ہاجرہ نور زریابؔ کے قرطاسِ سخن پر بکھری محسوسات کی دھنک

0
36
ہاجرہ نور زریابؔ کے قرطاسِ سخن پر بکھری محسوسات کی دھنک
ہاجرہ نور زریابؔ کے قرطاسِ سخن پر بکھری محسوسات کی دھنک

۔سرحد پار سے مضمون نگار ۔محمد ارسلان ارشد شاہدرہ، لاہور پاکستان

شاعری ہر دور میں جذبات و احساسات کے اظہار کا ایک معتبر، مقدس اور کارآمد ذریعہ رہا ہے۔ ہر انداز میں بیان کر پائیں کہ وہ اپنی اصل تاثیر اور لطافت برق اسرار رکھتے ہوئے پڑھنے والے کی نظر سے ہوتے ہوئے سیدھا اس کے دل میں اترتے چلے جائیں۔

ایسے ہی قدرت کی جانب سے چُنے گئے خوش بخت لوگوں میں محترمہ ہاجرہ نور زریابؔ کا بھی شمار ہوتا ہے کہ جنہوں نے آج کے اِس دور میں بھی اساتذہ کے انداز کو کمال مہارت سے برقرار رکھا ہوا ہے جس میں وہ بہت کامیابی سے آگے بڑھتے ہوئے جدید دنیائے شعر و ادب میں ایک قابلِ رشک مقام پر جلوہ گر ہیں اور اپنی مسلسل کاوشوں کی بدولت مزید بلندیوں کی جانب محوِ پرواز ہیں۔
ہاجرہ نور زریابؔ 21 فروری 1978ء کو پیدا ہوئیں آپ کا تعلق اکولہ ریاست مہاراشٹر بھارت سے ہے۔ اسمِ معنبر ”ہاجرہ” جبکہ ”نور” والدِ محترم کے نام نور احمد نور کی نسبت سے نام کی زینت بنا ہے اور تخلص زریابؔ استعمال کرتی ہیں کہ جس کے جہاں دیگر بہت سے معنی ہیں وہیں ایک معنی ”دولت مند” بھی ہے کہ ہاجرہ بھی اقلیمِ سخن میں ایک معتبر مقام اور کشورِ ادب میں ایک دولت مندملکہ کی حیثیت رکھتی ہیں جو الفاظ میں شیریں بیانی اور مضامین میں ندرت کے ساتھ ساتھ استعارات، تشبیہات، تخیلات اور احساسات کی دلنشیں دولت سے مالامال ہیں۔
تعلیمی میدان میں ایم اے اردو، انگریزی اور فارسی کے کی اسناد حاصل کر چکی ہیں جبکہ اس کے بعد ایل ایل بی، بے ایڈ اور ڈی ایس ایم کے معتبر حوالے بھی اپنے نام کے ساتھ جوڑ چکی ہیں مگر اس کے باوجود وہ اس سب کو تعلیمی قابلیت کا پیمانہ نہیں سمجھتیں بلکہ مطالعہ اور کتب نوردی کو اہمیت دیتی ہیں اور مشاغل سے کہیں بڑھ کر مقدم رکھتی ہیں، شعرائے عظام کی اکثریت کی طرح زریابؔ کی بھی تنہائی سے دوستی ہے اور فیض، جبران و مختار، میر، غالب، اقبال، پروین شاکر، احمد فراز، کے دلنشیں اسلوب کو پسند کرتی ہیں مگر میدان سخن میں مقلد نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر کلام کے ہر شعر کا ہر مصرع نت نئے اور روایتی آہنگ کے امتزاج کا خوبصورت مرکب بن کر سامنے آتا ہے، اپنے گلشنِ سخن کی آبیاری کے ساتھ وہ ایک مصروف نجی اور پیشہ ورانہ زندگی بھی گزار رہی ہیں جو کہ ان کی شخصیت کے ہمہ جہت ہونے اور ان کے قلب و ذہن کی وسعتوں کی روشن دلیل ہے۔ یہی وہ وسیع النظری اور فکر کے پنچھی کی اونچی اڑان ہے کہ جس باعث وہ اتنی مصروف ہوتے ہوئے بھی شاعری کو نہ صرف وقت دیتی ہیں بلکہ ہمیشہ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار تخلیق کرتی ہیں۔ہاجرہ نور زریابؔ جہاں غزل کہتی ہیں وہیں انہوں نے نظم میں بھی طبع آزمائی کی ہے، مذہبی شاعری میں بھی حمد، نعت اور مناقب کی صورت گلہائے عقیدت و ارادت کھلائے ہیں جبکہ سماجی موضوعات پر بھی اپنے قلم کو بصورتِ نظم و نثر جنبش دیتی رہتی ہیں۔ ان کااولین مجموعہئ کلام بھی عنقریب دنیائے ادب کے افق پر جگمگانے کو تیار ہے جس کی زیورِ طباعت سے زیبائش کرنے کے بعد وہ جلد ہی اُسے تشنگانِ ادب کے ذوق کی نذر کرنے والی ہیں۔
زیرِ نظر مضمون میں ہم محترمہ ہاجرہ نور زریابؔ صاحبہ کی غزلیہ شاعری میں موجودمحسوسات کے دلنشیں بیان، فکرکے پنچھی کی اونچی اُڑان، مضامین کی با وقار اُٹھان، شعریت پر ان کی گرفت، روایتی مضامین میں خوشگوار نئے پن، تخیلاتی بانکپن اور جذبات کی گہرائی میں جا کر بیان کردہ انمول احساسات کے خوبصورت اظہاریے پر گفتگو کریں گے۔ تو آئیے اُن کی حسین غزلوں میں موجود چند بے مثال اور دلنشیں اشعار پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس خوبصورتی سے انہوں نے روایت اور جدت کے باہم ملاپ کی اپنے صفحہئ قرطاس پر دلکش رنگوں سے منظر کشی کی ہے۔ امید ہے کہ ہاجرہ نور زریابؔ کے اس حسین تخیلاتی سفر میں میرے ہمسفر بن کر آپ بھی ان کی شاعری کو اتنی ہی شدت سے محسوس کریں گے جتنا کہ میں نے بطور ایک مضمون نگار اُن کی کشتیئ فکر میں سوار ہو کر اُن کے سخن کو جیا ہے اور لفظ لفظ کو دل سے محسوس بھی کیا ہے کہ ہاجرہ نور کی شاعری کا مرکز و محور محسوسات کا لامحدود جہان ہی تو ہے۔!
شاعر کوئی بھی ہو کسی بھی زبان میں شاعری کرے کسی بھی دور کا ترجمان ہو وہ گہرائی میں جا کر تب ہی اشعار کہہ سکتا ہے جب وہ خود فکر و فن کی گہرائی میں اتر کر اُن گہرائیوں کے راز پا چکا ہو۔ اس حوالے سے زریابؔ کا ایک شعر دیکھئے ؎
مرے دریا ہوئی جب ضم میں تجھ میں
سمندر سے بھی گہری ہو گئی ہوں
یہاں بات بھی گہری ہے اور ساتھ ہی گہرائیوں کے راز کی جانب بھی ایک پُر لطف اشارہ موجود ہے۔یہاں دریا سے مراد وہ درد آشنا اور وفا آشنا ہے کہ جو تخیل میں ہو تو اک حسیں نقش بن کر رہے اور جب صدقِ دل سے اس کی چاہت کریں تو وہ ایک مجسم محبوب کی صورت آپ کے سامنے ہو تب اس محبت و الفت کے بہتے دریا میں ضم ہو کر جب کائنات کی رعنائیاں اور سچائیاں میسر آ جائیں تب ہی وہ گہرائی بھی حاصل ہوتی ہے جو سمندر کی گہرائیوں سے بھی بڑھ کر ہے اور پھر اسی گہرائی میں ڈوب کر جب فکر اپنا رنگ دکھاتی ہے تو پھر وہ شاہکار تخلیق ہوتے ہیں جو سخن ور کی پہچان بن جاتے ہیں۔
