’’اللہ کے نام پر دیدے بابا‘‘

0
274
’’اللہ کے نام پر دیدے بابا‘‘

ابراہیم نثار اعظمی۔۔۔کوارڈینیٹر شاہین اکیڈمی لکھنو
ریڈ لائٹ جل چکی تھی وہ اپن بچے کو لیکر جلدی سے کراسنگ کی طرف دوڑی اور باری باری سے ساری گاڑیوں کے سامنے سے ہاتھ پھیلا کر مانگتی چلی گئی ۔مگر وہاں پر اکوئی فریاد کو سننے والا نہیں تھا ہر کسی پاس التجا کرتے ہو ئے آخر تک پہونچ گئی ۔اتنے میں گرین سگنل ہو گیا ۔ساری گاڑیا ں تیز رفتاری کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔اب پھر وہ اپنے بچے کی پیاس بجھانے کی خاطر اپنی جگہ واپس آکر سوکھے ہوکھے ہوئے چھاتیوں سے لگا لیا ۔مگر بچہ برابر روتا رہا ،بچے جس چیز کی تلاش تھی وہ اس کے جسم سے ختم ہو چکی تھی ۔بچے کی تسلی کی خاطر بار بار اپنے سینے سے چمٹاتی رہی ۔مسلسل اسی کوشش میں لگی رہی اسی دوران سگنل پر ریڈ لائٹ پھر نمودار ہوئی ۔اس امید کے ساتھ پھر دوڑی کی شاید کوئی مدد کرے پہلی ہی گاڑی پر اس کی مدد کے لیے ایک آدمی نے شیشہ کھو لتے ہوئے کہا ’’اس بچے کا باپ کون ہے ،جب بچے کو کھلانے کا ذریعہ نہیں ہے تو بچے پیدا کیوں کرتے ہو ،اس طرح کے چبھتے وئے الفاظ اس کی کانوں میں گونجنے لگے ۔سسکیاں اس کے گلے تک آچکی تھیں انکھیں بھر آئیں نظر کو جھکا تے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
فقیرن کے دل میں یہ بات گھر کر گئی کہ اس بچے کا باپ کون ہے ؟؟؟کیوں بچہ پیدا کرتی ہو ؟؟لالچ میں پھر واپس اس کے پاس آئی کہ شاید کچھ پیسے مل جائیں ۔اس بار سیٹھ اس کو غور سے دیکھنا شروع کیا ۔اوپر سے نیچے تک فقیرن کے سارے کپڑے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے تھے ۔اس کے کپڑے سے بھینی بھینی بو آرہی تھی ۔اب سیٹھ کی نظر اس کے سارے جسم کی سیر کرتا ہو ا اسکے پھٹے ہوئے بلاوز پر آکر رک گئی استین کا ایک حصہ پھٹا ہو ا تھا جو کی اس کے جسم کی نمائش بنا ہوا تھا گندمی رنگ اس کی پنڈولیامحور بن گئی ۔فقیرن ابھی صرف دو بچوں کی ماں تھی کوئی خاص عمر نہیں تھی ہونٹ سوکھے ہوئے تھے کئی دنو ں سے نہ نہانے کی وجہ سے چہرے پر دھول جمی ہوئی تھی ۔
یہ سب دیکھنے کے بعد سیٹھ بول پڑا
’’کام کروگی میرے گھر بہت پیسے ملیں گے ‘‘
نہیں ساب نہیں جائیگی‘‘
’’کھانا کپڑا رہنے کے لیے گھر سب کچھ ملے گا ‘‘
’’کیسا کام ملے گا کیا کرنا ہوگا مجھے ۔اس بعد بچے کو دیکھتے ہوئے فقیرن نے کہا ٹھیک ہے میں کرون گی ،اب سیٹھ جلدی سے اپنا کارڈ دیا جس پر اس کے فارم ہاوس کا پتہ لکھا ہوا تھا ۔اوروہاں سے چلا گیا ،گوین سگنل ہو چکا تھا ۔
اس بعد فقیرن دوسری گاڑی کی طرف بڑھی وہاں سے دس روپیہ کا نوٹ ملا ،، اسن یجلدی سے واپس آتے ہوئے اپنے بچے کے لئے سما م،نے والی ہو ٹل سے دودھ لیا ایک جگہ پر بیٹھ کر بچے کو دودھ پلا نے لگی ۔بچے کو دودھ پلاتے ہوئے وہ سیٹھ کے بارے میں سونچنے لگی ۔
کسی طرح سے رات گزارا صبح اٹھتے ہی اپنے فقیر دوستوں سے ایک اچھا سا مانگا ہوا کپڑا مانگا ۔ پیچھے ایک بڑے سے نالے مپر بیٹھ کر نہا یا جسم کی صفائی کی کپڑے بدلے ،بال کو اچھی طرح سے کنگھا کیا اپنے بچے ہوئے کپڑے کو دوپٹے میں باندھا اور ساتھ میں لے لیا ۔پھر اس کارڈ کو لے کر پتہ پوچھنے لگی حیران وپریشان تلاش ومعاش کے بعد شام کے وقت اندھیرے میں اس کے گھر پر پہونچی۔دروازے پر کھڑی آواز دیدنے لگی سیٹھ ؟؟ْسیٹھ دروازہ کھولو زور زور سے چلانے لگی ۔کچھ دیر کے بعد نوکر نے دروازہ کھولا ،
