احساس کی امر بیل’ کی حساس شاعرہ نصرت عتیق

0
107
احساس کی امر بیل' کی حساس شاعرہ نصرت عتیق
احساس کی امر بیل' کی حساس شاعرہ نصرت عتیق

احساس کی امر بیل’ نصرت عتیق کا شعری مجموعہ
(غزل نہ صرف اردو شعر و ادب کی ایک صنف سخن ہے بلکہ ہندوستانی ثقافت کی روح ہے)
ڈاکٹر افروز عالم
زندہ قومیں اپنے ٹھہاکوں اور قہقہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سنجیدہ فکر اور ثقافتی دھروہروں کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہیں اور تاریخ میں مقام حاصل کرتی ہیں ۔ اودھی، پربی اور بھوجپوری کے علاقے، مشترکہ ثقافتی قدروں کی بنیاد پر ہلکل گھلے ملے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان علاقوں میں ایک سے بڑھ کر ایک جید علم دین، نقاّد، ادیب اور صحافی ہیں بھی اور گزریںبھی ہیں ، تاہم اردو شاعری کے حوالے سے خواتین کا حصّہ خاطر خواہ تو بڑی دور کی بات ہے برائے نام بھی دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتا ہے۔تاہم ماضی کی گلیاروں میں بھٹکتے بھٹکتے جب ہم حال کے سیمیں پردے پر پہنچتے ہیں تو راحت بخش ایک نام سے ہماری ملاقات ہوتی ہے جس کو دنیائے ادب نے محترمہ نصرت عتیق کے نام سے پہچان لیا ہے۔ آئیے پہلے ہم سب آپ کی مختصر کوائف پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو یہ ہے کہ دستاویزی نام :۔ نصرت جہاں جب کہ قلمی نام:۔ نصرت عتیق ،والد کا نام:۔ عتیق احمد کاظمی اعظمی ،والدہ:۔ مشرف جہاں، تاریخ پیدائش:۔ ۲۲مارچ ۱۹۷۵ئ؁ ، جائے پیدائش :۔گورکھ پور، شاعری کی شروعات ۔ ۱۹۹۲ئ؁ سے ، شادی:۔ محترم ارشد احمد اعظمی(۱۹۹۹ئ؁) ، اولادیں :۔ دو بیٹیاں تعلیم:۔ ایم اے(اردو)
فراق اور مجنوں کی سرزمیں گورکھپور کے نامور صحافی ،ادیب و شاعر محترم ایم کاٹھیاوی راہی کی آپ بھتیجی ہیں جن کے آنگن ا ور گود میں تربت حاصل کرنے کا آپ نے قدرتی طور پر اعزاز حاصل کیا ہے ۔ گھریلو ماحول کی بنیاد پر آپ نے بہت ہی کم عمری میں حرف و لفظ سے وابستگی اختیار کر لیا تھا، لیکن ہائے صد افسوس ہمارا معاشرہ کب کسی معصوم د وشیرہ کو عوامی معاملات میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ نصرت آپا کو عوام میں آنے دیتا۔ پھر وہی ہوا جو صدیوں سے خواتین کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے ۔ آپا جان بند کمرے میں لفظوں کو بنتی رہیں اور موقع غنیمت پا کر چوری چھپے کبھی کسی رسالے میں کبھی کسی اخبار میں، کبھی گڑیا، کبھی ناہید اور کبھی کوئی تبدیل نام اور کبھی کوئی’گم نام’ سے چھپتی رہیں۔ وہ تو بھلا ہو فیس بک جیسی عوامی ذر ا ئع ابلاغ اور نصرت عتیق کی پختہ سمجھ اور عمر کا جس نے نصرت عتیق کی شکل میں پروانچل کو ایک تحفے سے نوازا ہے ۔