ملن اور وصال کے لمحات کا بیان اردو شاعری کا ایک قدیم اور روایتی موضوع رہا ہے مگر اس موضوع پر لکھتے ہوئے خوبصورت استعاروں کا استعمال اس پر کہے گئے شعروں کو مزید تازگی بخشتا ہے اور یہ استعارے ہی ہیں جو ہر سخن ور کو دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں۔ اسی انداز کا ایک شعر دیکھیں ؎
وہ ملے آکے مجھے تپتے ہوئے صحرا میں
یہ ملاقات بھی ساون کی جھڑی ہے یارو
مصرعہئ اولیٰ میں ”تپتے ہوئے صحرا” کا استعارہ برتتے ہوئے تشنہ کامی کا اظہار اور ملن کی آس کا منظر کھینچا گیا ہے جبکہ مصرعہئ ثانی میں ملاقات کو ”ساون کی جھڑی” قرار دے کر ایک فرحت بخش احساس جگایا گیا ہے کہ جب آس اس قدر ہو کہ پیاس صحرا کے پیاسے کی پیاس بن جائے تو ایسے میں جب وصل کے لمحات مل جائیں تو سب پیاس ایسے مٹ جاتی ہے اور منظر ایسا سہانا ہو جاتا ہے جیسے ساون کی جھڑی کے بعد سب نکھر جائے اور ہر پھول سرشار ہو کر مہک لٹانے لگے۔ اس شعر میں ہمیں زریابؔ صاحبہ کی شعریت پر گرفت بھی بھرپور انداز میں دکھائی دیتی ہے اور استعاروں کا کمال استعمال اُن کی اس شعری پختگی کی روشن اور کھلی دلیل بھی پیش کرتا ہے۔
اسی طرح حسرت، امید، آس، طلب، پیاس یہ سب وہ کیفیات ہیں جو اردو شاعری میں تواتر کے ساتھ اپنے اپنے انداز میں پیش کی جارہی ہیں مگر ان تمام جذبات و کیفیات کو محبت، شدت، عزمِ مصمم اور پر اعتمادی کے سانچوں میں ڈھال کر اور عشق کے پانی میں گوندھ کر اہلیانِ ذوق کے سامنے پیش کرنے کا اعزاز ہر کسی کو نہیں مل سکا مگر جناب ہاجرہ نور زریابؔ نے اس شعری و تخیلاتی مرکب کو بہت پیارے انداز میں اپنے سخن کے کینوس پر بکھیرا ہے۔چھوٹی بحر میں معصومانہ خواہشات سے مزین یہ غزل دیکھیں ؎
میں نیندوں کا بہانہ چاہتی ہوں
ترے خوابوں میں آنا چاہتی ہوں
دو مختلف کیفیات کی غمازی کرتا شعر ہے جس میں پہلے تو اپنی نیندوں کا بہانہ مطلوب ہے جو محبوب کا طلسماتی خیال ہے کہ جس کا اسیر ہو کر انسان سب غم بھلا کر سکون حاصل کر سکے۔ دوسری کیفیت میں محبوب کے لئے ایسی ہی خواہش کا اظہار ہے کہ جب میں اس کے خوابوں میں آؤں گی تو اسے بھی ویسے ہی خوبصورت احساس سے لبریز دیکھوں گی جیسا خود پر طاری ہوگا۔
جسے سُن کر تو سب کچھ بھول جائے
غزل وہ گُنگنانا چاہتی ہوں
محبوب کو لبھانے اور روٹھ جائے تو منانے کے بہت سے ذرائع ہیں مگر جب ایسی کوشش کوئی شاعر کرے گا تو اس کا رنگ بھی شاعرانہ ہوگا جیسا کہ اس شعر میں ہے کہ اپنے پیارے کو لبھانے کے لئے، اسے اپنے علاوہ سب کچھ بھلانے کے لئے اپنی کوئی ایسی پیاری غزل گنگنانے کی آرزو کا اظہار ہے جو کہ دلکش بھی ہو اور جسے سن کر روٹھا محبوب مان بھی جائے۔ یہ اظہاراپنے آپ میں منفرد بھی ہے اور دلکش بھی۔
