Home زبان و ادب ارد و ادب روایتوں کو توڑ کر نکل چکی ہیں بیٹیاں .غلام علی اخضر

روایتوں کو توڑ کر نکل چکی ہیں بیٹیاں .غلام علی اخضر

0
84
روایتوں کو توڑ کر نکل چکی ہیں بیٹیاں غلام علی اخضر
روایتوں کو توڑ کر نکل چکی ہیں بیٹیاں غلام علی اخضر

 

 

 

مذہبی، سیاسی اور سماجی طورپر اگرچہ عورت کو کمزور تصور کیا جاتاہو،مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب جب میدانِ جنگ میں مردوں کے قدم لڑکھڑانے لگے ہیں توعورتوں کی للکار نے مردوں کی غیرت کوجگاکربے پناہ قوت بخشی ہے،اور جب خود میدان میں آکر رہبری کی باگ ڈورتھامی ہے تو بڑے سے بڑے سومائوں کو دھول چٹاکررکھ دی ہے۔بلغان خان سے لے کر رضیہ سلطانہ،بیگم حضرت محل اورجھانسی کی رانی تک ایک لمبی فہرست ہے،جس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ عورتیں جہاں چہاردیواری میں رہ کر اپنے گھر کو سنوارتی اورسماج کو خوبصورت ماحول عطاکرتی ہیں تو وہیںاس صفت سے بھی متصف رہتی ہیں کہ اگر حالات اس بات کاتقاضاکریں کہ روایتوں کو توڑ کر سپاہ گری کی ضرورت ہے،تو اس جذبے کے ساتھ نکلنے کوتیار رہتی ہیں ؎
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
آج وجود ِزن کی طاقت کااندازہ انھیں بھی ہوگیا ہے جن کے دماغ میں صدیوں سے عورتوں کے تئیںصنف نازک ہی کا کیڑا رینگ رہا تھا۔ شاہین باغ کی عورتیں کالے قانون کے خلاف آواز بلند کرکے پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز بن گئی ہیں اور آج ملک کا خطہ خطہ شاہین باغ بن چکا ہے۔لکھنؤ گھنٹہ گھر میں عورتوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی ضروریات ؛جیسے کھانے، بچھونے کے سامان پر پولیس والوں کا لوٹ مار، یہاں تک کہ رفع حاجت کی جگہ پر تالا بند کردینا؛یہ واقعات و حادثات موجودہ ہندوستان کی غضب ناک تصویر توپیش کرتے ہی ہیں لیکن یہ بات بھی صاف عیاں ہوجاتی ہے کہ عوتوں کے حق میں حکومت کا حقیقی چہرہ کیا ہے ۔
عالمی پیمانے پر دہلی پولیس کبھی اس قدرسوانہیں ہوئی ہوگی جو آج حکومت کے دبائو میں، بدنام زمانہ کام انجام دے کر ہورہی ہے اور نہ ہی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی امید کمزور ہوگئی ہوگی جو آج دِکھنے کو مل رہا ہے۔یہ تو بات صاف ہے کہ سرکارنے حکومت سے لے کر’کورٹ‘تک کی مَریَادے کواپنی انانیت کو برقرارکھنے کے لیے دائو پر لگادی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب ہٹلر کے خلاف جرمنی میں کسی کو آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی،تو اس وقت بھی ایک لڑکی نے ہٹلر کے بدکرتوتوں کے خلاف آواز بلند کی تھی اور آج جب حکومت NPR،NRCاور CAAکے ذریعے مستقبل میں اپنے کالے ارادے کو تکمیل تک پہنچانے کی خواب دیکھ رہی ہے تو ایسے وقت میں ملک کی جانباز بیٹیوں نے اپنے کردار سے حکومت کے دانت کھٹے کردیے ہیں اورمشکل سے مشکل حالات سے گزر نے کے باوجود ڈٹ کر حالات سے مقابلہ کررہی ہیںاور ملک کو فتنہ پرستی سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہیں تاکہ یہ خوبصورت ملت و محبت کا ہندوستان سداگنگاجمنی تہذیب کاگلستان بنارہے۔اقبال کے اشعار میں وجود زن کی اہمیت اور منزلت کی ترجمانی ملاحظہ کریں ؎
