آہ اے فلسطین۔عرب اور اسرائیل کا معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر

0
52
آہ اے فلسطین۔عرب اور اسرائیل کا معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر
آہ اے فلسطین۔عرب اور اسرائیل کا معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر

فلسطین کی پکار آہ اے فلسطین
فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے یہ اس علاقے کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان میں واقع ہے آج جس کے بیشتر حصے پر اسرائیل کا قبضہ ہے 1948 سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا
تیرہ اگست کو ڈونالڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معمور کے تعلقات استوار کرنے کااعلان کرکے دنیا کو حیران کر دیا اور وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں گے ترکی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس معاہدے کو منافقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اس معاہدے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے کیونکہ کہ ترکی کے مطابق یو اے ای نے یہ فیصلہ اپنے مفادات کے لیے کیا ہے اس معاہدے کے خلاف فلسطینی عوام کا سخت رد عمل جائز ہے اس معاہدے کو مختلف حلقوں کی جانب سےمشترکہ بیان میں کہا گیا تھا متحدہ عرب امارات نے یہ بیانیہ اختیار کیا کہ اس معاہدے کے نتیجہ میں اسرائیل مقبوضہ عرب اردن کے مزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبوں کو ترک کر دیگا معاہدہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں کا انضمام نہیں کرے گا متحدہ عرب امارات ان شرائط پر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر راضی ہوا ہے لیکن کیا اسرائیل کی یہ بات قابلِ اعتبار ہے ابھی ذہن تذبذب سے باہر بھی نہیں نکل پایا تھا کہ اگلے ہی دن اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے اس بات کا اظہار کیا کہ اسرائیل اپنے زمینی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا اور خود مختاری بڑھانے کے کسی منصوبے پر کوئ تبدیلی نہیں ہوگی اسرائیل نے اس بات پر بھی اشارہ کیا کہ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے کسی منصوبے کو ترک نہیں کرے گا پھر یہ معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر نہیں تو کیا ہے جھوٹ فریب اور تشدد سے فلسطین کو اپنے قبضہ میں کرنے والے اسرائیل سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے یہ معاہدہ پوری طرح فلسطینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف عربوں کا نہیں ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا ہے کیونکہ یہ وہی فلسطین مقدسہ ہے جسے انبیاء اکرام کا مدفن ہونے کا شرف حاصل ہے ،جس کے ارد گرد برکت ہی برکت کا نزول ہے جہاں سے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم روح القدوس کے ہمراہ سفر معراج کے لیے با برکت ہوئے ،جی ہاں وہی عظمت اور پر شوکت سر زمین جہاں اسلام کی عظمت قبلہء اول کی صورت میں موجود ہے میں سوشل میڈیا پر فلسطین مخالف ٹوئیٹ اور نفرت بھرے کمنٹس دیکھ کر حیرت زدہ ہوں کی جگہ we stand with” Israel ” کے نعرے بلند ہوتے ہوئے سنائی دیے ان نعروں کو بلند کرنے والوں کو شاید فلسطین کی آہ و فغاں سنائی نہیں دے رہی ہے نیز وہ اسرائیل کی تاریخ سے ناواقف ہیں
فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے یہ اس علاقے کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان میں واقع ہے آج جس کے بیشتر حصے پر اسرائیل کا قبضہ ہے 1948 سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلافت عثمانیہ تک قائم رہا مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا 29نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا اور 14 مئ 1948 کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کر دیا 15 مئ 1948 کو آزادی کا اعلان کر دیا گیا ،اسرائیل نے فلسطین پر قابض ہوتے ہی علاقے کی عرب اقلیت پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جس کی وجہ سے سے مجبور ہو کر عربوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا 29 اکتوبر 1958 کو اسرائیل نے صحرائے سینا پر حملہ کرکے اسے مصر سے چھین لیا اس حملے نے فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا ،
5جون 1967 کو چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی کے علاقوں کے علاوہ مشرقی یروشلم کا علاقہ شام کی گولان کی پہاڑیاں اور عرب اردن کا علاقہ اپنے قبضہ میں لے لیا ،1967 کی جنگ کے دوران غزہ پٹی اور مغربی کنارے سے 30,000 فلسطینیوں کو باہر کر کے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مسیحی یروشلم سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو باہر کر دیا گیا فلسطینیوں کے جسم اور روح پر ایسے زخم دیے گۓ جن سے قطرہ قطرہ لہو مسلسل ٹپک رہا ہے کیوں اس لہو کی لالی ہمیں بے چین نہیں کرتی اور انکے دلوں سے نکلنے والی چیخیں ہمیں سنائی نہیں دیتیں آج بھی لاکھوں فلسطینی جلا وطن در در بھٹک رہے ہیں کیا ان کو اپنے گھر لوٹنے کا حق نہیں ہے کیسے مان لیا جائے یہ امن معاہدہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے میں اسرائیل کے مفاد کے سوا کچھ نہیں ہے ہم یہ کیسے بھول سکتے ہیں کہ جس وقت انگریزوں نے فلسطین پر قبضہ کیا تھا اس وقت یہاں کی آبادی میں صرف 11 فیصد یہودی تھے باقی لاکھوں عرب تھے لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو گھر سے بے گھر ہونے پر مجبور کر دیا جولائی 1980 میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا
16مئ 1982 کو لبنان کے مسیحی شدت پسندوں نے اسرائیل کی مدد سے دو مہاجر کیمپوں میں گھس کر سیکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا،
سنو اے امت مسلمہ سنو ،انسانیت کے پرستاروں حق کی دہائی دینے والوں ،ظلم کی مخالفت کرنے والوں سنو فلسطین کی عوام پر ظلم ہو رہا ہے جس فلسطین نے اپنے دامن میں فلسطینیوں کو پناہ دی آج اسی دامن کو چاک کرنے کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں کیوں تمام امت مسلمہ پر سکتہ طاری ہے اس معاہدے کی خلاف بیان کرنے میں کیوں صاحب قلم کے قلم کی روشنائی سوکھ گی ہے ، بس کہنا یہ چاہتی ہوں کہ فلسطین فلسطینی عوام کا ہے بیت المقدس کو آزاد کروانے اور فلسطین کو اس کا حق دلوانے کو دنیا کی تمام باضمیر حکومتیں کوشش کریں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے انصاف کے تقاضوں کو سمجھیں اور صاحبِ قلم فلسطین کے منصفانہ حق کی آواز بلند کریں تاکہ اسرائیل کو فلسطینیوں پر مزید قابض ہونے سے روکا جا سکے

عارفہ مسعود عنبر

article by Arfa Masood Ambar on Israel Arab pact

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here