نئے لہجے میں تیرے ہے بناوٹ
ترا لہجہ پرانا چاہتی ہوں
بعض دفعہ آپکے پیارے آپ کے پاس بھی ہوں لیکن ان کا انداز ان کا رکھ رکھاؤ پہلے جیسا نہ رہے تو وہ بھی ایک طرح کی دوری ہی شمار ہوتا ہے اور ایسے میں انسان چاہت کرتا ہے کہ میرے محبوب کا ہر انداز ہر بات پہلے جیسی ہو جائے تاکہ قربت کا احساس بھی مکمل ہو اور دوری کا شائبہ بھی تعلق کی رنگینی کو گہنا نہ سکے۔ اس کیفیت کو بھی بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ترا ملنا بہت مشکل ہے لیکن
میں قسمت آزمانا چاہتی ہوں
جب حالات کا بھی اندازہ ہو اور زمینی حقائق بھی آپ کے خلاف جا رہے ہوں تب بھی دل سے صدا آتی ہے کہ قسمت آزمائی جائے کیا پتہ نا ممکن، ممکن میں بدل جائے۔ اسی حوالے سے یہاں ذکر ہے کہ بھلے ہی تیرا ملنا مشکل ہو لیکن تجھے حاصل کرنے کے لئے میں آخری حد تک لڑنے کا فیصلہ کر چکی ہوں اور قسمت آزمائی کرنا چاہتی ہوں۔عزم دلاتا خوبصورت شعرہے!
تو ہی جانے ارادہ ترا زریابؔ
مگر میں تجھ کو پانا چاہتی ہوں
مختصر الفاظ میں خوبصورت غزل کو سمیٹ دیا گیا ہے کہ میں نہیں جانتی کہ تیرے دل میں کیا ہے مجھے تو صرف اور صرف تیری جستجو ہے تجھے پانے کی تمنا ہے جو اگر بر آئے تو میری ذات کی تکمیل ہو۔اس پوری غزل میں چاہت، آس اور امید کے رنگ محبت کی شدت، عزم اور حوصلے کے رنگوں سے مل کر جو ایک مکمل تصویر بنا رہے ہیں وہ ایک آرٹسٹک فن پارہ ہونے کے ساتھ اپنی مثال آپ بھی ہے۔
ہاجرہ نور زریاب ؔنے اپنے شعری مناظر میں جو محسوسات کی ایک ان دیکھی مگر حسین دنیا بنا رکھی ہے اس کا ہر گوشہ دیکھنے بلکہ یوں کہوں کہ دل سے محسوس کر کے اپنے اندر بسا لینے کا متقاضی ہے۔ اب یہ انداز دیکھیں ؎
ہیں تیرے سلسلے ہواؤں میں لمس کے ذائقے ہواؤں میں
مجھ کو محسوس ہو رہا ہے تُو چھو رہی ہوں تجھے ہواؤں میں
کہنے کو تو یہ چار مصرعے ہیں مگر شاعرہ نے ان میں کیفیات کی ایک پوری دنیا مقید کر دی ہے جسے وہ ہی محسوس کر سکتا ہے جس کی صرف شعر و سخن سے ہی نہیں بلکہ عالمِ محسوسات سے بھی مکمل شناسائی ہو۔
ایسے ہی احساس پر مبنی ایک اور عمدہ شعر ؎
بند آنکھوں سے مجھ کو و ہ اکثر
اور بہتر دکھائی دیتا ہے
اس شعر میں بھی ”دیکھنے” والوں کے لئے بہت حسن اور ”محسوس” کرنے والوں کے لئے بہت گہرائی موجود ہے کہ بعض اوقات ہم اپنی کھلی آنکھوں سے وہ سب نہیں دیکھ پاتے جو آنکھیں بند کرتے ہی ذہن کے پردے پر نمودار ہو جاتا ہے اور یہی منظر سب سے اُجلا اور سب سے واضح ہوتا ہے!
