۔ سادگی سے عید ۔ افسانچہ ۔اسید اشہر

3
99
سادگی سے عید ۔ افسانچہ ۔اسید اشہر

افسانچہ.سادگی سے عید بے حد سبق آموز افسانہ ہے ۔اس بار غریبوں نے ہی نہیں امیروں نے بھی سادگی سے ہی عید منائی ہے ۔ پوری دنیا لاک ڈائون میں ہے مگر تہوار تو منانا ہی ہوتا ہے اور اس کی خوشی بچوں کو ذیادہ ہوتی ہے ۔لیکن غریب بچے اکژ نئے کپڑوں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ ہم سبھی کی یہ کوشش ہونی چائے کہ غریبوں کی عید بھی اسی طرح ہو جیسی امیر مناتے ہیں اسی عنوان پر ایک کہانی اسید اشہر کی پیش خدمت ہے،

اسسید اشہر بارہویں کلاس کے طالب علم ہیں ان کی عمر سترہ سال ہئے بہت چھوٹی عمر سے لکھ رہے ہیں انکی بچوں کی کہانیوں کی دو کتابیں اچکی ہیں انکو مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی سے ان کی کتاب پر ایوارڈ مل چکا ہئے یہ افسانچے بھی لکھتے ہیں انکی تخلیقات اردو ہندی مراٹھی اخبارات و رسائل میں تواتر سے شائع ہوتی رہتی ہیں

سادگی سے عید

کھڑکی سے خاموش سڑکوں کو کچھ دیر تکنے کے بعد وہ اپنی بیوہ ماں سے مخاطب ہوا
“ماں! کب تک اِس شہر پر سناٹے کا راج رہے گا؟”
“بس کچھ دن اور بیٹا! تم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو.”
“اس سال عید کیسے منائی جائے گی؟ ایسے سناٹے میں عید منانا اچھا تو نہیں لگے گا؟”
“بیٹا، وہ سب بار بار اعلان کررہے ہیں کہ اس سال عید سادگی سے منائیں۔”
“ماں، کیا اس بار بھی مجھے نئے کپڑے نہیں ملے گے؟”
“بیٹا، اس دفعہ بھی ہم پرانے ہی کپڑوں میں عید منائیں گے۔”
“لیکن ماں، تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ اس بار مجھے نئے کپڑے ضرور ملے گے۔”
“بیٹا!” ماں اپنی نم آنکھیں خشک کرتی ہوئی بولی۔ “اس دفعہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ اس سال تو کوئی بھی نئے کپڑے نہیں خریدے گا۔ سب پرانے کپڑے پہن کر عید منائیں گے۔”
“ایسا کیوں ماں؟”
“اللّٰہ کی مصلحت ہے بیٹا!”
“سچ؟ تب تو میں بھی اس عید پر اپنے پرانے کپڑوں پر فخر جتا سکوں گا۔” بچے کے چہرے پر خوشی بکھر گئی۔وہ دوبارہ کھڑکی سے حد نگاہ تک پھیلے سناٹے کی طرف متوجہ ہوگیا

Afsancha ghareebon ki eid

Asyad ashar

sada Today web portal

 

3 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here