پختہ عمری میں پہنچنے کے بعد محترمہ نصرت عتیق نے بہت تیزی کے ساتھ ادبی دنیا میں اپنا مقام بنایا اور مقبولیت حاصل کی ، کیوں کہ ان کے پاس وہ سب کچھ ہے جو کچھ ادب کی دنیا کو چاہئے ، یعنی کہ شعری مشق کی بنیاد پر پختہ اور خوبصورت کلام کا ذخیرہ، خوش گلو آواز،دیدہ زیب شکل و صورت، محفل میں اٹھنے بیٹھنے کے آداب و اطوار ، یونیو رسیٹی سے ماسٹرز کی ڈگری، استاد کی نوکری، محبت اور احترام کرنے والا کامیاب تاجر شریک زندگی، ذہین اور فرما بردار بچے اور شہرہ آفاق ادبی شخصیت ڈاکٹر کلیم قیصر کی سرپرستی۔ غرضیکہ ادبی معاشرے میں مقبو ل ہونے کے وہ تمام عوامل جس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ ان سب کی بنیاد پر محترمہ نصرت عتیق نے ادبی دنیا میں بڑی تیری سے اپنی پہچان بنائی ہے اور آج ایک اچھی شاعرہ کے طور پر قبول کی جا رہی ہیں۔ صد ہائے مسرت یہ ہے کہ اب آپ کا مجموعہ کلام ‘احساس کی امر بیل ‘ امید اشاعت ہے۔
محترمہ نصرت عتیق نے اپنے مشق شعر و ادب کے لئے چاہے جس کا بھی مطالع کیا ہو، جس جس سے بھی متاثر ہوئی ہوں ، جس جس سے بھی کچھ نہ کچھ سیکھا ہو یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہے لیکن ان کے شعری ذخیرے میں جو کچھ بھی ہے وہ ان کی اپنی فکر ہے، اپنی محنت اور اپنی کوشش ہے۔ حالانکہ ایسے(Self made)خود اعتماد لوگ اپنے مزاج کے مالک ہوتے ہیں، اور رفتہ رفتہ خشک رویہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ایسی قباحتیں محترمہ کی شخصیت میں اپنا گھر نہیں بنا سکیں، جس کی بنیاد پر آج وہ ہر محفل میں قدر کی نگاہ سے قبول کی جاتی ہیں۔ مو صوفہ نے ایک خاتون کے طور پر اپنے اطراف سے جو کچھ بھی اخذ کیا ہے وہ اپنی شاعری کے سہارے اس پر اپنا رد عمل درج کر دیا ہے، اس کا اند ازہ ان کے اشعار میں پنہاں مضامین اور الفاظ کی بنت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کھلے چشم و ذہن کی ایک پڑھی لکھی ، تجربہ کار خاتون کی فکر سے لبریز محترمہ نصرت عتیق کی شاعری آپ کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہے کہ اشعار ان ہی کے اپنی فکر کی کاوش اور قلم کی پیدائش ہیں۔
محترم بھائی شمشاد عالم نے زیر قیادت بھائی دیدار بستوی ، حاجی و زیر ویلفیئر فائونڈیشن، گورکھ پور(یوپیٰ) کے زیر اہتمام خا ک سار راقم الحروف کے عزاز میں ایک عالمی مشاعر ہ(۳۰ ستمبر ۲۰۱۹ئ؁) منعقد کیا تھا، اسی مشاعرہ میں مجھے پہلی بار محترمہ نصرت عتیق کو سننے کا اتفاق ہوا تھا ۔ نہات ہی خوبصورت ترنم میں چھوٹی بحر کی پختہ غزل کی پیش کش نے محفل کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ،سامعین اور اکابرین کی دعائوں سے اپنے دامن کو بھر کر شاعرہ رخصت ہوئی۔ اس مشاعرے میں سنی ہوئی غزل کے اشعار جو ذ ہن میں محفوظ ہیں آپ کے لئے پیش کر رہا ہوں۔