اردو شاعری میں سرد موسم بیک وقت ہجر اور وصال کے جذبوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ہواؤں کی تیزی سے سرد تر ہوتے موسم میں ہجر کا احساس بڑھنے اور وصل کی چاہ کے لئے دل کے مچلنے کی ملی جلی کیفیات کا آئینہ دار ایسا ہی ایک اور شعر ملاحظہ کریں جو احساس کی رنگیں وادی سے محسوسات کی ملکہ نے سخن آشناؤں کے لئے لکھ کر بھیجا ہے ؎
یہ سرد سرد ہوائیں یہ چاندنی یہ فراق
ترے لئے یہ طبیعت مچل بھی سکتی ہے
پہلے مصرعے میں سرد موسم کی خوبصورت منظر کشی اور اس پر فراقِ یار کی کا شکوہ دکھائی دیتا ہے تو دوسرے مصرعے میں طبیعت پر موسم کے اثر انداز ہونے کے امکان کا اظہار بھی اس مضمون کو مکمل بنا دیتا ہے۔ دو مصرعوں میں ایک بھرپور مضمون بیان کر دینے کا فن ہر ایک کے پاس نہیں ہُوا کرتا!
موسموں کے انسانی نفسیات پر اثر انداز ہونے کی ایک اور پیاری دلیل پیش کرتا ہاجرہ نور زریابؔ کی ایک غزل کا یہ مطلع بھی کسی سے کم نہیں ؎
موسم تھا خوشگوار تجھے سوچتے رہے
ہم ہو کے بے قرار تجھے سوچتے رہے
خوشگوار موسم ہمیشہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ محبوب کا دلنشیں ساتھ میسر ہو تاکہ پیار بھر ے موسم کے ہر لمحے سے دل بھر کے لطف اندوز ہوا جا سکے ایسے میں اگر محبوب دور ہو تو چشمِ تخیل میں بار بار وہی نقش لہراتا ہے جس کی سنگت کا دل تمنائی ہو۔ اس کیفیت کی عمدہ منظر کشی کی گئی ہے۔
نزاکت، شوخی، لاج اور حیا وہ اچھوتے، پاکیزہ، انمول، اور مقدس رنگ ہیں جو صنفِ نازک کی ذات کا لازمی حصہ تصور کیئے جاتے ہیں جبکہ یہ سب رنگ خواتین کی شاعری میں بھی بکھرے ملتے ہیں۔ ہاجرہ نور زریابؔ نے بھی اپنے گلشنِ سخن میں اکثر ایسے رنگ برنگ پھول کھلائے ہیں جو اُن کے اِس گلشن کو مزیدرنگینیاں اور رعنائیاں فراہم کر کے احساس کی بھینی بھینی خوشبوسے معطر کرتے ہیں۔ حیا اور نزاکت بھری شوخی لئے اُن کا یہ شعر دیکھئے ؎
عید مبارک کہہ کر مجھ کو دھوکے سے
میرے گلے سے آ کے لگے ہو، تُم بھی نا..!
