علامہ اقبال ایک شاعر ہی نہیں ایک ، عالم، فاضل اور فلسفی بھی تھے

0
81
علامہ اقبال ایک شاعر ہی نہیں ایک ، عالم، فاضل اور فلسفی بھی تھے

علامہ اقبال کو پوری دنیا میں جو مقم حاصل ہے وہ شاید کسی کو کم ہی نصیب ہوتا ہے
ایک مسلمہ حقیقت ہے بیسویں صدی میں جن شاعروں کے کلام کی بدولت ہندوستان کا نام دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچا ان میں بنگالی ادیب اور شاعر ربیندر ناتھ ٹیگور اور معروف مفکر ،مایہ ناز فلسسفی
شاعر مشرق علامہ اقبال کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے ، 9 نومبر اقبال کا یومِ پیدائش ہے اس دن بطور خاص اقبال کو یاد کیا جاتا ہے اور ہر سال آپ کے روشن کارناموں کو یاد کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے ۔ نیز ہمارے بھائی کا یوم پیدائش بھی 9 نومبر ہے اس مناسبت سے یہ دن ہمارے لیے دوہری اہمیت کا حامل ہے ، یوں تو اس عظیم ہستی کی شخصیت اور شاعری پر اتنا لکھا جا چکا ہے کہ دو لفظ رقم کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا تاہم آج یوم اردو کے موقع پر اس عظیم فنکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے آپ کے نثری کارناموں پر مختصر گفتگو کریں گے ۔ ٹیگور بنگالی کے شاعر ،ادیب ،افسانہ نگار اور تمثیل نگار تھے اور اقبال اردو فارسی کے ایک ایسے شاعر تھے جنہیں دنیا فلسفی شاعر کے نام سے یاد کرتی ہے ۔
ہندوستان کی آزادی کی قومی تحریک میں شاعروں ادیبوں۔ ،ڈرامہ نگاران اور دیگر فنکاران نے اہم خدمات انجام دی ہیں ان میں اقبال اپنے متاثر کن اور مقبول عام ترانہ” سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” اور ان کی دیگر نظموں کے باعث ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں ان نظموں کے ذریعے انہوں نے ہماری عوام میں حب الوطنی کا جو جذبہ پیدا کیا برسوں گزر جانے کے بعد آج بھی وہ اپنی شادابی یوں ہی برقرار رکھے ہوئے ہے ،
اقبال شاعر ہونے کے علاؤہ ماہر نثر نگار اور فلسفی بھی تھے انہوں نے فلسفہ کے عمیق نظریات و تصورات کو شاعری کے دلکش پیرائے میں بھی پیش کیا اور نثر کے عالی معیار سے بھی۔ اقبال اردو کے شاعر فلسفی اور نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی علی پائے کے نثر نگار تھے اسی سلسلے میں ان کی دو انگریزی تصانیف کا ذکر خاص طور سے کیا جا سکتا ہے ،
” Development of metaphysics in Persia”

