لے سانس بھی آہستہ۔نیلم۔احمد بشیر کا افسانوی مجموعہ ۔سیمیں درانی کا تبصرہ

0
108
لے سانس بھی آہستہ۔نیلم۔احمد بشیر کا افسانوی مجموعہ ۔سیمیں درانی کا تبصرہ
لے سانس بھی آہستہ۔نیلم۔احمد بشیر کا افسانوی مجموعہ ۔سیمیں درانی کا تبصرہ

لے سانس بھی آہستہ
نیلم۔احمد بشیر کا افسانوی مجموعہ اور سیمیں درانی کے احساسات۔

نیلم آحمد بشیر سے کب کیسے کہاں میرے لگاؤ کی ابتدا ہوئی مجھے علم نہیں۔ یقین جانیے انکو پڑھا بھی نہیں تھا۔ کچھ مقناطیسیت تھی ۔فیسبک پہ انکو ایڈ کیا۔ نیلم احمد بشیر ،جو بھی لکھتیں۔میں شوق سے پڑھتی۔ پہلی بار ملاقات ہوئی نیشنل بک فاؤنڈیشن کے میلے میں ہوئی جہاں مجھے بھی بولنے کو مدعو کیا گیا تھا۔ میں نے حسب عادت کتابی باتوں کی بجائے اپنے دل اور سوچ کی پٹاری کھولی۔ بےجھجک بولی کیونکہ مجھے قلم قبیلے کے کسی گروپ یا لابی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ باہر نکلی تو نیلم جی بہت خوش تھیں۔ جھٹ بولیں “تم نے مجھے اپنی جوانی یاد دلا دی تم ایسی ہی رہنا”۔ اور ہم دونوں ان موضوعات پہ گفتگو کرنے لگے کہ جو کہ عمومی قاری کے ہاضمے کی بات نہیں۔ نیلم جی کی جیولری کی بہت شیدائی ہوں اور ان سے بلا جھجک مانگتی رہتی ہوں۔ انہوں نے میرے لیے بہت سی جیولری الگ سنبھالنا بھی شروع کردی۔ میری انسیت ان سے دن بدن بڑھتی رہی۔ انکی شخصیت سے جڑی انکی تربیت تھی جو مجھے انکی جانب کھینچتی تھی۔ اور اسکے پیچھے انکے ًابا جی ً احمد بشیر صاحب کی تربیت تھی۔ ابا جی نے اپنی بیٹیوں کو اعتبار،محبت،اور بے پناہ خود اعتمادی دیکر بالکل اسی طور بگاڑ کر سنوار دیا تھا۔ جیسا کہ ہمارے ابو جی نے۔ یہ عقدہ مجھ پہ ابا جی سے نیلم احمد بشیر کی بے پناہ محبت اور لکھی گئی تحریروں کے پڑھنے سے کھلا اور،میں نیلم جی سے خود کو لا شعوری طور پہ مزید محسوس کرنے لگی۔ ابا جی اور ابو جی نے Misfits” in this Conservative Society
کو پروان بھی چڑھایا اور،انکو زنانہ وار زندگی گزارنے کے ان رازوں سے آشنائی کروائی کہ یہ سب بیٹیاں اپنی پہچان آپ ہیں۔ ابو جی گئے تو میں بالکل تنہا ہوگئی۔مجھے کچھ نہ سوجھا تو جھٹ نیلم جی کو کال ملائی۔ اس چٹان ہمت شخصیت نے مجھ سے گھنٹہ بھر بات کی۔ مجھے سمجھایا اور مضبوط تر کیا۔ انکی منافقت سے پاک وائبز نے مجھے جس طور سنبھالا میرا مان اور،حوصلہ مزید بڑھتا چلا گیا۔ اور عقیدت بھی
میں
پچھلے ماہ پہلی بار لاہور جانا ہوا تو فصیح باری خان کے گھر انسے ملاقات ہوئی۔ میں نے انکے جھمکوں اور انگوٹھی کو تعریف کی تو فوری اتار کر مجھے تھما دئیے اور میں نے بھی پل بھر دیر نہ لگائی پہنے اور،فصیح سے تصاویر بنوا لیں۔
نیلم جی نے مجھے فوری طور پہ سب سے انمول تحفے سے نوازا۔ انکے افسانوں کی کتاب “لے سانس بھی آہستہ”.