عید کا تہوار خوشیاں بانٹنے اور گلے مل کرپیار کے اظہار کا پیام لاتا ہے۔ اس شعر میں عید کے موقع پر اپنے پیارے کی البیلی شرارت پر معصومانہ اور دلبرانہ سا گِلہ کیا گیا ہے جس میں بیک وقت گریز بھی ہے اور اپنائیت بھی۔جس نزاکت سے یہاں “تُم بھی نا” کا استعمال کیا گیا ہے اُس سے حیا کا اُجلا رنگ بھی بکھر رہا ہے اور شعر کی بُنت میں شوخی کا انداز بھی جھلک رہا ہے۔
ایسے ہی لاج بھرے رنگوں سے قارئین کے ذوق کو طراوٹ بخشتا ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
تری نظروں نے دیکھا مجھ کو جس دم
حیا سے میں گلابی ہو گئی ہوں
شاعری جہاں خوبصورت تشبیہات اور نت نئے استعاروں کو الفاظ میں ڈھالنے کا نام ہے تو وہیں شاعری میں موجود مضامین کو بیان کرنے کے انداز میں صاف گوئی اور حقیقت پسندی اس مشقِ سخن کو اور بھی دل آویز اور پُر اثر بناتی ہے.. بقول زریابؔ صاحبہ ؎
کسی سے پیار کرو تُم تو برملا کرنا
یہاں کسی پہ محبت حرام تھوڑی ہے
ایسی ہی موتیوں جیسی شفافیت کو اظہار و بیان کا پیرہن پہناتا ایک اور شعر دیکھیں ؎
ہمارے چہرے سے ظاہر ہے سب کچھ
جو اندر ہے وہ باہر بولتے ہیں
اسی اجلے اور نکھرے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے خوبصورت سماجی پیغام سے مزین درج ذیل شعر بھی گویا ایک تحریک کی مانند ہے کہ آج کے دور میں شاعری کے ذریعے ایسے پیغامات کی ترسیل بہت اہم اور وقت کی ضرورت ہے ؎
دنیا منافقت کی روش پر ہے آج کل
سچ بولنے کا حوصلہ تُم کر لیا کرو
جہاں ہم نے صاف گوئی اور حقیقت پسندی کے حوالے سے ہاجرہ نور زریابؔ کے چند سخن پارے ملاحظہ کئے وہیں ہمیں قدیم اور جدید اردو شاعری میں ایک رنگ کیف پرور اور لطیف رومانوی جذبات میں شدت پسندی، اور ان جذبات کے اظہار کے لیئے بے باک انداز اپنانے کے حوالے سے بھی ملتا ہے ماضی اور حال میں بہت سے نامور اور گمنام شعراء نے اس انداز کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے بعض شعراء نے تو ایسے مضامین پر شعر گوئی کے لیئے تشبیہات اور استعاروں کے بغیر بالکل ہی بے باک اور کھلے لفظوں کا سہارا لیا ہے جبکہ اکثریت نے ان نازک اور کیفیات بھرے جذبات کو بیان کرنے کے لئے دلکش استعاوں اور منفرد تشبیہات کو اپنے اشعار کی زینت بنایا ہے۔ہاجرہ نور زریابؔ کا شمار بھی آخر الذکر شعراء میں ہوتا ہے آپ نے ایسے بے شمار اشعار تخلیق کیئے ہیں جن میں پیار کی شدت، وصل کی چاہت اور محبوب کی قربت کا بے باک اظہار موجود ہے مگر انہوں نے ہر شعر میں دل موہ لینے والے استعارے برتے ہیں جس سے شعر میں موجود بات کا ابلاغ بھی خوبصورت انداز سے ہو جائے اور ان خوبصورت لذت بھری کیفیات کا اجمالی اور معنوی حسن بھی قائم رہے ؎
ہو تپتی دھوپ وہ اے کاش یوں ملے آ کر
کہ پور پور مری بھیگ جا ئے بارش میں
تپتی دھوپ اور بارش کی تشبیہات سے کیا گہری بات بیان کی گئی ہے یہ صرف اہلِ دل اور اہلِ نظر قارئین ہی سمجھ سکتے ہیں۔
