۔اگر تم مجھ سے کہہ دیتے۔روایتی اندازسے ہٹا ہوا شعری مجموعہ

0
62
۔اگر تم مجھ سے کہہ دیتے۔روایتی اندازسے ہٹا ہوا شعری مجموعہ
۔اگر تم مجھ سے کہہ دیتے۔روایتی اندازسے ہٹا ہوا شعری مجموعہ

’اگر تم مجھ سے کہہ دیتے‘ – ایک مطالعہ روایتی اندازسے ہٹا ہوا شعری مجموعہ

اگر تم مجھ سے کہ دیتے ۔سننے میں کتنا الگ سا ہے۔ہندوستانی معاشرے میں غزل پُرکشش اور دل آویز رہی ہے۔ شروع سے اس کا موضوع حسن وعشق،تجاہل وتغافل، ظلم وجبر، گلے شکوے رہے ہیں۔ اس صنفِ سخن میں وہ چھاجانے اور گھر کرلینے والی کیفیت رچی بسی رہی ہے جس نے دلوں پر حکمرانی کی ہے۔ ڈاکٹر انجنا سنگھ سینگر کے مجموعہ کلام کے عنوان کو ہی دیکھتے ہوئے احساس ہوجاتا ہے کہ یہ دل کے نہاں خانوں کے نازک ترین لمس کا ترجمان ہے۔ ’اگر تم مجھ سے کہہ دیتے‘‘ میں اپنائیت، محبت، خود اعتمادی، خود سپردگی، جانثاری، د ستبرداری جیسی ان گنت دلی کیفیات موجزن ہیں اور اگلے صفحہ پر جب یہ شعر سامنے آتاہے:
محبت کا گلہ شکوہ زمانے سے کیا تم نے
اگر تم مجھ سے کہہ دیتے نہ دل اتنا دُکھاہوتا
تو وارداتِ قلب وذہن کی تمام پرتیں روشن ہوجاتی ہیں۔ در اصل غزل کی شاعری غنّا کی دلآویزی اور شعری موسیقیت کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے لہٰذا شگفتہ اور غنائیہ بحروں کے اختیار کرنے کو مستحسن سمجھا جاتاہے۔ انجنا صاحبہ نے اِسے پوری طرح ملحوظ رکھاہے۔
اُن کے یہ چند مطلعے ملاحظہ ہوں:
تم ہی سے پیار کرتی ہوں تم ہی سے روٹھ جاتی ہوں
بھلے تم دور ہو مجھ سے ، میں تم کو پاس پاتی ہوں

خواہش ہو مری پیاس ہو حسرت بھی تم ہی ہو
بے تابئ دل کے لیے راحت بھی تم ہی ہو

چلے بھی آئیے مل کر جناب ڈھونڈیں گے
کئی سوال ہیں جن کے جواب ڈھونڈیں گے

جو نظر میں تیری سرور تھا وہ مری غزل میں اُتر گیا
مرے حسن کا یہ کمال ہے جسے دیکھ تو بھی نکھر گیا

کئی رشتے زمانے میں بکھر کر ٹوٹ جاتے ہیں
بہت بڑھتی ہے خود بینی تو اپنے چھوٹ جاتے ہیں

ابھی تو عشق کی شمع جلی ہے رات باقی ہے
نگاہوں کی نگاہوں سے ابھی تو بات باقی ہے

مذکورہ مطلعوں سے متعلق تمام غزلوں میں ایک پُرکشش، دھیما اور مترنم لہجہ ہے۔ ان میں اپنائیت بھی ہے اور کسک بھی۔ کیف آگیں خیال انگیزی، جذبات کا وفور، والہانہ شیفتگی اور سرشار کردینے والا انداز اُن کی بلندئ درجات کا ضامن ہے۔
نظموں میں ’’تنہائیاں بلاتی ہیں‘‘، ’’علی گڑھ ‘‘اور ’’خوش آمدید‘‘کا تجزیاتی مطالعہ کیجیے تو بظاہر یہ نظمیں زندگی سے متعلق مختلف سوالات پر مبنی ہیں، لیکن ان کی زیریں لہریں فہم وادراک کے نہاں خانوں میں مستقل دستک دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
پہلی نظم رومان اور حقیقت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ دلی جذبات واحساسات کی عکاس نہیں بلکہ خوشگوار فضا وماحول کی بھی متمنی ہے۔
دوسری نظم میں ُگلشنِ سید کے حوالہ سے اُس فیضان کو منعکس کیا گیا ہے جو انسانیت، محبت اور اپنائیت کا جلوہ گر ہے۔
تیسری نظم حبس زدہ ماحول کے دریچوں کو کھولتے ہوئے فرحت ومسرت کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ اس میں انسان تذبذب کی کیفیت میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر نظر آتاہے۔ خوبی یہ ہے کہ ڈاکٹر انجنا سنگھ نے ان تینوں نظموں میں بالواسطہ طور پر حسّی جذبات اور اقدار کی کشاکش کو نشان زد کرتے ہوئے انسانی باطن کی تفہیم کے امکانات روشن کیے ہیں۔
کہا جاتاہے کہ دُکھ سُکھ ، نشیب وفراز، بلندی اور پستی یہ سب زندگی کے مختلف رُوپ ہیں کیوں کہ زندگی دُھوپ چھاؤں کے مانند ہوتی ہے اور فنکاراسی سے متاثر ہوکر اپنی شاعری کو پروان چڑھاتا ہے اور نئے نئے اشعار خلق کرتاہے۔انجنا صاحبہ کا یہ موثر اندازِ تخاطب ملاحظہ ہو:
وطن سے پیار کرنے کا مرا جذبہ نرالا ہے
میں اپنے دل کی دھڑکن میں ترنگا لے کے چلتی ہوں