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ مجازؔ وطن کی ان بے باک بیٹیوں کو دیکھنے کے خواہاں تھے کہ اگر حالات ایسے موڑ پہ لاکرچھوڑیں کہ وطن کے لیے اپنے آنچل کو پرچم بنانے کی ضرورت پڑے تو وہ تیار رہیں۔ پرچم بنانے کا فلسفہ ؟تو ظاہر ہے کہ ان کی جانبازی کو طشت از بام ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔آج اگر مجاززندہ ہوتے تو عش عش کرتے اور شاہیں باغ کی عورتوں کے پائوں کی دھول کو سرمۂ جاں سمجھ کر آنکھوں میں لگالیتے۔مجاز کی خواہش شعر میں ملاحظہ کریں ؎
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنالیتی تو اچھا تھا
آج وجود زن شہرکی رونق، تبدیلیوں کی آواز، ہندکی عصمت و تقدیس کی ضامن،سیکولرزم کے تحفظ کی نگہ بان، مردان خردکے لیے غیرت کاسبق ، فخرقوم وملت،بے راہ روی حکومت کے لیے آندھی ،حقیقی آزادی کی بقااوراس کا نام ونشاں بن چکا ہے۔ شاعروں نے بنت حوا کی طاقت اور اہمیت کو تسلیم اپنی شاعری کے ذریعے یوں کیا ہے جس کی تفسیر آج ہروہ ہندوستانی خاتون ہے جو ملک کی خاطر کھڑی ہے ؎
شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں –منیرنیازی
———————
زمانے اب تیرے مد مقابل
کوئی کمزورسی عورت نہیں ہے–فریحہؔ
———————
عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں–زاہد
———————
ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ
وہ دیکھو ایک عورت آرہی ہے–شکیلؔ
———————
زباں پر ہیں ابھی عصمت و تقدیس کے نغمے
وہ بڑھ جاتی ہے اس دنیا سے اکثر اس قدر آگے
مرے تخیل کے بازو بھی اس کو چھو نہیں سکتے
مجھے حیران کر دیتی ہیں نکتہ دانیاں اس کی –مجازؔ
———————
اقبال نے کہا تھا کہ عورتوں کی بصیرت ہی مردان خرد مند کی حقیقی تصویر دکھاسکتی ہے۔ آج ملک جب ایسے دور سے گزرہا ہے کہ پھر کوئی ہم ہی سے اشفاق اللہ خان،بسمل ،جوہر، حسرت موہانی،میرعبدالغفار،بھگت سنگھ،گاندھی،سبھاش چندربوس،سردارپٹیل اور میر عبدالحمید بن کر نکلے اور حکومت وقت کو بتائے کہ ہندوستان کی سکولرزم کی عصمت کو جو تار تار کرنے کوشش کرے گا ہم اس کا تاج اچھالیں گے اور تخت بھی گرادیں گے ،تو ایسے حالات میں پھر رضیہ کی جواں مردی،بیگم کی للکاراور جھانسی کی ہمت ہی کام کرآرہی ہے۔ اقبال کا یہ شعر خوب صادق آرہا ہے ؎
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں، معذور ہیں مردان خرد مند
———————
ماہم ؔنے کہا کہ ؎
کبھی بزار بھی ہوں میں
کبھی غم خوار بھی ہوں میں
اگر کچھ وقت پڑجائے
سنو! تلوار بھی ہوں میں
نظم’’عورت‘‘میں کیفی اعظمی نے کہاکہ ’’اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے ‘‘مگر آج کے دور میں عورت ساتھ چلنے کے خیال کو ہزاروں میل پیچھے چھوڑدی ہے اوربھارت کی نئی تاریخ رقم کرنے میں مردوں سے کہیں زیادہ اہم کردار اداکررہی ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here