اقبالؔ کی نظر میں خواتین کا مقام

0
48
اقبالؔ کی نظر میں خواتین کا مقام

 

 

 

 

 

 

 

 

اسلم مرزا
9960053707
علامہ ڈاکٹرسرمحمداقبالؔ کا بنیادی رجحان گوکہ احیائے امت اسلام اور تصوف رہا ہے لیکن اُن کی اردو اور فارسی شاعری میں موضوعات کا جو تنوع اور جو چہل پہل ہے وہ قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اقبالؔ اپنے پیش رو شعراء کی شعری نزاکتوں سے مستفید ضرور ہوئے لیکن جس تہ داری اور طرحداری سے انھوں نے اپنی نظمیہ اور غزلیہ شاعری میں فکر وفن کے تروتازہ گل بوٹے کھلائے ہیں اُسے میں ایک معجزہ سے کم نہیں سمجھتا۔
اردو میں جہاں اُن کی طویل نظمیں مثلاً :مسجدقرطبہ ، طلوع اسلام، خضرراہ، شکوہ، جواب شکوہ، ذوق و شوق اور والدہ مرحومہ کی یاد میں اُن کی اسلامی تصورات کی مختلف جہات کو روشن کرتی ہے وہیں اُن کی نظمیں ہمالہ ، ہندوستانی بچوں کا قومی گیت ، نیاشوالا اور آفتاب (گایتری منتر کا آزاد اردو ترجمہ) اُن کی حب الوطنی کی اعلیٰ مثال قائم کرتی ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کی بعض عظیم شخصیات جیسے شری رام چندر ، گرونانک اور سوامی رام تیرتھ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اقبالؔ نے جہاں نوجوانانِ اسلام سے خطاب ، مغربی تہذیب ، سیاسیاتِ مشرق و مغرب جیسی تنقیدی نظمیں کہی ہیں وہیں طنزوظرافت سے مملو کلام کے بہترین نمونے اور بچوں کے لیے کہی ہوئی نظمیں اردوادب میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے ہندوستان پر مکمل طور سے اپنا تسلط جما لیا اور یہاں کے مروجہ نظامِ تعلیم کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے انگریزی زبان اور مغربی تہذیب کو فروغ دینے میں اپنی پوری قوت صرف کرنی شروع کردی۔ ہندوستانیوں کا ایک بڑا طبقہ جو انگریزوں سے مرعوب تھا وہ اُن کا ہم خیال بنتا گیا۔ اقبالؔ نے جب ہوش کی آنکھیں کھولیں تو انھیں مغربی تہذیب کی وہ تصویر نظر آئی جو براہِ راست اُن کی اسلامی فکرونظر سے معرکہ آراء ہورہی تھی۔ صورتحال یہ تھی کہ ؎
دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
شیشۂ دیں کے عوض جام و سبو لیتا ہے
ہے مداوئے جنوں نشتر تعلیم جدید
میرا سرجن رگ ملت سے لہو لیتا ہے
علامہ اقبالؔ ایک مفکر اور مصلح قوم تھے اور اِس بات سے بخوبی واقف تھے کہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں انسانی معاشرہ کی تعمیروتشکیل اور اُس کے ارتقاء میں خواتین نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ خواتین کا یہ ایک کردار قائم و دائم رہے اِس لیے علامہ اقبالؔ اس بات سے متفکر تھے کہ جدید انگریزی تعلیمی ماحول میں مسلمان خاتون اپنی مشرقی اور خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات اور اُن کے فیوض وبرکات سے تہی دست نہ ہوتی چلی جائے۔ اِسی اسلامی حمیت ، جاں سوزی اور دردمنددی نے اُن سے یہ کہلوایا ؎
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روشِ مغربی ہے مدِنظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
اقبالؔ کے لیے یہ نئی صورتحال ایک زبردست چیلنج تھا اِس لیے انھوں نے اپنی شاعری میں آزادیٔ نسواں ، پردہ، خلوت ، عورت کی حفاظت ، عورتوں کی تعلیم و تربیت اور اُن سے وابستہ جن جن موضوعات پر اظہارِخیال کیا اُسے جدیدیت پسندوں نے رجعت پرستی کا طعنہ دیتے ہوئے اقبالؔ پر خوب خوب اعتراضات کیے۔ اقبالؔ کو اِن اعتراضات کا بھرپور علم تھا اور اِس کا نوٹس لیتے ہوئے انھوں نے اپنا نقطۂ نظر یوں پیش کیا کہ :
اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے وہ قند
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اِس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردانِ خردمند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادیٔ نسواں کے زمرد کا گلوبند