تم ہی پوجا ہو میری اور تم ہی میری عبادت ہو
تمہاری یاد میں بجھتے دیوں کو میں جلاتی ہوں

میں اس کا قرض اب کیسے اتاروں انجناؔ وہ تو
بنانے میں مجھے سوبار خود ہی ٹوٹ جاتی ہے
معاشرے کی تشکیل میں عورت، مرد کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چلتی رہی ہے لیکن نہ جانے کیوں مرد کی انا نے اُسے برابری کا درجہ نہ دیا۔ کائنات کے ساتھ اپنے رفیقِ سفر پر بھی بالادستی اور برتری قائم رکھنے کی کوشش کی اور سائے کی طرح ساتھ رہنے والی عورت کو لاشعوری طور پر احساسِ کمتری میں مبتلا کیا۔ اِس عمل نے تفریق کی دیوار کو اونچا کیا۔ ستم یہ ہوا کہ فریقِ ثانی نے سخت قدم اُٹھانے کے بجائے صبر و تحمل اور اطاعت و فرمابرداری کا ثبوت پیش کیا۔ اِس اُمید کے سہارے کہ آنے والے کل میں حالات بدل جائیں گے۔ حالات بدلے مگر مزاج، نیت اور خصلت نہیں۔ نتیجتاً ساتھ ساتھ چلنے والی شریکِ سفرذہنی طور پر دُور ہوتی چلی گئی۔ اضطراری کیفیت نے رفتہ رفتہ اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کیاجس کے سبب بچیوں کی تربیت میں جنسی تفریق کے مراحل بالواسطہ طور پرمرد اساس ذہنیت کا اظہاریہ بن گئے۔صدیوں بعد جب اس جانب توجہ دلائی گئی تو ردِ عمل نے باغیانہ شکل اختیار کرلی جس کا واضح اظہار انجنا سنگھ کے کلام میں ہے:
تجھے خودپہ اتنا غرور کیوں مری چاہتوں کا سبب ہے یہ
تو بکھرنے والا تھا ٹوٹ کر مرا ساتھ پا کے سنور گیا

وفا کا حسن شرافت کا نور ہو جس میں
وہ اک دلہن کئی نسلیں سنوار دیتی ہے

سکھاتی ہے ہُنر دنیا میں رہ کر دنیا داری کے
وہی ماں ہے جو قسمت میں مری جنت لکھاتی ہے

اس گھر کو تھی ضرورت رونق کی چاندنی کی
آئی ہو پر تِبھا تم گھر سارا جگمگایا
اِس بے حد ترقی یافتہ زمانے میں ٹوٹنے بکھرنے کے عمل سے تنہائی صرف انفرادی نہیں بلکہ ایک معاشرتی صداقت کے طور پر اُبھری ہے جو احساس دلاتی ہے کہ موجودہ معاشرہ تنہا اکائیوں کا ہجوم ہے۔ آج جس قدر خارجی فاصلے سمٹے ہیں، اُسی قدر داخلی طور پر لوگ ایک دوسرے سے دُور ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے انتشار، عدم تحفظ ، بے معنویت، بے قدری، خوف، مایوسی، اُداسی، اجنبیت، بیگانگی، بیزاری، الجھن، اُکتاہٹ جیسے تاثرات انسانوں کے دل ودماغ پر آسب کی طرح مسلط ہوگئے ہیں۔ ذہنی تناؤ کے دُھندلکے سے پیدا اِس کیفیت کو ڈاکٹر انجنا سنگھ سینگر نے بحُسن وخوبی اِس طرح اُجاگر کیاہے:
یہ میری بدنصیبی ہے کہ سارے خواب آنکھوں کے
حقیقت میں بدل جانے سے پہلے ٹوٹ جاتے ہیں

ابھی تو چند لمحے ساتھ گزرے ہیں ترے جاناں
محبت کے سفر میں عمر بھر کا ساتھ باقی ہے

رقم تھی جس میں محبت کی داستاں ہمدم
کسی دراز میں ہم وہ کتاب ڈھونڈیں گے
روایتی انداز سے ہٹے ہوئے اِس شعری مجموعہ میں انسانی جذبات واحساسات کو متشکل کرنے کا عمل فطری اور لہجہ نرم وخوشگوار ہے۔ خوبصورت اور رواں اشعار قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور غوروفکر کا یہی عمل اس کی مقبولیت اور انفرادیت کا ضامن ہے۔

پروفیسر صغیر افراہیم
سابق صدر شعبۂ اُردو
علی گڑھ م

Article by Sagheer Ifraheem

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here