شمس الرحمن فاروقی کا شخصی وقار اور تحریری معیار :اجمالی جائزہ

0
96

(پندرہ روزہ عالمی زبان کے حوالے سے)

اسلم چشتی ،پونے

چیئرمین ‘ صدا ٹوڈے اُردو نیوز ویب پورٹل
09422006327
Sadatodaynewsportal@gmail.com
www.sadatoday.com

مرے اندر ہوس کے پتھروں کو
کوئی دیوانہ کب سے سہہ رہا ہے
آنکھوں میں لہو سنبھال رکھنا
اب کے مینا میں مئے نہ ہوگی
چہرے سے کس طرح اُڑے یہ بے حسی کا رنگ
قلب و جگر کی آگ بیاں کس طرح بنے
سرکنے لگتی ہے تب ہی قدم تلے سے زمیں
جب اپنے ہاتھ میں سارا جہان لگتا ہے
یہ اشعار عصرِ حاضر کے بڑے معتبر نقّاد اور رجحان ساز ادیب شمس الرحمن فاروقی کی غزلیہ شاعری کے ہیں جو ان کے شعری فن کی دلیل کے طور پر پیش کیے گئے ہیں – فاروقی نے غزلوں کے علاوہ رُباعیاں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی – ان کے کلام کے اعلٰی معیار سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دنیائے ادب نے انھیں نقّاد کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے – اس میں کوئی شک نہیں کہ نقد کے نئے نئے پہلوؤں پر جو انھوں نے خیالات پیش کیے ہیں قابلِ قدر بھی ہیں اور قابلِ تقلید بھی – بلکہ ان کے نثری تحریری فن سے بیسویں صدی سے لیکر اکیسویں صدی کے دوسرے دہے تک ادب کے لکھنے والوں کو فائدہ ان معنوں میں ہُوا کہ فاروقی کی تحریروں میں ادب سوچ کی نشاندہی جانے انجانے میں رہبر بنتی رہی – خیر بات چلی تھی فاروقی کی شاعری کی تو ایک اقتباس پر بات ختم کرنا میں مُناسب سمجھتا ہوں مُلاحظہ فرمائیں –
” بہرحال میں یہ کہوں گا کہ فاروقی صاحب کی غزلیں بھی توجہ کی محتاج ہیں – ان کی غزلیں سرسری مطالعہ کی چیز نہیں – ایک اچھّے مبصر اور نقّاد کو لازمی ہے کہ وہ فاروقی صاحب کے ساتھ ویسا ہی انصاف کرے جیسا کہ فاروقی صاحب نے میر و غالب کے معاملے میں کیا ہے” ۔(ص۔۱۳)
یہ اقتباس علیم صبا نویدی کے ایک مضمون” پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی غزل گوئی پر ایک اجمالی تاثر ” کا اختتامیہ ہے مُصنّف نے فاروقی کی غزل گوئی پر کئی پہلوؤں سے گفتگو کرکے فاروقی کے مخالفین کو چونکایا ہے –
پندرہ روزہ” عالمی زبان ” سرونج ، بھوپال ( ایم پی) 31 اگست تا 15 ستمبر 2018.ء کو ایک شمارہ شمس الرحمن فاروقی کے نام سے نکالا ہے اور سمندر کو کوزے میں سمیٹنے کی کوشش کرنا نیک نیتی ہے ، خلوص ہے، محنت اور مُحبّت بھی ہے اس لیے صرف 16 صفحات کے اس پندرہ روزہ اخبار میں بہت کچھ اہم مواد آ گیا ہے – اداریہ محمود ملک ( اعزازی مدیر) نے ” اُردو ادب کے ظلّ ِ سبحانی، شمس الرحمن فاروقی” کے عنوان سے لکھّا ہے – یہ اداریہ کیا ہے یوں سمجھئے فاروقی سے عقیدت، مُحبّت ، مروّت کے لفظی پھولوں کا گلدستہ ہے! مُدیرِ موصوف نے فاروقی کے لیے ہندی ادیبوں کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں فاروقی کی تقریر کے بارے میں جو کہا ہے اس کا ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں –
” یوں سمجھئے کہ فاروقی صاحب جب غالب پر بول رہے تھے تو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ خود غالب کے کردار میں زرق برق لباس میں ملبوس مسند پر بیٹھے سامعین سے مخاطب ہیں اور گفتگو میں سامعین کو بھی شامل کر رہے ہیں لیکن جب وہ میر پر بول رہے تھے تو یوں لگا کہ وہ مسند پر بیٹھے ہوئے عوام ( سامعین) سے نہایت بے تکلفّی کے ساتھ بات کر رہے ہیں اور دورانِ گفتگو مسند سے اُٹھ کر عوام کے بیچ بیٹھ کر سب سے گھُل مل کر باتیں کرنے لگتے ہیں “۔(صفحہ ایک)
صفحہ نمبر 2 پر شمس الرحمن فاروقی کا اختصار میں تعارف (کوائف) پیش کیا گیا ہے – اور 3،4،5،6 پر ایک تازہ اور طویل انٹرویو شایع کیا گیا ہے – مصاحبہ کار ہیں پروفیسر مختار شمیم، پروفیسر محمد نعمان خاں ، ڈاکٹر آصف سعید اور محمود ملک – سوالات کچھ ایسے کیے گئے کہ فاروقی کو جواب دینا ہی پڑا اور جوابات میں فاروقی کی شخصیت اور فن پر اُردو ادب اور عالمی ادب پر اور اُردو زبان پر فاروقی کے زرّیں خیالات ایسے سامنے آئے جس سے میرا خیال ہے کہ اُردو کا قاری واقف نہیں تھا اور تھا بھی تو کم واقف تھا – اس طویل ترین انٹرویو پر اظہار یہاں ممکن نہیں – یہ وہ انٹرویو ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے – فاروقی کے بارے میں یہ ایک یادگار اور شاندار انٹرویو قرار دیا جا سکتا ہے –
پروفیسر نعمان خان نے ” رجحان ساز ادیب و نقّاد : شمس الرحمن فاروقی” کے عنوان سے ایک بہت ہی عمدہ مضمون تحریر کیا ہے – اس طویل مضمون میں پروفیسر صاحب نے فاروقی کے تحریری فن کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی ہے – ان کی کتابوں کے حوالے پیش کر کے گفتگو کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے – فاروقی کے خیالات اور نظریات سے اتفاق کرنے والوں کی جہاں کمی نہیں ہے وہاں مخالفت کرنے والے بھی کئی ہیں – مضمون نگار نے ان کا بھی نہ صرف ذکر کیا ہے بلکہ اتفاق کرنے والوں نے بھی جہاں اختلاف کی گنجائش نکال کر بات کی ہے ان کے بھی حوالے دیئے ہیں – ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں –
” شمس الرحمن فاروقی کے بہت سے تنقیدی مضامین سے جہاں معاصر نقّادوں نے اتفاق کیا ہے وہیں عابد سہیل، وارث علوی اور فضیل جعفری نے بعض باتوں میں اختلاف بھی کیا ہے – فضیل جعفری کئی باتوں اور فیصلوں میں فاروقی کے مداح و معترف ہیں لیکن بعض مضامین مثلاً” افسانے کی حمایت میں” اور بعض دیگر مضامین سے وہ پورے طور پر متفق نہیں ہیں “۔(ص۔۷)
” شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کے امتیازی پہلو ” یہ مضمون احمد محفوظ کا تحریر کردہ ایک خاص مضمون ہے – اس میں فاروقی کی بے پناہ تنقیدی صلاحیتوں کا دانشورانہ جائزہ لیا گیا ہے – ایسا لگتا ہے کہ کوئی پہلو چھوٹا نہیں ہے اگر کچھ رہ بھی گیا ہو تو اس مضمون میں شاید اس کے اشارے موجود ہوں، معلوم ہوتا ہے کہ احمد محفوظ نے فاروقی کے فنِ نقد پر نہ صرف ان کی کتابیں پڑھی ہیں بلکہ ان کے خیالات پر خوب سوچا بھی ہے، جو کچھ سمجھا اسے سلیقے سے سمجھایا بھی ہے؟ کئی شعوری لہروں پر قائم ہوئے اس مضمون کو بھی نقد کی صنف منوانے کا وصف اس مضمون میں ہے – ناچیز کا خیال ہے کہ خود شمس الرحمن فاروقی نے بھی اس مضمون کو ایک سے زائد بار پڑھا ہوگا اور دل ہی دل میں داد بھی دی ہوگی کیونکہ اس میں فاروقی کے حوالے سے تنقید کے اصولوں پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور تنقید لکھنے والوں کے طریق کار پر بھی بات کی گئی ہے – اس کے ساتھ ساتھ فاروقی تنقید کو کیا سمجھتے ہیں اور اس میدان میں ان کا روئیہ کیا ہے اور انہیں امتیاز کیوں حاصل ہے؟ ایسی ساری باتیں اس مضمون میں آ گئی ہیں – ایک خاص اقتباس اسی سلسلے کا مُلاحظہ فرمائیں –
” جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا، فاروقی صاحب کو ابتدا سے ہی نظریاتی مباحث اور مسائل سے غیر معمولی دلچسپی رہی ہے – اسی کے ساتھ یہاں یہ نکتہ واضح طور پر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ نظریاتی مسائل سے فاروقی کی دلچسپی کا مرکز دیگر نقّادوں کے نظریاتی مسائل سے یا تو بڑی حد تک مُختلف رہا ہے یا، فاروقی نے ان مباحث میں جن باتوں کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دی ہے، وہ دیگر نقّادوں کے یہاں ضمنی اور فروعی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں – تاثراتی نقّادوں سے قطع نظر، ترقّی پسند تنقید کے نظریاتی مسائل اور دیگر پُرانے اور نئے جدید نقّادوں کے نظریاتی خیالات کو سامنے رکھ کر ہم دیکھتے ہیں تو فاروقی صاحب کے نظریاتی مسائل کی انفرادیت بہت واضح صورت میں ہمارے سامنے آ جاتی ہے – یہ فرق و امتیاز فاروقی صاحب کی شاعری اور فکشن دونوں کی نظریاتی تنقید میں ہم صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں – نظری اور عملی دونوں اعتبار سے فاروقی کی تنقید حقیقی معنوں میں ادبی تنقید کہی جا سکتی ہے “۔(ص۔۱۰)
” عالمی زبان ” ( ایک شمارہ شمس الرحمن فاروقی کے نام) کا ایک اجمالی جائزہ میں نے اپنے طور پر پیش تو کر دیا لیکن بہت ساری باتیں رہ بھی گئیں، وجہ یہ کہ طویل مضامین پر اگر میں گفتگو کرتا چلتا تو بیچ بیچ میں حوالوں کے لیے بڑے بڑے اقتباسات شامل کرنے پڑتے – مزا نہیں آتا – اس لیے اختصار کی روش کو اختیار کرتے ہوئے میں نے اس جائزے کو ختم کرنا مناسب سمجھا – پندرہ روزہ اس اخبار میں یہ جو مواد ہے اس کا تقاضہ ہے کہ یہ کتابی صورت میں ہو – تاکہ محفوظ ہو جائے – بہرحال ڈاکٹر سیفی سرونجی کی نگرانی میں شایع ہونے والے ” عالمی زبان” نے بہت کم عرصے میں ادبی دنیا میں اپنا ایک مقام بنا لیا ہے – اور شمس الرحمن فاروقی جیسی اہم ادبی شخصیت پر یہ دستاویزی شمارہ اسکالرز کے لیے خاص تحفہ ہے اور ” فاروقیات” میں اضافہ کا درجہ رکھتا ہے کیوں کہ ” عالمی زبان” کے اس خصوصی شمارے کے مواد سے شمس الرحمن فاروقی کے شخصی وقار اور تحریری معیار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے – میں اپنی گُفتگو ایک اقتباس پر ختم کرتا ہوں کہ مَیں اس رائے سے مُتفق ہوں مُلاحظہ فرمائیں –
” جدیدیت کے ادبی رجحان کو عام کرنے اور اسے نئی نسل سے روشناس اور مانوس کرانے میں شمس الرحمن فاروقی نے جو خدمات انجام دی ہیں اس کی مثال کہیں اور نظر نہیں آتی – بقول وارث علوی :” فاروقی پر لکھنے کے لیے فاروقی کا سا علم درکار ہے اور آج وہ کسی کے پاس نہیں ” ۔
( پروفیسر محمد نعمان خان، عالمی زبان ۔ص،۹)
Aslam Chishti
Flat No 404 Shaan Riviera Aprt 45 /2
Riviera Society Wanowrie Near Jambhulkar Garden
Pune 411040 Maharashtra India

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here