’’کیا بات ہے ابھی تمہارے بھیک مانگنے کا وقت ختم نہیں ہوا ؟؟؟؟
کیوں اس وقت یہا ں آئی ہو ‘‘؟؟؟
’’ارے ساب مجھے سیٹھ نے بلا یا تھا اس لیئے آئی ہوں ‘‘
’’اچھا رکو ‘‘
نوکر اندر گیا سیٹھ سے کہا
کون ہے ؟؟؟ کیسی ہے ‘‘
’’ایک فقیر عورت ہے اس کے پاس ایک بچہ بھی ہے‘‘
وہ بول رہی ہے آپنے بلا یا ہے
’’ہا ن ٹھیک ہے یہ کنجی لو اور اس کو پیچھے والے کمرے میں بٹھا و میں نے اسے بلا یا تھا۔نوکر تعجب کرتے ہوئے تالی کا گچھہ اٹھا یا واپس آکر فقیرن کو ساتھ لیااور پیچھے کے راستے سے روم تک اسے چھوڑ دیا تھا ۔ھر نوکر اپنے کام میں مشغول ہو گیا ۔فقیرن کو جس کمرے میں رکھا گیا اس میں ضرورت کے سارے سامان موجود تھے ۔۔باتھ روم، کچن ،بیڈ سوفہ، الماری ،سنگھاردان وغیرہ ابھی سارا سامان دیکھ حیرت و تعجب میں گھوم رہی تھی کی اتنے میں سیٹھ کی آمد ہوئی ۔ آتھے ہی اس نے کہا تم جلدی سے نہا دھو کر الماری سے کپڑے نکا ل ر پہن لو ۔تم تھک گئی ہو تھوڑا ٓرام کرلو ،نوکر کھان بھی لاکر تم کو دیدیے گا ۔کل صبح تم کو کام پر جانا ہے اس کے بعد سیٹھ چلا گیا ۔
فقیرن نے جلدی سے نہایا گرم پانی سے زندی میں پہلی بار ایسا باتھ روم دیکھا تھا آج اسے بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔نہانے کے بعد کپڑے بدل لئے بالک نئے کپڑے تھے سارے کچھ میک اپ بھی کرلیا تھا ۔اتنے میں نوکر کھانا بھی لے کر آگیا ۔فقیرن کی زندگی میں کبھی ایسا گھر ملے گا کبھی اس نے سوچا نہیں تھا وہ سوچ رہی تھی کی کاش اپنی زندگی میں ایک گھر اپنا بھی ایسا ہی ہو مگر ہماری زندگی میں یہ سب کہا ں ممکن ہے میرا گھر تو سڑک کا کنارا ہے اتنے میں سیٹھ کی بات بھی یاد آنے لگی آخر کون سا کام مجھے کرنا ہوگا ،کہا جانا ہے مجھے کام کرنے کے لئے لایا تھا اس نے اب بچہ بھی بھوک سے رونے لگا اس نے جلدی سے بچے کو کھانا کھلا یا اور سلادیا کھانے کو بعد وہ بھی سو گئی ۔
سیٹھ کئی سالوں سے تین بیویا ں چھوڑ چکا تھا اب اس کی زندگی میں کوئی نہیں تھا گھر جائیداد وارس کوئی نہیں تھا بس ایک نوکر جو اس کی خدمت کرتا تھا اس کے علاوہ صرف دولت اس کے پاس تھی رات کہیں بھی گزار لیتا تھا اس طرح سے اس کی بیویوں کے چھوڑے ہوئے کپڑے موجود تھے ۔
صبح ہوتے ہی سیٹھ پھر نمودار ہوا اناشتہ کرنے کے بعد اسے لیکر اپنے فارم ہاوس پر گیا ۔وہاں پہونچ کر کہا یہاں تم کو رہنا ہے اس کی صفائی ستھرائی کرنا ہے
’’تھیک ہے سیٹھ مین کروں گی ‘‘
ارے یہ بچہ تم کیوں ساتھ لائی ہو ‘‘
’’کیوں ساب یہ میرا بچہ ہے تو میرے ساتھ ہی رہے گا ‘‘
’’تم اسے کسی اور کو دیدیتی ۔کیا کروگی ۔کیوں یہ مصیبت پال رہی ہو ‘‘
میں سوچتا ہوں تم یہاں صرف اکیلی رہو اور اپنا ساراکام کرو ۔آج سیٹھ کو و فقیرن حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی گویا کی ابھی اس کی شادی بھی نہ ہوئی ہو ۔اچھا ایم کام تم اس بچے کو اسکول میں ڈال دو تا کہ اس کی پڑھائی بھی ہو تی رہے گی اور تم کام بھی کر لیا کروگی ۔
’’ ہاں ساب یہ تھک ہے ‘‘
بچے کو اسکول میں داخل کرادیا ۔اب سیٹھ کی ساری مشکلا ت دور ہو چکے تھی ۔جاتے ہوئے سیٹھ نے کہاں میں رات کو آ یا کرونگا ملنے ، تم تیا ر رہنا ،تھیک ہے ساب لی۹کن رات کو کیوں دن میں کیوں نہیں ؟؟؟؟