ہم تمیں بد دعا نہیں دینگے اتنی لمبی سزا نہیں دینگے
غم کو محسوس کیجئے صاحب غم تو ایسے مز ا نہیں دینگے
اپنی بد صورتی کرو محسوس ہم تمہں آ ئینہ نہیں دینگے
تم کو کر دینگے بس سپرد خدا ہم کوئی فیصلہ نہیں دینگے
یہ مرض ٹھیک ہی نہیں ہوگا آپ جب تک دعا نہیں دینگے
اپنی بے لوث چایتوں کا کبھی ہم تمہیں واسطہ نہیں دینگے
ہم مبلغ ہیں عشق کے نصرت نفرتوں کو ہوا نہیں دینگے

محترمہ نصرت عتیق کے شعری ذخیرے میں نعت، حمداور نظم کے علاوہ بیشتر غزلیں ہیں۔ غزل،جسے کسی نے نیم و حشی صنف سخن اور کسی نے اردو شاعری کی آبرو کہا ہے۔ ان دونوں نقادوں نے اپنی اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لئے بہت ساری دلیلیں بھی پیش کی ہیں، تاہم غزل کی طول عمری ، خوبصورتی، ہندوستانی عوام کے مزاج سے ہم آہنگی، موضوعات میں تنوع، الفاط کی بنت میں گداز،نرم لہجے اورپختہ بندیشوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غزل نہ صرف اردو شعر و ادب کی ایک صنف سخن ہے بلکہ ہندوستانی ثقافت کی روح ہے۔ ہندوستانی موسیقی اور مختلف زبانوں کی شاعری کی بنیاد غزل کے خمیر کی بو ہے جس کی بنیاد پر محفل اور مشاعروں کا تصور زندہ ہے اور یہ محافل اور مشاعرے ہندوستانی معاشرے کی شان و شوکت کی دلیل ہیں۔ اسی دلیل کی بنیاد پر میرا ذاتی خیال ہے کہ ہندستان کے جدید ادبی عہد میں کسی بھی شاعر کے قد کا تعین اس کے غزلیہ سرمائے کی بنیاد پر طے کیا جانا چاہئے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ محترمہ نصرت عتیق کے پاس بہت ہی بہترین غزلیہ شاعری کا ذخیرہ موجو د ہے جو اپنے قارئین اور ناقدین سے اپنے حصّے کی داد وصول کرنے میں کامیاب ہونگے۔ آیئے نمونے کے طور پر آپ کے لئے ان کے کچھ اشعار پیش کر رہا ہوں ۔ ‘ احساس کی امر بیل’ سے آپ اپنی پسند کے اشعار مجھے اور شاعرہ کو ای میل کیجیے گا ۔۔۔ ۔

آنکھوں میں مری آج نمی کیوں ہے اس قدر     لگتا ہے آج تو بھی پریشان ہے بہت
ہمیشہ شہر جاں میں اک بپا ہنگامہ رہتا ہے     بہت حساس ہونا بھی بہت گھاٹے کا سودا ہے

وہ میرے جھوٹے تبسم سے مطمئن ہے بہت     اسے خبر ہی نہیں مجھ پہ کیا گزرتی ہے
ایسے لوگوں کی قدر کرتے رہو شور کو جو صدا بناتے ہیں  ہم چراغ وفا بناتے ہیں وہ ڈریں جو ہوا بناتے ہیں
قدرت کے فیصلے پہ کبھی کیجئے نہ شک      اپنے گناہ پر بھی ذرا غور کیجئے
ایک ہی خاندان میں نصرت      سارے رشتے پرائے رہتے ہیں
وعدہ کرو کہ خواب میں آئوگے آج رات      تقریب پھر میں نیند کی آراستہ کروں
وقت کٹ جاتا ہے جیسا بھی ہو نصرت لیکن   یاد رہ جاتے ہیں لوگوں کے رویے ہم کو
مرے تصور کی چاندنی میں تمہارا چہرہ چمک رہا ہے    نہ گل کا چرچہ کوئی کرے اب نہ چاند کی دے مثال مجھ کو

نصرت عتیق انشا اللہ گورکھپور کی ذریں ادبی روایت کو مزید پائیدار بنانے میں اپنی فکری کاوشات اور بھی مضبوط بنائیں گی اور اس بات کو زندہ رکھیںگی جو اس شہر کا میراث رہا ہے۔ نیک تمنائوں کے ساتھ

ڈاکٹر افروز عالم (جدہ)، صدر ۔گلف اردو کونسل

E-Mail:-afrozalammekerani@yahoo.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here