اردو صحافت کا جائزہ ایک نامورہندی صحافی سنتوش بھارتیہ کےحوالے سے

3
35
اردو صحافت کا جائزہ ایک نامورہندی صحافی سنتوش بھارتیہ کےحوالے سے
اردو صحافت کا جائزہ ایک نامورہندی صحافی سنتوش بھارتیہ کےحوالے سے

گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک بڑے اردو اخبار کے ایڈیٹر کا ایک ویڈیو انٹرویو نظر سے گزرا۔ وہ انٹرویو ہندی کے ایک بڑے صحافی نے کیا تھا۔ اس میں اردو صحافت کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ جس اردو ایڈیٹر کا انٹرویو کیا گیا تھا وہ ہیں روزنامہ انقلاب (نارتھ) کے ایڈیٹر جناب شکیل شمسی اور انٹرویو کرنے والے ہیں چوتھی دنیا اخبار کے ایڈیٹر جناب سنتوش بھارتیہ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انھو ںنے حیدرآباد کے روزنامہ سیاست کے ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں اور معروف صحافی و شاعر جناب حسن کمال کے بھی انٹرویوز کیے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید کئی صحافیوں کے انٹرویوز پائپ لائن میں ہیں۔ ان تینوں انٹرویوز کی روشنی میں اردو صحافت کے جو خد و خال ابھرتے ہیں اس کا جائزہ ذرا آگے چل کر لیں گے پہلے سنتوش بھارتیہ کا ہلکا سا تذکرہ ہو جائے۔ سنتوش بھارتیہ ہندی کے ایک بڑے صحافی مانے جاتے ہیں۔ وہ سابق ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔ انھوں نے غالباً ۹۰ کی دہائی میں روزنامہ سائز پر چوتھی دنیا کے نام سے ہندی ہفت روزہ نکالا تھا جو کافی مقبول ہوا تھا۔ بعد میں وہ اخبار بند ہو گیا۔ پھر ۲۰۰۹ء میں انھوں نے اس اخبار کا احیاء کیا۔ اس بار بھی وہ ہفت روزہ تھا اور اس بار بھی وہ روزنامہ سائز پر تھا۔ انھوں نے ہندی کے ساتھ ساتھ انگریزی اور اردو چوتھی دنیا بھی نکالا۔ انھوں نے ایک گفتگو میں بتایا کہ جب انھوں نے ہندی میں اخبار نکالا تو اردو حلقوں کی جانب سے اردو میں بھی نکالنے کا تقاضہ کیا جانے لگا۔ لہٰذا انھو ںنے ۲۰۱۱ء میں اردو چوتھی دنیا لانچ کیا۔ تینوں زبانوں کے اخبار گلیز پیپر پر فور کلر میں شائع ہوتے تھے۔ اردو چوتھی دنیا نے ان کی شہرت میں خاصا اضافہ کیا اور اہل اردو کی جانب سے ان پر ستائشوں کے پھول برسائے گئے۔ اردو چوتھی دنیا کا مزاج روایتی اردو اخباروں سے مختلف تھا۔ اس کے موضوعات کا انتخاب انگریزی صحافت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا تھا۔ انھوں نے اسے ایک ایسا معیاری اردو اخبار بنانے کی کوشش کی جو انگریزی ہندی اخبارات کا ہم پلہ ہو۔ جس میں تعمیری صحافت ہو اور جو متنوع بھی ہو۔ زرد صحافت سے گریز کرتے ہوئے اس میں ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جاتا تھا جو ملک و قوم کے انتہائی اہم موضوعات ہوں اور جن کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہ ہو۔ آخری کچھ مہینوں کو چھوڑ کر تقریباً پوری مدت تک اس کی ایڈیٹر رہیں وسیم راشد کا کہنا ہے کہ ’سنتوش بھارتیہ اردو صحافت کے لیے قابل قدر جذبہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے اردو اخبار میں تحقیقی صحافت کو رواج دینے کی کوشش کی تھی۔ وہ دوسرے اردو اخباروں سے مختلف تھا‘۔ لیکن شاید یہ مزاج اہل اردو کو پسند نہیں آیا اور شاید اسی لیے اس کی سرکولیشن نہیں بڑھ سکی۔ سنتوش بھارتیہ کو ا س بات کا قلق ہے کہ اردو والے تعریف و ستائش تو خوب کرتے ہیں لیکن اخبار مفت چاہتے ہیں۔ (یہ شکوہ اردو اخبارات و رسائل کے بیشتر مالکان کو ہے)۔ لہٰذا دسمبر ۲۰۱۸ء میں اسے بند کرنا پڑا۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ معاملہ صرف اردو چوتھی دنیا تک محدود نہیں تھا بلکہ انگریزی اور ہندی چوتھی دنیا کے ساتھ بھی تھا۔ جبھی تو انھیں پہلے انگریزی اخبار بند کرنا پڑا، پھر اردو اور اس کے آٹھ ماہ بعد ہندی۔ اس سوال پر کہ انھوں نے اردو میں اخبار کیوں نکالا، ان کا کہنا ہے کہ ایک تو اہل اردو کا تقاضہ تھا اور دوسرے وہ اردو زبان کو انقلاب کی زبان سمجھتے ہیں۔ اس نے جنگ آزادی میں جو کردار ادا کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ مجاہدین آزادی اظہار خیال کے لیے اسی زبان کو وسیلہ بناتے تھے۔ اردو صحافت نے مجاہدین آزادی کے اندر حب الوطنی کے جو ولولے جگائے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ انھیں شروع سے ہی اردو زبان سے محبت رہی ہے اور اسی محبت نے ان سے اردو میں اخبار کا اجرا کروایا۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مذکورہ تینوں اردو صحافیوں نے اردو صحافت کے بارے میں کیا کہا۔ شکیل شمسی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے کہ اردو قارئین کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو ریڈرشپ بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں وہ انقلاب کی مثال پیش کرتے ہیں اور یہ مژدہ سناتے ہیں کہ انڈین ریڈرشپ سروے کے مطابق انقلاب کے قارئین کی تعداد دس لاکھ ہے۔ ان کے مطابق پہلے اس سروے میں اردو صحافت کو شامل نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب اس کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جاگرن گروپ کی وجہ سے انقلاب کو زیادہ سہولتیں حاصل ہیں۔ وہ جاگرن کے زیر سایہ ہے اس لیے خوب پھل پھول رہا ہے۔ لیکن چھوٹے اخبارات بہت پریشان ہیں۔ ان کو اشتہارات نہیں ملتے، ان کی آمدنی ختم ہو گئی ہے۔ جبکہ انقلاب کو بڑے کارپوریٹ گھرانے بھی اشتہارات دیتے ہیں۔ وہ اس خیال کے بھی حامی نہیں ہیں کہ اردو کے مستقل کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ دوسروں کی مانند وہ بھی اسے تسلیم کرتے ہیں کہ مدارس سے اردو جاننے والوں کی بہت بڑی کھیپ نکل رہی ہے۔ انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ انقلاب میں کام کرنے والوں کی ۷۵ فیصد تعداد مدرسہ بیک گراونڈ رکھتی ہے۔ ہاں لیکن ان کو یہ شکوہ ضرور ہے کہ اردو جاننے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد عصر حاضر کی ٹیکنالوجی سے کم واقف ہے۔ شکیل شمسی نے ملک کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے اخبارات کا تقابل بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شمال اور جنوب کے اردو اخبارات میں زبان کا فرق بہت واضح نظر آتا ہے۔ حیدرآباد اور ممبئی کے اخبارات اور دہلی و لکھنؤ کے اخبارات کی زبان میں فرق ہے۔ لیکن پالیسی تقریباً ایک جیسی ہے۔ یہ اخبارات اردو قارئین کے مسائل اور جذبات کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ وہ بطور خاص انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ اس کے قارئین میں غیر مسلم بھی شامل ہیں اس لیے ہم ان کے جذبات کا بھی احترام کرتے ہیں۔ انقلاب ہر قسم کی فرقہ پرستی کے خلاف ہے خواہ وہ ہندو فرقہ پرستی ہو یا مسلم فرقہ پرستی۔ ۶۵ برسوں سے روزنامہ سیاست کے ایڈیٹر کے منصب پر فائز زاہد علی خاں کے خیالات ذرا مختلف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو اخبارات جذباتی صحافت کرتے ہیں اسی لیے ان کی سرکولیشن نہیں بڑھتی۔ جبکہ ان کے مطابق سیاست جذباتی صحافت سے دور ہے، وہ تعمیری صحافت کرتا ہے۔ انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ روزنامہ سیاست کو انٹرنیٹ پر ۱۰۷ ممالک کے ۳۵۰۰ شہروں میں پڑھا جاتا ہے۔ ان شہروں سے لوگ مراسلے بھی بھیجتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سیاست کا ای پیپر پوری دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ وہ سیاست کے قارئین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ سیاست کی پالیسی آزاد ہے۔ دوسری زبانوں کے اخبارات اپنے مالی مفاد کی وجہ سے حکومت کی پالیسی کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ سیاست ایسا نہیں کرتا۔ وہ بھی فرقہ پرستی سے دور ہے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کی اسی کوشش کی وجہ سے حکومت نے انھیں قومی یکجہتی کونسل اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کمیٹی کا ممبر بنایا۔ ان کا بھی خیال ہے کہ شمال اور جنوب کے اخبارات کی زبان الگ الگ ہے۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دہلی میں لوگ اردو اخبارات لے کر پارلیمنٹ میں جانے میں شرم محسوس کرتے ہیں جبکہ حیدرآباد میں لوگ اردو اخبار ہاتھ میں لے پر اسمبلی میں جاتے ہیں۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بڑے کرب سے کہا کہ وہ دہلی سے بھی سیاست نکالنا چاہتے ہیں لیکن انھیں دہلی میں کوئی قابل اعتماد شخص نہیں ملا۔ جناب حسن کمال نے اردو انگریزی ہندی تینوں زبانوں کی صحافت پر گفتگو کی اور موجودہ حالات کا شکوہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی میں بھی اخبارات کے حالات اتنے ابتر نہیں تھے جتنے اب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب اخبارات کی زبان بگڑ گئی ہے۔ اب مغلظات بھی لکھے اور بولے جانے لگے ہیں۔ انھوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ آج کے صحافیوں کی زبان خراب ہو گئی ہے۔ ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہے۔ انھوں نے جو عام بول چال سے سیکھا ہے بس وہی ان کے پاس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ادب سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ جب وہ ادب سے واقف ہی نہیں ہیں تو زبان کہاں سے آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ صحافت میں انھیں جو بھی مقام ملا ہے وہ ادب سے ان کے رشتے کی وجہ سے ملا ہے۔
یہ تینوں اور دیگر زبانوں کے صحافیوں کے انٹرویوز فیس بک پر Loud India Tv پر دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

 

اردو صحافت کا جائزہ ایک ہندی صحافی کے حوالے سے
اردو صحافت کا جائزہ ایک ہندی صحافی کے حوالے سے

Article by Suhail Anjum on Hindi Journalist Santosh Bhartiya

Sada Today web portal

3 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here