ایران میں مالبعدالطبیعات کا ارتقاء

Reconstruction of religious thought in Islam”
تشکیل جدید الہیات اسلامیہ

ان دونوں کتابوں کے نام انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں خاصے مشکل ہیں ان کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے وہ بھی بہت مشکل ہے عام قارئین کی تو بات بہت دور ہے ماہر زبان کو بھی بار بار پڑھنے پر ہی سمجھ میں آ پائے گا ،پہلی کتاب جیسا کے اس کے نام سے ہی ظاہر ہے ایران میں فلسفے اور روحانیت کی تاریخ سے متعلق ہے یہ دراصل اقبال کے وہ تھیسس یا مقالہ ہیں جس پر 1907 میں ان کو جرمنی کی میونک یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری دی بعد میں انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی نے انہیں ایک اعزازی سرٹیفکیٹ دیا
دوسری کتاب سات لیکچرز کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مسلم ایجوکیشنل ایسوسیشن آف ساؤتھ انڈیا کی دعوت پر لکھے اور 1928 اور 1929 میں مدارس حیدرآباد ،میسور اور علیگڑھ میں دانشوران کے سامنے دیے ،اس کتاب کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ شائع ہوئی تو اس میں چھ وہی لیکچرز تھے جو انہوں ایجوکیشنل ایسوسیشن کی دعوت پر لکھے تھے بعد میں ایک لیکچر کا اضافہ ہوا چنانچہ اس کی تعداد سات ہو گئ لیکن کتاب چھ لیکچرز کے نام سے ہی مشہور ہو گئ ،
اقبال کی شاعری سے تو آج ایک زمانہ واقف ہے لیکن ان کی انگریزی تصانیف کو لوگ بہت کم جانتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ اپنی تصانیف میں انہوں نے دقیق فلسفیانہ اور مزہبی موضوعات سے بحث کی ہے ظاہر ہے کہ۔ان مباحث کو سمجھنے کے لیے دقت نظری اور غور و خوض کی ضرورت ہے اور چونکہ طبایع اج کل روز بروز آسانی پسند ہوتی جا رہی ہے اس لیے ان کتابوں کی طرف سے عام قارئین کی توجہ ہٹتی جا رہی ہے لیکن جن لوگوں کو فلسفہ اور مذہبیات سے دلچسپی ہے وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ نہ صرف فلسفے اور مزہب کا مطالعہ ان کتابوں کو پڑھے بغیر نا مکمل ہے بلکہ اقبال کی شاعری کو صحیح طور سے سمجھنے کے لیے بھی ان کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے ،خود اقبال بھی ان کتابوں کی اہمیت کی طرف جا بجا اشارے کرتے ہیں ،اپنی ایک کتاب جاوید نامہ میں آپ لکھتے ہیں” میں نے اپنے خیالات کو دو طرح سے پیش کیا ہے ایک دلکش طریقے اور دوسرے مشکل طریقے سے ،دلکش طریقے سے اس لیے کہ میں لوگوں کے دلوں کو مٹھی میں کر لوں اور من شکل طریقے سے اس لیے کہ ان کی عقل بھی میرے بیان کیے ہوئے حقائق کو تسلیم کرے ” دلکش طریقے سے اقبال کی مراد ان کی شاعری اور مشکل طریقے سے مراد ان کی انگریزی نثری کتابیں ،
فلسفہ آپ کا محبوب موضوع تھا اور ایم میں آپ فلسفہ میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے تھے آپ عربی زبان اور ادب کے بھی ماہر تھے اگر چہ آپ نے ایم اے فلسفہ میں کیا تھا لیکن اس کے فورن بعد جو اولین عہدہ آپ کو ملا تھا وہ اورینٹل کالج لاہور میں عربی ریڈر کا تھا جس پر آپ 1899میں مامور ہوئے اس عہدے کا نام میکلوڈ عربیک ریڈر تھا ،1907 میں پروفیسر آر اے نکلسن جو لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے چند ماہ کی چھٹی پر گئے تو لندن یونیورسٹی نے یہ جگہ اقبال کو پیش کی اور اقبال لندن یونیورسٹی میں نکلسن کی غیر حاضری میں عربی پڑھاتے رہے ،
جرمن بھی آپ بخوبی جانتے تھے اور ہندی اور سنسکرت سے بھی آشنا تھے اسلامیات اور مغربی فلسفے کے ساتھ ہی ساتھ ہندو دھرم اور فلسفے کی کتابیں اکثر زیر مطالعہ رہتی تھیں اور ہندو فلسفے کی باریکیوں کی جانب آپ نے آپ نے تصانیف میں کئ جگہوں پر معنی خیز اشارات کیے ہیں۔ عیسائیت ،بدھ دھرم اور زرتشتی مذہب کا آپ نے بغور مطالعہ کیا اور ان تمام مزاہب کا ذکر آپ نے بڑے احترام سے کیا
شاید یہ بات بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ اقتصادیات Economics اقبال کا خاص موضوع تھا اور انہونے سب سے پہلے اقتصادیات پر ہی کتاب لکھی تھی اس کتاب کا نام” علم الاقتصاد” ہے اور یہ 1903 میں شائع ہوئ تھی ،اس کتاب کو اردو میں اقتصادیات کے موضوع پر پہلی کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
تو گویا اقبال محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عالم ،فاضل اور فلسفی بھی تھے نیز اقتصادیات میں بھی آپ کی گہری نظر تھی ۔۔

Article by Arfa masood ambar

sada today web portal

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here