گوکہ علامہ اقبالؔ نے مندرجہ بالا اشعار میں اپنا نقطۂ نظر واضح کردیا تھا ، اِس کے باوجود مخالفینِ اقبالؔ اپنی تنقید پر ڈٹے رہے۔
اقبالؔ پر سب سے پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ وہ خواتین کو جدید عہد میں ان کا صحیح مقام دینے کے حامی نہیں ہے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ آزادیٔ نسواں کی مخالفت کرتے ہوئے عورت کو سخت پردے میں رہنے اور زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ، عورت کو Main stream سے باہررکھنا چاہتے ہیں۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ عورتوں کی عصری تعلیم کے خلاف ہیں۔
اب یہاں غور یہ کرنا ہے کہ کیا یہ اعتراضات واقعی اہم اور توجہ طلب ہیں یا صرف جدید طرزِفکر کے حامل اہل علم اپنے اعتراضات سے اقبالؔ کو کم رتبہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
جہاں تک مجھ کم علم کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ خواتین کے متعلق اقبالؔ کے جو خیالات اور جو سوچ و فکر ہے وہ قرآن مجید اور مختلف احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئے ہیں۔
آزادیٔ نسواں کے مبلغین کے اعتراض کے بارے میں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آزادیٔ نسواں صرف ایک تھیوری ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ آزادیٔ نسواں کی یہ تھیوری کس معاشرے میں اورکب زیربحث آئی۔ جن حضرات کو ماضی کی تاریخ کا علم ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مغرب میں صنعتی انقلاب تک یعنی سولہویں اور سترہویں صدی تک عورت صرف ایک سامانِ تفریح سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی تھی۔ مغربی معاشرے میں نہ اس کی کوئی قدروقیمت تھی اور نہ اہمیت۔ عورت کو ان تمام انسانی مراعات سے بھی محروم رکھا گیا تھا جن کی وہ حقدار تھی۔ نام نہاد جمہوریت میں تو آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک اسے انتخابات میں ووٹ دینے کا بھی حق نہیں تھا چہ جائیکہ وہ کسی سیاسی تحریک میں حصہ لیتی۔ صنعتی انقلاب نے یہ کیا کہ اسے بھی مشین کی ایک پرزہ بنا دیا۔ ان منفی حالات کے پیش نظر آہستہ آہستہ مغرب میں جب خواتین صنعتی اکائیوں سے جڑنے لگیں تو آزادیٔ نسواں کی لہر چلی اور دیکھتے دیکھتے مرد اور عورت دونوں کو مساویانہ حقوق اور مراعات دینے کا مطالبہ شروع ہوا۔ مغرب میں عورت اب تمام اخلاقی اور فطری قیود سے آزاد ہونے لگی کیونکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی معاشی زندگی کے شب و روز کی کارروائیوں کو طے کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے آزاد ہوچکی تھی۔ آپ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج یہ سلسلہ ہم جنس شادیوں کو اور Live in relation کو بھی قانونی درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ یہ آزادی نظامِ فطرت کے سراسر منافی ہے۔
ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان اور دنیا کو اپنے نقشے کے مطابق بنایا ہے۔ ہمارے روز و شب ، زندگی، موت، حتی کہ اس کائنات کی تمام اشیاء ایک متحد اور منظم انداز میں رواں دواں ہیں۔ اگر انسان اس میں ذرّہ برابر بھی دخل اندازی کرے گا تو کوئی بھی معاملہ درست انداز میں نہیں چلے گا بلکہ نفسانی فساد کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