کتاب شروع کی تو کتاب نے مجھے جکڑ لیا۔ ایک موقع پہ مجھے محسوس ہوا کہ جب کتاب لکھی جا رہی تھی تو میں نیلم جی کے آس پاس ہی موجود تھی۔ سو کتاب رکھ دی اور دوسری کتاب شروع کی۔ چونکہ کتاب ” لے سانس بھی آہستہ” کی تاکید کر رہی تھی لہذا میں نے اسکو اسی طور پڑھنا شروع کیا۔
کتاب مجھے چھوڑنے کو رضامند نہ تھی یا میں کتاب کو. یہ تو علم نہیں۔ کتاب پڑھتی جاتی اور ساتھ ساتھ اپنے تاثرات بھی قلمبند کرتی جاتی. آخری افسانہ،کہ جس کے نام سے کتاب منسوب ہے پڑھتے ہی کتاب بند کی اور فون کی جانب لپکی۔ انکی رسیلی آواز سن کر پہلا جملہ یہی کہا۔ “اگر،آپ سامنے ہوتیں تو چرن چھوتی میں آپکے. کمال ،غضب کا افسانہ ہے. ” باقی افسانے اپنی جگہ الگ کہانیاں اور منفرد موضوعات سمیٹے ہیں۔ لیکن اسنے تو کمال ہی کردیا. میں گویا دہل سی گئی. نیلم جی نے بتایا کہ پڑوسی ملک میں اس افسانے پہ نہ صرف ڈرامہ بن چکا ہے بلکہ اسکے مختلف زبانوں میں  تراجم بھی ہوچکے ہیں۔
افسانے کے سکرین شاٹس میں تبصرے کے ساتھ لگاؤں گی تاکہ سب قارئین مستفید ہوں۔
اب ہم سانس بحال کرکے کتاب کی سیر کو نکلتے ہیں۔
انکی لکھائی جہاں کہیں ملتی پڑھتی۔ میں ہر ایک کو پڑھ نہیں پاتی۔ جب تک کہ تحریر مجھے خود سے جکڑ نہ لے۔
کتاب کے عنوان میں ہی ہم عورتوں کو تنبیہ کردی گئی ہےکہ سانس کی آواز بھی مرد کی سماعت پہ بار گذر سکتی ہے۔ سو آہستہ۔
انکے افسانے ایک نیم مردہ عورت کے زندہ جزبات کی بہترین عکاسی کرتے ہیں اور اسکے وجود میں پنپنے والی ان لا تعداد خواہشوں اور فطری تقاضوں کا احساس دلاتا ہے جو ہمارے معاشرتی آئی سی یو میں کوما کی حالت میں نسلوں سے سانس لے رئے ہیں۔ مصنوعی آکسیجن پہ۔
عورت خواہ مشرقی ہو یا مغربی۔ قدرت نے فطرت،جذبات،محسوسات اور ذہنی و جسمانی تقاضے اور،اسکا قالب ڈھالنے میں برابری سے کاریگری کی ہے۔ یہ بات نیلم احمد بشیر کے افسانوں میں نمایاں طور پہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ عورت ہی انکے افسانوں کا مرکز ہے۔ خواہ مغرب کی ہو یا مشرق کی. گو دیگر موضوعات پہ قلم اٹھایا اور چونکہ انہوں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ مغرب میں بھی گزارا ہے تو وہاں کی زندگی کے چلن سے بخوبی آگاہ ہیں اور اسلیے انکا قلم دونوں معاشروں کے رویوں کو عمدگی سے برتتا ہے،کہیں چوکتا نہیں۔ طبقاتی تفریق،معاشرتی اکائیاں،جانور سے لیکر انسانی حقوق و قوانین،غرض جو بھی موضوع برتا۔ کہیں بھی تشنگی محسوس نہ ہوئی۔
اگر مشرقی عورت کو لیکر لکھتی ہیں تومکمل۔مشرقی روشنائی سے قلم الفاظ کی لڑیاں پروتا ہے اور الفاظ یوں رواں ہوجاتے ہیں گویا سورج مشرق سے نکل رہا ہو۔ لیکن پھر یہی سورج اپنے عروج پہ پہنچ کر جلانے لگتا ہے اور،قاری اسکی تپش شدت سے محسوس کرتا ہے۔ انکا افسانہ بھوک اسکی مثال ہے جسمیں نہ صرف عورت کی نفسیات بلکہ طبقاتی نظام اور اس سے جڑے گنجلک مسائل پہ لکھنے میں مہارت رکھتی ہیں۔
تازیانے ایسے لگاتی ہیں کہ معاشرہ انکو تاج بنائے سر پہ پھرتا،ہے کیونکہ  اس پدرسری معاشرہ کیلیے” اماں میں ایک بڑی خاصیت اور بھی تھی۔ وہ سوفیصد سے بھی زیادہ عورت تھیں۔ ایک خالص،عورت جو مرد کی،اور پورے کنبے کی باندی ہوتی ہے”
“بیٹیو  اگر اگلے گھر جا کر کامیاب زندگی گزارناچاہتی ہو تو برتری کا تاج مرد کے سر پہ ہی سجے رہنے دینا۔ اسے اپنے سر پہ رکھنے کی خواہش نہ کرنا ورنہ زندگی خسارے کا سودا بن کر رہ جائے گی۔ ” یہ نیلم احمد بشیر کا طرز تحریر ہی ہے کہ ممتاز مفتی انکو “منٹو کی پٹھی” کہا کرتے تھے۔
