خواجہ اجمیری کی شان میں گستاخی۔امیش دیوگن کے خلاف کار وائی ہو

0
237
خواجہ اجمیری کی شان میں گستاخی۔امیش دیوگن کے خلاف کار وائی ہو
خواجہ اجمیری کی شان میں گستاخی۔امیش دیوگن کے خلاف کار وائی ہو

خواجہ اجمیری کے لئے نیوز 18  کے اینکر نے جس بے ہودگی سے لفظ استعمال کئے وہ بہت ہی تکلیف دہ ہیں خواجہ اجمیری کی شان میں گستاخی کرنا بہت ہی تکلیف دہ ہے۔کیا خواجہ اجمیری صرف مسلمانوں کے صوفی ہیں ؟کوئی امیش دیوگن سے یہ سوال کرے کیونکہ خواجہ اجمیری کے ماننے والوں میں مسلمانوں سے ذیادہ ہندو ہیں ۔جو بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں لوگوں کی روحانی تربیت اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تحفظ و استحکام کے لیے طریقت کے جس خاندان کو منتخب فرمایا وہ سلسلۂ چشت ہے۔سلسلہ چشت کی نامور بزرگ ہستی حضرت غیرب نواز خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔چشت خراساں میں ہرات کے قریب ایک مشہور شہر ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے کچھ نیک بندوں نے انسانوں کی روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کے لیے ایک بڑا مرکز قائم کیا ۔ ان حضرات کے طریقۂ تبلیغ اور رشد و ہدایت نے پوری دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کرلی اور اسے اس شہر چشت کی نسبت سے ’’چشتیہ‘‘ کہا جانے لگا۔موجودہ جغرافیہ کے مطابق چشت افغانستان میں ہرات کے قریب ہے۔سلسلہ چشت کے بانی حضرت ابواسحاق شامی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ سب سے پہلے لفظ ’’چشتی‘‘ ان ہی کے نام کا جز بنا، لیکن حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شخصیت نے اس سلسلہ کے پرچم تلے دعوت حق کا جو کام انجام دیا اور انھیں جو شہرت و مقبولیت حاسل ہوئی اس سے لفظ ’’چشتی‘‘ دنیا بھر میں مقبول ہوگیا۔ڈاکٹر سید عطا اللہ شاہ بحاریؒ نے لکھا ہے:
’’یوں تو ہندوستان میں پہلی صدی ہجری میں بعض صحابہؓ اور تابعین ؒ کا آنا ثابت ہے۔ بعد میں بھی تقریباً ہرصدی میں مسلمان ہندوستان میں آتے رہے ہیں اور اسلام کی دعوت عام کرتے رہے۔ ان ہی اللہ کے بندوں میں ایک حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کا بھی شمار ہوتا ہے جنہوں نے بہت ہی کم وقت میں اپنے علم اور عمل کے ذریعہ غیر مسلموں کے دلوں میں گھر کرلیا۔ حضرتؒ کے کردار و تعلیمات سے لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ ہندوستان میں جوق درجوق غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق لاکھوں لوگ آپ کے ہاتھ پر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔‘‘
اجمیر، راجستھان کا ایک دورافتادہ شہر تھا مگر اس لحاظ سے خواجہ صاحبؒ کا مسکن بننے کا مستحق تھا کہ یہاں دعوتی کام کرنے کے امکانات تھے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کس سن میں اجمیر تشریف لائے اس سلسلے میں آپ کے تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ ویسے زیادہ تر اس بات پر متفق ہیں کہ آپ ۷۸۵ھ /۹۱ ۱۱ء کو اجمیر شہر پہنچے۔ جہاں پہلے ہی دن سے آپ نے اپنی مؤثر تبلیغ،حُسنِ اَخلاق، اعلیٰ سیرت و کردار اور باطل شکن کرامتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔حضرتؒ کی تبلیغ سے مسلمانوں کی تعداد میں اچھا خاصا اضافہ ہوگیا۔کوئی دن ایسا نہ ہوتا کہ غیرمسلموں کی کوئی جماعت آپؒ کے ہاتھوں پر اسلام قبول نہ کرتی ہو اور جو غیرمسلم اسلام قبول نہیں کرتے وہ آپؒ کے معتقد رہتے۔ابوالفضل نے لکھا ہے کہ’’آپ نے اجمیر میں گوشہ نشینی اختیار کی ، اسلام کا چراغ خوب جلایا اور آپ کے دم قدم سے گروہ درگروہ لوگوں نے اکتساب فیض کیا۔‘‘ (آئین اکبری)
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہندوستان میں اشاعت اسلام ہے۔حضرت کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کی روشنی پھیلی اور کفر و شرک کی تاریکی جو صدیوں سے اس ملک پر چھائی ہوئی تھی، آپ کے نور ولایت سے دور ہوئی۔ہندوستان میں تبلیغ اشاعت اسلام میں حضرت خواجہ ؒ کو جس قدر دشواریاں پیش آئیں اس کا اندازہ لگایا جانا بھی مشکل ہے۔لیکن ان مشکلات کے باوجود تبلیغ اسلام کا فریضہ انھوں نے جس شاندار طریقہ سرانجام دیا وہ لائق صدہزار تحسین و تقلید ہے۔آپ نے ہندوستان میں تبلیغ اسلام کا ایک شاندار نظام قائم کیا۔اجمیر دہلی اور اس کے گردنواح میں آپ ؒ کے خلفاء و رشتہ دار تبلیغ اسلام میں سرگرم عمل رہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغِ اسلام اور دعوتِ حق کے لیے ہندوستان کی سرزمین پر تقریباً ۵۴ سال گذارے۔ آپؒکی کوششوں سے ہندوستان میں جہاں کفر و شرک اور بت پرستی میں مصروف لوگ مسلمان ہوتے گئے وہیں ایک مستحکم اور مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد بھی پڑ گئی۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ ؒکی روحانی کوششوں سے تقریباً نوے لاکھ لوگوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ جو کہ ایک طرح کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے جس روز اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طر ف سفر اختیار فرمایاوہ ۶ رجب المرجب ۳۳۶ھ بہ مطابق ۶۱ مارچ ۶۳۲۱ء بروز پیر کی رات تھی۔ آپ کے صاحب زادے حضرت خواجہ فخر الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کا جسمِ مبارک اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ کی قیام گاہ تھی۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے لکھا ہے کہ :