معشوق کے عشق کی بلا خیزی کی چھما چھم برستی بارش کے اسی پُر لطف تذکرے کو آگے بڑھاتے ایک جگہ زریابؔ لکھتی ہیں ؎
تمہارے عشق میں بھیگی تو یہ ہوا محسوس
کہ میرے عالمِ ہستی پہ چھا گئی بارش
یہاں بھی انداز وہی لیکن لفظوں سے چھلکتا رنگ اور اس رنگ کا آہنگ مزید دلکش و دلنشیں ہے۔ بظاہر موسموں کی برستی بارش کے بیان کے پیچھے آرزوؤں، امنگوں اور فرحت بخش تعبیر پاتے خوابوں کا ذکر جس شاندار اسلوب میں کیا گیا ہے یہی اصل شاعری اور شعریت کی جمالیاتی خوبصورتی ہے۔
ایسے ہی انمول جذبات اور احساسات کے اظہار سے مزین ہاجرہ نور زریابؔ کے دلکشی اور خوشبو پھیلاتے چند مزیدپیارے اشعار سے اپنے ذوق کی وادی کو مُشکبو کیجئے ؎
بیٹھ جاتی ہوں تری یاد کی چھتر ی لے کر
خو د کو پھر گرمیئ جذبات سے دہکاتی ہوں
عشق اگر صادق ہو تو یار کی یاد بھی وجہِ تسکین بن کر قلب کے نہاں خانوں میں جلوہ گر ہوتی ہے جو جسم اور روح کو میٹھی حدت بھی بخشتی ہے اور ملن کی آس کو زندہ بھی رکھتی ہے. اس کیفیت کا برملا اظہار اس شعر میں موجود ہے۔
فکری اور معنوی لحاظ سے ایک منفرد شعر دیکھیں ؎
تُو اپنے آپ کو آئینہ سا بنا پہلے
وگر نہ کیسے بھلا خود کو بے حجاب کروں
اس شعر میں بھی کمال رنگینی اور شاعرہ کی مہارتِ فن کا مظاہرہ نظر آتا ہے کہ اے میرے ہمدم! اے میرے ہمسفر! تُو خود کو آئینے جیسا شفاف اور سچا تو بنا پھر میں اپنا آپ تجھ پہ نثار کر ڈالوں ہاں اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں کیونکر تجھے اپنے قریب آنے دوں؟ کیونکر میں اپنی ذات کے حجاب سے باہر نکلوں؟۔
ہاجرہ نور زریابؔ کے اشعار جہاں محبت، الفت، ملن اور وصال کے رنگوں سے سجے ہیں وہیں معشوق کے دیدار کی آس اور محبوب کو صدا دینے کے کئی پیارے اور نیارے انداز بھی اُن کی شاعری میں چار چاند لگا رہے ہیں۔
سوکھے ہونٹوں کو دیکھتے کیا ہو
لے کے صدیوں کی پیاس بیٹھی ہوں
آنکھوں کو دیدار نہ ملے، دل کو جب دلدار نہ ملے اور ہونٹوں کو جب لمسِ لبِ یار نہ ملے تو ایک ایسی پیاس جنم لیتی ہے جو انسان کو ویران کر دیتی ہے مذکورہ شعر میں ہونٹوں کا ذکر کرتے ہوئے در اصل اسی ویرانی اور تشنہ کامی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس میں انسان دوریوں کے باعث چند لمحوں یا دنوں میں ہی صدیوں کا پیاسا نظر آنے لگتا ہے۔ مختصر الفاظ میں میں بڑی بات کہہ جانے کا فن یہاں بھی فروزاں دکھائی دیتا ہے۔
محبت میں حسرت، حسرت میں انتظار اور انتظار میں ارمان۔ یہ کیفیات بھی حقیقی اور جاوداں ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ اِن پر زریابؔ نے کیا انداز اپنایا ہے ؎
رات کی گود میں ارمان لئے بیٹھی ہوں
کاش آ جائے وہ یہ رات بسر ہونے تک
شبِ فرقت میں امید کی آخری حد اور آس کے آخری پڑاؤ تک منتظر رہنا پیار کی سچائی بھی بیان کرتا ہے اور اسی سے اپنے محبوب پر یقین کا اظہار بھی سامنے آتا ہے کہ چاہے وہ جہاں بھی ہو، آنے میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے آخر کارایک دن اُسے لوٹ کے آنا تو ہے!