’’تم جانتی ہو اتنا بڑا میرا کارو بار ہے میں دن میں نہیں آسکتا نا
تھیک ہے ساب جیسی آپکی اچھا ہو ،
رات کے وقت سیتھ آیا اور اس کو بو لا کھانا کھیالیا تم نے آج رات میں یہی سوئوں گا بچہ بھی سو چکا تھا اس نے کچھ پیسی دیے کہ تم اسے اپنے پاس رکھنا اپنے کھرچ کے لئے ،دھیرے دھیرے اس کے قریب آیا کیا بات ہے آج بہت خوش لگ رہی ہو ۔ہاں جی اچاھ لگ رہا ہے یہا ں کام کرتے ہوے بات کرتے کرتے اس کے اتنے قریب آگیا گیا کہ اس کے جسم کی گرمی کو محسوس کرنے لگا ۔اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے اس ہاتھ فقیرن کے جسم کے ابھار کی طرف تیزی سے دورنے لگا ،کبھی دونوں ایک دوسرے کو دبوچنے کی کوشش کرتے ۔سیٹھ کو وہ جسم آج کسی حسین ملکہ سے کم نہیں لگ رہا تھا اس کے سارے کپڑے اتار دیئے ننگے جسم کے ساتھ اس نے ہم بستری کیا مگر فقرن بار بار اسے منع کرتی پرہی نہیں ساب یہ غلط ہے ۔آپ کی بوی بچے ہونگے نا ،کیوں ایسا کررہے ہیں ۔جنسی خواہشات پوری کرنے کے بعد بولا میرا کوئی نہیں ہے ،لیکن میں ایسی نہیں ہوں میرے بچے ہیں ،میں کسی کی ماں ہوں۔مگر سیتھ کہاں تک برداشت کر سکتا تھا اس نے اپنی ہوس کی ساری حدیں توڑ دیں اس طرھ سے دو مہینہ تک اپنی ہوس کی آگ بجھا تا رہا ۔
اس طرح سے وقت گزرتا رہا فقیرن بھی اس میں دلچسپی لے نے لگی تھی اس کے جسم میں تبدیلی ہو شروع ہو چکی تھی۔پہلے سے بہت زیادہ خوش تھی ۔اب سیٹھ آتا تو وہ اس کو دور بھگانے کی کوشش کرتی تھی مگر سی ٹھ کو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا بات ہے وہ مسکرا کر ٹال جا تی تھی ۔دھیرے سے کان مین ایک دن چپکے سے کہا ا ب آپ باپ بننے والے ہیں ۔اتنا سننا تھا کہ سیٹھ کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ۔اس کی پریشانیاں بڑھنے لگی اب وہ اسے گھر سے نکا ل نے کی فکر میں تھا ۔ایک دن اچانک اس کے گھر پر حملہ ہوا بڑی مشکل سے فقیرن جان بچانے میں میں کامیاب ہو گئی ۔اس دن شام کے وقت پھر سیٹھ اس کے پا س آیا ۔اور جبرن اپنی خواہشات پوری کرنے لگا ۔اب فقیرن بھی اس سے انتقام لینے کی سوچ میں پڑ گئی ۔جسیے ہی سیٹھ اس کے قریب آیا اس نے چپکے سے کان میں کہا
’’اے سیٹھ تمہارا نام کیا ہے رے؟؟؟
’’کیوں کیا بات ہے آج تم میرا نام کیوں پوچھ رہی ہو ‘‘
کیوں ساب اب تمہارے ہونے والے بچے کے بارے میں لوگ پو چھیں گے تو کیا بتائوں گی ان کو ‘‘
اتنا سننا تھا کی سیٹھ کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئیں ::
سیٹھ نے اسے گھر سے باہر نکال دیا ،وہ بار بار چلاتی رہی تمہارا نام کیا ہے ؟؟؟ لو گوں سے کیا بتاوں گی جب اس بچے کے بارے میں لو گ پو چھے گے ۔تم نے بھی تو مجھ سے یہ پو چھا تھا نہ کہ اس بچے کیا باپ کون ہے؟؟ تو اس دن میرے پاس جواب نہیں تھا آج کیا بتا وں گی ۔
ارے ساب سرم آتی ہے تم لوگوں پر سف دولت کا سہارا لیکر ہم جیسی عورتوں کی زندگی بر باد کر کے سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیتے ہے ۔اس طرح سے فقیرن پھر اپنی دنیاں میں اللہ کے نام پر دیدے بابا کہتے ہوئے واپس لوٹ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابراہیم نثار اعظمی ۔۔کوارڈینیٹر شاہین اکیڈمی لکھنوشاہین اکیڈمی لکھنو9036744140

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here