اقبالؔ چونکہ اسلامی شعائر تہذیب اور تعلیمات کے پروردہ، شیدائی اور ہمنوا تھے اس حقیقت سے خوب واقف تھے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے قوانین کے مطابق عورت اور مرد خاندانی اکائی کے ایسے پہیے ہیں جن کے بغیر گاڑی چل نہیں سکتی۔ اسلام نے مرد کو عورتوں کے اوپر قوام یعنی نگراں اور منتظم اسی لیے بنایا ہے کہ عورت پیدائشی طور پر جذباتی ہوتی ہے اور اس کے جذبات پر قابو رکھنے والا کوئی ضرور چاہیے۔ اسلام نے یہ نہیں کہا کہ مرد افضل ہے اور عورت کم افضل۔ قرآن مجید نے تو عورت اور مرد کے مساویانہ حقوق کی حمایت آج سے پندرہ سو سال پہلے ہی کردی تھی۔ برنارڈ لیویس نے اپنی کتاب “What went wrong” (مطبوعہ ۲۰۰۲ء صفحہ ۸۳۔۸۲) میں اِس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ :
” Islamic civilization granted muslim women relatively more property rights than women in the West.”
قرآن مجید میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک خداپرست مرد اور ایک خدا پرست عورت کی صفات کا ذکر سورۃ الاحزاب کی ۳۵ویں اور ۳۶ویں آیاتِ مبارکہ میں نہایت شاندار اسلوب میں بیان فرمایا ہے :
’’بے شک اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں، اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں، اور فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ان کے لیے اللہ نے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کررکھا ہے۔ کسی مومن مرد یا کسی مومن عورت کے لیے گنجائش نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو پھر ان کے لیے اس میں اختیار باقی رہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمائی کرے گا تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔‘‘
یعنی عورتوں اور مردوں کے جو اوصاف فرمائے گئے ہیں وہ یکساں ہیں اور اِن صفات میں اسلامی عقیدہ اور اسلامی کردار کے تمام پہلو سمٹ آئے ہیں جس کے اقبالؔ ہمیشہ داعی رہے ہیں۔
اقبالؔ کے مجموعہ کلام ’’ضربِ کلیم‘‘ میں ایک باب ’’عورت ‘‘کے عنوان سے ہے جس کے تحت ہمیں ۹؍نظمیں ملتی ہیں جو واقعی چشم کشا ہیں۔ چونکہ یہ نظمیں میرے موضوع سے متعلق ہے اِس لیے یہاں اِن کا حوالہ ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ نظمیں ہیں :پردہ ، خلوت ، عورت کی حفاظت ، عورت اور تعلیم اور آزادیٔ نسواں ۔
جیسا کہ میں نے گذشتہ صفحہ میں کہا ہے کہ آزادیٔ نسواں (Feminism) صرف ایک تھیوری ہے اور اِس کی کئی شکلیں ہیں اور کئی گروپ ہیں۔ یہ ایک سیاسی سماجی اور آئیڈیالوجیکل تحریک ہے۔ Feminism یعنی آزادیٔ نسواں کی پہلی لہر انیسویں صدی میں امریکہ اور برطانیہ میں ابھری، جہاں پہلی مانگ یہ تھی کہ خواتین کو قانونی آزادی دی جائے۔ اِس کے بعد یہ تحریک کئی دھڑوں میں تقسیم ہوتی گئی جس کا سبب یہی تھا کہ ہر ملک اور معاشرے کے اپنے اپنے تہذیبی پس منظر تھے اور سب سے اہم بات یہ تھی اور ہے کہ اِس تحریک کا کوئی ایک نقطہ اتصال یا نقطہ اتفاق نہیں ہے۔ علامہ اقبالؔ چونکہ یورپ میں ایک طویل عرصہ تک رہے اِس لیے انھیں آزادیٔ نسواں کی تحریک کا بھرپور علم تھا۔ اِسی لیے’’ آزادیٔ نسواں‘‘ جیسی مختصر نظم میں انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور یہ سوال بھی کھڑا کیا کہ ؎
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادیٔ نسواں ، کہ زمرد کا گلوبند
آج سے سو سال پہلے اقبالؔ نے آزادیٔ نسواں کے جس مغربی تصور کو افراط و تفریط کا شکار اور غیرمتوازن کہا وہ تجزیہ کل بھی درست تھا اور آج بھی درست ہے۔ آزادیٔ نسواں کے حامیوں نے آج جو اودھم مچا رکھا ہے اور سماج میں جس قسم کی برائیاں جنم لے رہی ہیں اس کے متعلق جتنا بھی کہا جائے کم ہے اور یہاں وہ موقع بھی نہیں ہے۔
چلئے اس اعتراض کا جواب بھی اقبالؔ کے یہاں تلاش کرتے ہیں کہ وہ جدید عہد میں عورت کو صحیح مقام دینے کے حامی ہیں یا نہیں اور خواتیں کو پردے کی تلقین کیوں کرتے ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو معمارِانسانیت کہا گیا ہے۔ اقبالؔ کہتے ہیں ؎
رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ ، آئینۂ دل ہے مکدر
بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہوجاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر
آغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
وہ قطرۂ نسیاں کبھی بنتا نہیں گوہر
ان چھے مصرعوں میں اقبالؔ نے ہمیں بتادیا کہ جس کے نصیب میں آغوشِ صدف نہیں ہے وہ بارش کی بوند کبھی گوہر نہیں بن سکتی۔
اقبالؔ شرعی پردے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ حواس باختہ حورانِ مغرب کی نقالی کرنے والی خواتین کے بارے میں کہہ رہے ہیں جن کی جلوہ آرائیاں ہزار قسم کی برائیوں کو جنم دیتی ہیں۔
یہ بات سمجھنی چاہیے کہ شرعی پردہ عورت کی کسی سرگرمی میں حائل نہیں ہوتا۔ خوب و زشت کا معیار انسان کبھی طے نہیں کرسکتا ہے۔ دراصل اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نظر میں جو اچھا ہے وہ اچھا اور جو برا ہے وہ برا۔ ایک حدیث مبارکہ روایت کی جاتی ہے کہ : ’’عورت کی عزت وہی شخص کرے گا جو شریف ہو اور عورتوں کو وہی شخص بے عزت کرے گا جو کمینہ ہو۔‘‘
اب معاملہ یہ ہے کہ مرد کے لیے تو نسبتاً سخت کام کی ذمہ داری ڈال دی گئی اور عورت کو ہلکے کام کی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مرد اور عورت کے بہتر اخلاق کی شناخت ہوتی ہے۔ چونکہ مرد اور عورت دونوں کو مل کر زندگی کے شب و روز گزارنے ہیں اور باہمی تعاون سے کارِجہاں کے ٹھیلے کو آگے دھکیلنے کے کام بھی انجام دیتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے تو تمام اہل علم واقف ہیں۔ جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے دین میں عورتوں کو گھر سے باہر بھی کام کرنے کی اجازت ہے لیکن شرعی حدود میں رہتے ہوئے۔
ہمارے عہد میں مردوں اور عورتوں کے اوقات کار میں اب ہر طرح کی سہولیات مہیا کردی گئی ہیں۔ چونکہ میں کئی صنعتی اداروں کے ساتھ مشیرقانون کی حیثیت سے جڑا ہوا ہوں۔ خوب دیکھتا ہوں کہ شفٹ ورکنگ نے ملازمین کی صرف صحت پر ہی نہیں بلکہ گھریلو زندگی اور نفسیات پر بھی مضراثرات مرتب کیے ہیں۔ اب خواتین تن تنہا رات کی شفٹ میں کام کرتی ہیں۔ زنابالجبر کے واقعات ، جو ہم آئے دن اخباروں اور ٹیلی وژن کی نشریات میں پڑھتے اور دیکھتے رہتے ہیں، اُن سے بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ عورت کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اس کی ذمہ دار خود عورت ہے جو ہر قسم کی آزادی کی خواہاں ہے۔ جدیدعہد نے ہمیں منفی زیادہ اور مثبت فوائد سے کم کم ہی نوازاہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ شرعی پردہ عورت کی کسی سرگرمی میں حائل نہیں ہوتا۔ مروجہ برقع اسلام میں پردے کا معیار ہرگز نہیں ہے بلکہ اصل پردہ وہ ہے جس میں نمود و نمائش نہ ہو اور قدم قدم پر شرم و حیا کا مکمل احساس بیدار رہے۔ اقبالؔ کی رائے میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت اور حقیقتِ ذات پر پردہ نہ پڑا ہو اور اس کی خودی آشکار ہوچکی ہو، اس لیے انہوں نے کہا ہے کہ ؎
بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے
ابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے
علامہ اقبالؔ کے خیال میں ایک عورت پردہ میں رہ کر اپنی ذات کے امکامات پر غور و فکر کرتی رہتی ہے۔ اپنے خاندان کی بھلائی کا سوچتی ہے۔ یہاں پردے کا مطلب خلوت ہے اور اسی خلوت میں اس کے رازِدروں اس پر وا ہوتے رہتے ہیں۔ گھر کے ماحول میں وہ ان تمام سماجی برائیوں سے محفوظ رہ کر اپنی اولاد اور اپنے خاندان کی تعمیروتشکیل کا بنیادی فرض ادا کرتی ہے۔ خاندان معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے اور عورت اس بنیادی اکائی کی محافظ ہے۔ اقبالؔ کو اس بات کا احساس تھا کہ جب تک کسی عورت کے حالات غیر نہیں ہوجاتے ، وہ پردے سے باہر نہیں آتی۔ لیکن فیشن کے ہاتھوں اپنی مرضی سے پردے کو طاق پر رکھ کر، اپنی زیب و زینت، نمائش، بے باکی اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتی ہے تو نہ صرف خود ذہنی پراگندگی کا شکارہوجاتی ہے بلکہ اپنے لواحقین کو بھی نفسیاتی امراض میں ملوث کردیتی ہے۔ اس وجہ سے خاندانی اکائی کے تانے بانے بکھرنے لگتے ہیں، بنیادیں ڈھنے لگتی ہیں۔ علامہ اقبالؔ کی نظر میں قدرتی اور فطری اصول تو یہی ہے کہ عورت کی خودی اور اس کے ذاتی جوہر جلوت میں نہیں خلوت میں ہی کھلتے ہیں۔
بعض تازہ ترین اطلاعات کے مطابق UNESCO نے اپنی ریسرچ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یوروپین یونین میں جہاں صرف %۳۳ خواتین مختلف موضوعات پر ریسرچ کے کاموں میں مصروف ہیں وہیں عرب ممالک میں یہ تعداد %۳۷ تک پہنچتی ہے۔ ایران کی یونیورسٹیوں میں تقریباً %۶۰ لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ UNESCO کی ۲۰۱۶ء کی رپورٹ کے مطابق ملائشیائ، الجزائر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت میں %۷۰ خواتین یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں اور شرعی پردے کی پابند بھی ہیں۔ ان اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی ممالک میں خواتین شرعی حدود میں رہتے ہوئے زیورِتعلیم سے آراستہ ہورہی ہیں۔
صرف تعلیم ہی نہیں تجارتی میدان میں بھی مسلمان خواتین شرعی پردے کی پابندی کرتے ہوئے ترقی کررہی ہیں جس کا حوالہ ہمیں ۲۰۱۴ء کی انٹرنیشنل بزنس رپورٹ میں صراحت کے ساتھ ملتا ہے۔ زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے یہاں میں اُس رپورٹ کے مرتب گرانٹ تھرونٹین کا حوالہ دوں گا کہ جس نے لکھا ہے کہ تجارتی میدان میں اونچے عہدوں پر جہاں ڈنمارک کی خواتین صرف ۱۴؍فیصد اور امریکن خواتین ۲۲؍فیصد ہے وہیں انڈونیشیا جیسے اسلامی ملک کی تجارتی کمپنیوں میں ۴۰ ؍فیصد مسلم خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
علامہ اقبالؔ نے بھی عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے پر صرف تہذیب فرنگی کے مضر اثرات سے دور رہنے کی تاکید و تلقین کی ہے ،تعلیم حاصل کرنے سے منع نہیں کیا ہے کیونکہ تعلیم حاصل کرنا عورت کا بھی حق ہے۔ علامہ اقبالؔ چاہتے تھے کہ فرنگی تعلیم کی تاثیر سے ’’زن‘‘ کو’’نازن‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ کی ایک نظم کا بند ملاحظہ کیجیے ؎
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت
اقبالؔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک عورت کے لیے یہ کیا کم خوش نصیبی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہرین وقت اس کی گود میں پلے بڑھے ہیں۔
مغربی تعلیم کی مخالفت علامہ نے صرف اس حد تک کی کہ اس سے ماں کی ممتا کی روایت کمزور نہ ہوجائے اور خاندانی اکائی کا تانہ بانہ نہ بکھر جائے ، جس کے نمونے آج صرف مغرب ہی میں نہیں وطن عزیز میں بھی ہمیں دیکھنے مل جاتے ہیں۔ ماں کی ذات چونکہ تمام خاندانی سرگرمیوں کی بنیاد ہے اس لیے مغربی تعلیم کے مضر اثرات خاندانی رشتوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
علامہ اقبالؔ کے خیال میں اسلام عورت کے لیے ایسے ماحول کی حمایت کرتا ہے جہاں عورت اپنی مثبت صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اور فطرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنا فرضِ منصبی نبھاتے رہے۔
اپنی بات اقبالؔ کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں کہ ؎
وجود زن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here