زمین کی بے التفاتی.افسانہ ۔دو گز زمین نصیب نہ ہو سکی

0
67
زمین کی بے التفاتی.افسانہ ۔دو گز زمین نصیب نہ ہو سکی
زمین کی بے التفاتی.افسانہ ۔دو گز زمین نصیب نہ ہو سکی

زمین کی بے التفاتی نام تھوڈا عجیب ضرور ہے مگر ذمین کی بے التفاتی ان معنوں میں بھی لی جاسکتی ہے  کہ ذمین کس طرح بے التفات ہو سکتی ہے۔ذمین کی بے التفاتی سے یہاں یہ بھی مراد ہے کہ زمینوں کے لئے تو اکثر لوگ بے ایمانی کرتے ہی ہیں مگر کبھی کبھی کچھ زمینیں بھی بڑی بے ایمان،بے مروت اور ظالم ثابت ہوتی ہیں۔چاہے انھیں حاصل کرنے کے لئے ان کے حاصل کرنے والے نے کیسی ہی بے ایمانی کی ہو۔کیسی ہی بے عزتی لادی ہوبے حیائی کی کیسی ہی چادر اوڑھی ہو چاہے بے ایمانی کرنے میں اپنے سگے بھائی اور بہن سے بھی نہ چوکے ہوں۔
کہانی یوں شروع ہوتی ہے ہمارے گائوں میں ایک صاحب منے چچا ہوا کرتے تھے۔منے چچا تھے تو ایک معمولی آدمی ان کے گائوں میں ایک کچا مکان اور شاید دو چار بیگھہ کھیتی تھی مگر وہ تھے بڑے شاطربڑے جگاڑو انسان، ہمیشہ اسی تاک میں رہتے کہ کب سو روپے کا مال نو روپے میں ملے اور اس کو خرید لوںاور اپنی جاگیر اور حیثیت بڑھا ئوں اور وہ لگاتار ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے۔کہتے ہیں کہ سانپ مارنے والے کے آگے سانپ آتا ہے تو ایسے موقعے لگاتاران کے ہاتھ آتے رہتے ہیںان کے والد تیری میری زمینیں نقشی پر لیکرکھیتی کرتے اور منے چچا افسروں کو کھلا پلا کر ان زمینوں میں اپنے والد کا نام بھروا لیتے چند روز میں ہی منے چچا اچھی خاصی زمین کے مالک ہو گئے جب ملک تقسیم ہوا اور پریشان حال لوگ تین تین سو روپے میں دس دس بیگھہ زمین اور باغ بیچ بیچ کر پاکستان بھاگنے لگے منے چچا فوراً ایسا مال خریدنے پہنچ جاتے پر پراپرٹی بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی بد نیتی بھی دن بدن بڑھتی جا رہی تھی لالچ نے ان کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا کئی بار انھیں بے عزتی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر عزت بے عزتی کی انھیں پرواہ نہ تھی۔وہ کسی بھی ضرورت مند کو دو چار سو روپے ادھار دیتے پھر وہ ادھار بڑھاتے رہتے آخر ایک دن اس غریب کا مکان اور زمین سب کچھ سود میں لکھوالیتے اب تو باقاعدہ انھوں نے سود بھی لینا شروع کردیا تھا۔اب گائوں میں ان کے متعدد مکان اور بہت زمین ہوگئی تھی ۔محلے والے انھیں پاس بٹھانا اور ان کے پاس بیٹھنا بھی پسند نہ کرتے تھے لہٰذا انھوں نے لوگوں کی زبان بند رکھنے کے لئے خوب نذر و نیاز خیرات زکوٰۃ بھی کرنا شروع کردیا تھا۔
ایک بار منے چچا ایسے ہی اک جگاڑ میں اپنے شہر سے دور گئے وہاں لوگوں کے ساتھ نہانے نہر پر گئے نہا کر پاجامہ پہن رہے تھے پاجامے کے پائچے میں پائوں الجھ گئے۔منے چچا منہ کے بل نہر میں جا گرے کچھ دیر تک لوگوں کو بہتے دکھائی دئیے پھر ان کی لاش نہ مل سکی ان کے بیٹے نے غوطہ خوروں سے ان کی لاش ڈھونڈوائی مگر ہزار کوشش کے باوجود ان کی لاش نہ مل سکی ہائے ڈھائی سو بیگھا زمین اکھٹی کرکے بھی دو گز زمین نصیب نہ ہو سکی افسوس ساری بے ایمانی بیکار گئی۔دو گز زمین بھی اس بے التفات زمین نے انھیں نہ دی۔

ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی
نمبر دار ہائوس،نوریوں سرائے، سنبھل،اتر پردیش
موبائل:9837759663

Afsana by kaifi sambhali

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here