’’حضرت خواجہؒ کی تعلیمات کا فیضان آج تک جاری و ساری ہے۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی درگاہ کی زیارت کے لیے زندگی کے ہر شعبہ اور طبقہ فکر کے لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ہندو مسلم ، سکھ عیسائی تمام مذاہب کے لوگ عقیدت و احترام سے آتے ہیں اور وہا ں سے فیض پاتے ہیں۔۔۔لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے 1902میں آپ کے مزار پر حاضری دینے کا شرف حاصل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں نے ایک قبر کو ہندوستان میں حکومت کرتے دیکھا ہے‘‘۔
خواجہ معین الدین چشتی ؒ کا ہندوستان سے گہرا تعلق ہے اور یہاں اسکام کی شناخت آپؒ ہی کے حوالے سے ہوتی رہی ہے۔خواجہ صاحبؒ کی دینی، اصلاحی اور سماجی خدمات بہت زیادہ ہیں جنھیں احاطۂ تحریر میں لانے کے لیے ایک عمر چاہئے۔
یہ تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا انتہائی مختصر تعارف تھا۔ لیکن اس تعارف کو پیش کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہمارے ملک کے شرپسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کی دل آزاری عام بات ہوگئی ہے۔ ارباب سیاست کی سرپرستی میں شرپسندوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ وہ اب ہندوستان میں امن و امان کا ماحول پیدا کرکے اسلام کو پھیلانے والے حضرت خوابہ غریب نواز اجمیریؒ کی شان اقدس میں بھی گستاخی کرنے سے باز نہیں آتے۔بی جے پی کے دور اقتدار میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نیشنل میڈیا میں توہین آمیز کلیمات اور سوشل میڈیا میں پوسٹ کا سلسلہ دراز ہوتے چلا جا رہا ہے۔ ارنب گوسوامی کے بعد نیوز -18کے مینیجنگ اڈیٹر اور اینکر امیش دیوگن نے عالمی شہرت یافتہ بزرگ اور صوفی حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی شان میں گستاخی کی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔
امیش دیوگن بی جے پی نواز صنعت کار مکیش امبانی کے چینل نیوز -18انڈیا پر آرپار نامی متنازع پروگرام میں حساس موضوعات پر مذاکرہ منعقد کرواتے ہیں جن میں وہ اکثر مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے والے کمینٹس کرتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے امیش دیوگن کو ہندی کا ’ارنب گوسوامی‘ کہا جاتا ہے۔ خواجہ اجمیریؒ برصغیر ہند و پاک میں اسلامی تعلیمات اور انسانی اقدار کے عطیم داعی اور غیر متنازع روحانی پیشوا کے طور پر اپنی منفرد پہچان اور بلند مقام رکتھے ہیں۔امیش دیوگن نے جس دریدہ دہنی سے نازیبا اور ہتک آمیز رویہ اپنایا اس سے ہندوستانی مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام اور ہندوستان کے ہندوئوں کے ایک بڑے طبقے کی دل آزاری ہوئی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ملک کورونا وبائی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے نیز چین کی چیرہ دستیوں کے خلاف یک آواز ہوکر اپنے فوجیوں کی شہادت پر اظہار غم کرتے ہوئے بدلہ لینے کا مطالبہ کررہا ہے۔ ایسے حالات میں امیش دیوگن نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ کی شان میں گستاخانہ جملے کہہ کر ملک میں فرقہ پرستی کو مزید بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے۔اور اپنی زہر انگیز زبان سے قومی وحدت کو پارہ پارہ کرکے پاشندگان ہند کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی ہے۔
مسلمان تو مسلمان ، غیر مسلموں کی بھی بڑی تعداد ان حضرت خواجہ ؒ سے محبت و عقیدت اور ان کے مزار پر حاضری کو اپنے لیے سعادت و خوش قسمتی کا باعث تصور کرتی ہے ۔ ایسی غیر متنازع اور درویش صفت اللہ کے ولی کی شان میں گستاخی کرنا بڑی حرماں نصیبی اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی چیز ہے۔ خواجہ اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے چاہنے والوں اور مسلمانوں کے لیے امیش دیوگن کی یہ حرکت ناقابل برداشت ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لہٰذا ہم حکومت ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ امیش دیوگن اورنیوز18انڈیا کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے ۔ایسے لوگ ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔مسلمانان ہند صبر و تحمل سے کام لیں اور امیش دیوگن کی گرفتاری اور سزا کے لیے حکومت ہند  حکومت ہند سے مطالبہ کریں۔

محمد اویس سنبھلی

Article by Mohd Uwais sambalI on Khwaja Moinuddin Chishti

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here