، عورت چھوٹتے ہی شوہرکی ماں، بہنوں کو مادرزاد گالیاں بکنے لگی۔ شوہرنے کہا:زبان اندر کر، ورنہ براہوجائے گا۔
بیوی چیخ کو بولی: تیری ماں کا۔۔۔۔۔۔۔۔ اگرتومردکابچہ ہے اورتونے کسی کُتیانہیں بلکہ عورت کا دودھ پیاہے، تو تُومجھ کوابھی اسی وقت طلاق دے، اور طلاق نہ دے تو تیری ماں کا۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر وہ بھی پوراہی مرد تھا فوراََ ہمارے سماج کی طرح تین نالی بندوق کھولدی ، معاملہ ختم۔ اب سب رشتہ دار اورعزیز پریشان ہیں،مگر سب لاحاصل ہے۔

اسی طرح ایک سانحہ ہے کہ چار، پانچ سال پہلے کاایک اور واقعہ بھی اسی طرح رونماہو اکہ جوان بیوی کی بدکرداری کے چرچے عام ہونے لگے تو شوہرنے ایک دن طیش میں آکر اس سے یہ سول کرلیا، کی تیرانام’ تمنّا، ہے ابھی تو اورکتنے مردوں کی ’تمنّا، پوری کرے گی؟
اس عورت نے شوہر کودوٹوک جواب دیا: کہ ہاں! میرانام تمناہے، اورجوبھی مجھ سے تمنارکھے گامیں ہر اس لڑکے کی تمناپوری کروںگی۔
بہر اس طرح کی کتنی کہانیاں آپ کے علم میں بھی بہت ساری ہوسکتی ہیں ، میرامقصد تو سماج کو آئینہ دکھاناہے۔
نیزمیرامقصد کسی کی دل آزاری مرحومہ یااس کے سرپرستوںشک کا اطلاق یاان کاکوئی استحصال نہیں بلکہ اس طرح کے کیسومیں گہرے مطالعہ کی دعوت فکر ہے۔
اوربات رہی عائشہ عارف کی موت یااسکے مشتبہ معاملہ کی تواللہ سے میری دعاہے کہ اس کواللہ تعالی انصاف دے ،اورقصوروارکوسزا، نیز مرحومہ کوجنت الفردوس اور اسکے وارثین کو صبرجمیل کی دولت سے نوازے۔آمین ،
ہواہے جب سے دلِ نا صبور بے قابو
کلام تجھ سے نظرکوبڑے ادب سے ہے

(فیض احمدفیض

اکٹرراحتؔ مظاہری

article on ayesha by dr,rahat mazahiri

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here