مرے ہمزاد پر اس گھر نے جانے کیا کیا جادو۔ وہ میرے ساتھ اندر تو گیا باہر نہیں آیا

1
37
مرے ہمزاد پر اس گھر نے جانے کیا کیا جادو۔ وہ میرے ساتھ اندر تو گیا باہر نہیں آیا
مرے ہمزاد پر اس گھر نے جانے کیا کیا جادو۔ وہ میرے ساتھ اندر تو گیا باہر نہیں آیا

علامہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ کی جانب سے آن لائن آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد

علی گڑھ

علامہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ کی جانب سے عید الفطرکے پر مسرت موقع پر ایک آن لائن آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا جس کو معروف نوجوان ادیب غلام نبی کمار کے یوٹیوب چینل جے این کے گروپ اورفیس بک پر نشر کیا گیا۔مشاعرے کی صدارت مسرور جوہرؔ امروہوی نے کی ،مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر ہلالؔ نقوی شامل ہوئے اور نظامت کے فرائض سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے انجام دئیے۔جب کہ پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے شعرائے کرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’کورونا وائرس کی وجہ سے بہت سے پروگرام نہیں ہو پارہے ہیں لیکن انٹرنیٹ سے ہمیں یہ آسانی حاصل ہے کہ ہم گھر بیٹھے علمی و ابی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔چنانچہ ہم نے آج یہ کوشش کی ہے کہ ہم ایک آن لائن آل انڈیا مشاعرے کاانعقاد کریں اس سلسلے سے جناب غلام نبی کمار نے ہماری معاونت کی اور ہمارے پروگرام کو جے این کے گروپ کی جانب سے یوٹیب اور فیس بک پیج پر نشر کیا جس کے لئے وہ قابلِ ستائش ہیں‘‘۔قارئین کے لئے نشست میں پڑھے گئے منتخب اشعار حسب ذیل ہیں۔
مرے ہمزاد پر اس گھرنے جانے کیا کیاجادو
وہ میرے ساتھ اندر تو گیا باہر نہیں آیا
مسرور حسن جوہرؔ امروہوی
بچپنے مں کھل گیا سب پر کہ ہوں عاشق مزاج
چوڑیاں میں نے خریدیں جب ممانی کے لئے
داکٹر رضیؔ امروہوی
چمک رہا تھا جو آکاش پر بنا سورج
زمیں پہ آن کے بونا دکھائی دیتا ہے
ڈاکٹر ہلالؔ نقوی
ناز اتنے نہ ہم کو دکھایا کرو
وعدہ کر کے کبھی تو نبھایا کرو
اقبال فردوسی
بتائو ںکیا میں کسی کو کہ کیا لگے ہے مجھے
حیات درد کا ایک سلسلہ لگے ہے مجھے
صبیحہ سنبلؔ
میرے سینے میں شور سانسوں کا
اور باہر عجیب سناٹا
عرفانؔ انصاری
اتنا آساں بھی نہیں ہے اے قلم کے رستمو
صبح کا افسانہ لکھنا شب کے افسانہ کے بعد
سید شیبانؔ قادری
سنا ہے آندھیاں نکلی ہیں خوف کھائے ہوئے
چراغ جلتے ہیں صحرا میں سر اٹھائے ہوئے
عادلؔ فراز
وہ محترم تھا مگر معتبر نہیں نکلا
کہ اس کی ذات سیدنیا کا ڈر نہیں نکلا
وفا ؔنقوی
کیوں اکڑتی پھر رہی ہو مجھ کو ٹھوکر مار کر
ایک دن قسمت پہ اپنی جان من رونا ہی ہے
انسؔ فیضی
دوست میرا ہی بن گیا دشمن
کیا ملا آئینہ دکھانے سے
محمد بلال وصیؔ بیگ
دیکھتے ہی دیکھتے اک سانحہ سا ہو گیا
ان سے نظریں کیا ملیں یہ دل انہیں کا ہوگیا
مرتضیٰ شجاع سکندرؔ امروہوی
اب کے تاریکیوں کی خواہش ہے
قتل کرنا ہے آفتابوں کا
ڈاکٹر شاکرؔ حسین اصلاحی
ہم اپنا لہو لے کے بتائو کہاں جاتے
گر خون کے دریائوں کے مقتل نہیں ہوتے
ذوالفقار زلفیؔ
مجھے حلوہ بنانا تھا نہ چینی ہے نہ سوجی ہے
ادھر بچے بھی روٹھے ہیں ادھر میڈم بھی سوجی ہے
چاند پھٹا پھٹ ؔنہٹوری

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here