نیلم احمد بشیر کا موضوع محبت بھی ہے. اور محبت اور اسکی شدت کی طالب عورت کی ہستی بھی جسے “ٹھنڈی چائے جیسی محبت گوارا نہ تھی” وہ عورت جو محسوس کرتی ہے کہ ” اگر اسنے مجھ سے محبت کرنا چھوڑ دی تو میں جی نہ پاؤں گیَ، میری ہستی خطرے میں پڑ جائے گی” ۔ اور دوسری جانب اپنی پہلی محبت کو نبھانے والا معاشرتی معاہدے میں جکڑے جانے والا مرد بھی جو کہ اس،معاہدے پہ دستخط کرنے والی دوسری پارٹی جو کہ عورت ہوتی ہے اسکو یکسر نظر انداز،کرنے کا حق،رکھتا،ہے تو کہیں صرف اس حق سے عورت کو بھبھوڑ کھاتا ہے کہ قدرت نے اسکو آلہ تناسل سے نواز رکھا ہے سو،اسکو کسی سوشل یا مزہبی قانون کی پابندی نہیں۔ جبکہ عورت پہ واجب ہے کہ وہ مرد کی مردانہ قوت کا اشتہار بنی اسکی کمزوری پہ پردہ ڈالے رکھے۔ جب صرف خاوند ہی خاوند باقی رہ جائے “۔ اور اس یقین پہ مہر ثبت کی کہ مرد کتنا ہی طاقتور ہو عورت کے بنا ادھورا ہےاور اس ادھورے مرد کی تکمیل ایک عورت کے وجود،سے ہی ہوتی ہے خواہ وہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔
کمال منفرد مضامین سے مکمل انصاف کیا۔
“سالا کتا” یہ وہ آئینہ ہے جو تیسری دنیا کے ممالک کی تیسرے درجے کی آبادی کو دکھایا جاتا ہے۔گورا ہمیں Terrorists, Do More اور U Dont Perform upto the Mark
کے جملوں سے نوازتے ہیں ۔ اور ہم اپنی مملکت کی حقیر،سانس لیتی دو،پایا مخلوق،کو۔
میں .
“ختم” ۔ اس افسانے کا اختتام میری بھیگی پلکوں پہ ہوگا مجھے یکسر اندازہ نہ تھا۔ یہ پلکیں بابا حمیدکی موت پہ نم ہوئیں یا کہ اس مرغ کی،ٹانگ سے محروم رہ جانے پر جو اسکا بیٹا باپ کے قل کے موقع پر عرصے بعد چبا رہا تھا۔
” گل پھینکے ہیں” تبصرہ کیا کرتی۔ معاشرے کا نوحی سناتے اس،افسانے کے ایک کردار کیلیے منہ سے بے ساختہ “لعنت” کا لفظ نکلا اور،میں حسب عادت سوچ،میں گم ہوگئی۔
“دائمی محبت” نے مجھے اس محبت کی دنیا میں لیجا کھڑا کیا کہ جس کی شدت کا شکار میرے ابو جی۔ انکے اور امی جی کے لکھے انگنت خطوط جن کو پچاس برس تک تو وہ سنبھالتے رہے۔ اور اب میں ابوجی کے لائے ہوئے Echolac کے سوٹ کیسوں میں بند کرکے پیٹی میں سنبھال کر رکھے بیٹھی ہوں۔ کاغذ اپنی اہمیت آج بھی رکھتا ہے. اس گیجٹ کے زمانے میں بھی اگر کہیں سے کھویا ہوا خط یا پوسٹ کارڈ مل جائے تو لگتا ہے سونے کے اوراق ہاتھ لگ گئے۔
“مدد” سکسر لگایا ہے نیلم احمد بشیر نے۔ شادی شدہ مردوں کے پوشیدہ معاشقے،بزدل مزاجی لیکن طاقتور جنسی اطوارپہ نیلم جی کا لگا گیا سکسر کا گیند خوب لگا۔ یہ وہ معاشرہ کہ جس نے مزہب کو جامعہ مسجد تک محدودرکھا ہے. اصل کیا ہے ۔ اسکی کھوج نہیں۔ پڑوس،کی بیٹی رات کو نائٹ شفٹ کرتی کہ یار کے،ساتھ۔ اسی سوچ میں غلطاں معاشرہ.
عورت کو اسکے برابر کے مرتبے کا کب حصول ہوگا۔ شاید تب جب مرد اپنی جبلت کی شکتی سے نکل کر سماجی اور الوہی طاقت کی جانب راغب ہوگا. اسکو تب شاید دیوار پہ یہ کنندہ کروانے کی ضرورت،پیش،نہ آئے کہ  “مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا”.
آخری افسانے میں ہماری قدیم رسم جس میں وڈیرانہ فیوڈل نظام کے تحت جوان بیٹوں کو آسمانی کتب سے بیاہنے کی رسم کو نشتر کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔ اسمیں انہوں نے دریا کو جس طور کوزے میں بند کیا۔ یہ انہی کا خاصہ ہو سکتا ہے۔
تبصرہ۔ سیمیں درانی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here