آخر میں ایسا ہی ایک یادِ یار کی جھنکار سے کھنکتا ہُوا مترنم شعر دیکھئے ؎
دھڑکنوں میں ترا تسلسل ہے
چوڑیاں ہجر میں کھنکتی ہیں
دھڑکنوں اور چوڑیوں کے خوبصورت ساز کو ایک ہی شعر میں سُچے موتیوں کی مانند پرو دینا اور پرونا بھی ایسا کہ یہ دونوں ساز مل کر عجب پُر تاثیر موسیقی بکھیر دیں یہ ہاجرہ نور زریابؔ کی کیفیات اور محسوسات کے خمار سے لبریز پُر کشش اور عمدہ شاعری کا ہی خاصہ ہے۔
الغرض ہاجرہ نور زریابؔ کے ہاں غزل میں قدیم اور جدید اردو شاعری کے رنگوں کا ایسا حسین اور دل موہ لینے والا امتزاج موجود ہے جو اُن کے جادوئی قلم سے نکلے ہر سخن پارے کو دلکش، پروح پروراور یادگار بنا دیتا ہے۔اُن کی شاعری وہ شاعری ہے جو ہر بار پڑھنے پر نیا لطف، نیا سُرور اور فکر کے پنچھی کو پرواز کے لئے نیا آسمان عطا کرتی ہے جس میں اُڑتے ہوئے پڑھنے والا ہر شخص الفاظ کی دنیا سے کب تخیل اور پھر حقیقت کی سلطنت تک جا پہنچتا ہے یہ خود اسے بھی معلوم نہیں ہو پاتا!
ہاجرہ نور زریابؔ دورِ جدید کی وہ شاعرہ ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کی اس مصروف دنیا میں نہایت قلیل عرصے کے دوران ادبی حلقوں میں اپنی ایک الگ اور منفرد پہچان بنا لی ہے۔ روایت اور جدت کے حسین راستے پر اُن کی مسلسل اور مثبت پیش قدمی سخن پروروں کے لیئے باعثِ راحت و اطمنان بھی ہے اور دنیائے شعر و سخن میں اًن کے روشن اور اجلے مستقبل کی نوید بھی۔ میرا یہ منصب ہرگز نہیں کہ میں ہاجرہ نور زریابؔ کو کوئی خطاب یا لقب دے سکوں ابھی تویہ محض میرے دل کی آواز ہے مگر مجھے حیرت نہیں ہوگی کہ مستقبل قریب میں ہاجرہ نور زریابؔ کو ادبی دنیا میں “محسوسات کی شاعرہ” کے طور پر جانا جائے اور یہی احساس اور کیفیات سے بھری شاعری تاریخ ِ ادب میں اُن کا معتبر اور مستند حوالہ بن جائے۔
اللہ رب العزت ہاجرہ نور زریابؔ کے قلم کو مزید شادابیاں اور رعنائیاں عطا کرے تاکہ وہ اپنے حسین تر خیالات و احساسات کو اسی طرح شعروں میں ڈھال کر ادب کی خدمت بھی کریں اور اپنے چاہنے والوں کے شعری ذوق کو بھی سیراب کر کرتی ہے

 

مضمون سرحد پار سے

Article by Arsalan Arshad Pakistan

SADA TODAY WEB PORTAL

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here