افسانہ۔مونچھ کا سوال۔ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی

0
953
افسانہ۔مونچھ کا سوال۔ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی
افسانہ۔مونچھ کا سوال۔ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی

ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی

مونچھ کا سوال

 

 

 

 

 

 

مونچھ کا سوال

قاسم چودھری صرف گائوں کا ہی نہیں بلکہ علاقے کا ماناہوا غنڈہ تھاجو چیزاسے پسند آجائے اس پر اپنا حق سمجھتا تھا اور جبراً اسے قبضہ لیتا تھا۔اپنی بات پر اڑ گیا تو اڑ گیاہر بات کو اپنی عزت آبرو سے جوڑ لیتا اور مونچھ کا سوال بنا لیتا۔
اسی کے مقابلے اسی کے گائوں میں دوسرا بدمعاش بھی رہتا تھاناصر چودھری وہ بھی قاسم کی طرح منہ زور سر پھرا اور خود سر تھا دونوں میں سدا چھتیس کا آنکڑا رہتا تھا آئے دن گولیاں چلتیں لوگ زخمی ہوتے گرفتار ہوتے پولس والوں کے وارے نیارے ہوتے مگر جیل سے باہر آتے ہی دونوں پھر اپنی اپنی حرکتوں میں مصروف ہو جاتے پھر شرابیں پی جاتیں جوا کھیلا جاتا ہار جیت ہوتی ہار جیت کے بعد ناچ گانے ہوتے دعوتیں اڑائی جاتیں علاقے بھر کے بدمعاش غنڈے چوٹے اٹھائی گیرے اکھٹے ہوتے ایک عجیب ماحول گائوں پر طاری ہوتا۔

شریف لوگ ادھر کو گذرتے ہوئے بھی ڈرتے نہ جانے کیا دونوں نالائقوں کے دماغ میں آجائے اور بے وجہ کوئی مصیبت کھڑی ہو جائے۔
اس زمانے میں خانہ بدوش لوگ کثرت سے ہمارے گائوں کی طرف آتے جگی جھونپڑی ڈالتے اور رہنے لگتے ایک وقت میں کئی کئی قبیلے ایک گائوں میں اکھٹے ہو جاتے ان کے ساتھ ان کی جوان بوڑھی عورتیں بھی ہوتیں۔قاسم اور ناصر ان کے دائیں بائیں منڈراتے رہتے اور کامیاب بھی ہو جاتے راضی تو راضی ورنہ زبردستی مگر بات وہیں کے وہیں ختم ہو جاتی چند دن کا تماشہ رہتا پھر سب جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر ایک بار ایسا ہوا ایساہی ایک خانہ بدوش کنبہ گائوں میں آکر ٹھہرا اس قبیلے میں ایک جوان لڑکی بڑی خوب صورت بلکہ حسین کہو،نام کنچن رانی بھی آئی تھی اس کی بھوری بھوری آنکھوں اور گوری رنگت بھرے گداز جسم کا قاسم اور ناصر دونوں پریکساں جادو چل گیادونوں ہی اس کے دیوانے ہو گئے اور اس پر قبضہ کرنے کی سوچنے لگے مگر اس وقت قاسم چودھری ناصر چودھری پر بھاری پڑا اور کنچن رانی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیاناصر چودھری چوٹ کھاکے سانپ کی طرح پھن پٹک پٹک کر رہ گیاکرتا تو کیا کرتا مقابلہ طاقت ور سے تھا کوئی کمزور ہوا تو گلا دبا بھی دیا جاتانتیجہ خاموش رہنے میں ہی بھلائی نظر آئی زخم اندر ہی اندر ناسور ہوتا چلا گیا۔

دونوں کی دشمنی میں مزید اضافہ ہو گیا ناصر اپنی ناکامی نہ بھولا اور کنچن کی خوب صورتی اور جوانی اسے تڑپاتی رہی مگر کیا کرتا ہر لمحہ اپنی شکست کو نئے نئے زاویوں سے دیکھتا اور اپنی شکست کو نئے نئے جواز دیتا۔
ادھر قاسم چودھری کنچن کو بیاہتا بیوی کی طرح عزت و احترام دیتا محبت دیتا اور ہر لمحہ اس کا بڑا خیال رکھتا وہ یہ بھی خوب جانتا تھا کہ ناصر نچلا بیٹھنے والا نہیں ۔آج نہیں تو کل بدلہ ضرور لے گا لہٰذہ ہر وقت ناصر کے مقابلے کو تیار رہتا اور کنچن کے ارد گرد اپنے معتمد اور نادار ساتھیوں کا سخت پہرہ رکھتا عین ممکن تھا اگر کوئی جھوٹ بھی کہہ دیتا ناصر آج ادھر آیا تھا تو وہ ناصر کی جان لینے پر تل جاتاوہ تو یہ اچھا ہی ہوا کہ کسی کو یہ شرارت نہ سوجھی کیوں کہ لوگوں کو بات کھلنے پر اپنی جان جانے کا بھی خطرہ تھا۔

وقت دھیرے دھیرے گذرتا رہا کنچن قاسم کے ساتھ بیوی کی طرح آرام سے رہتی رہی ۔کہتے ہیں کہ چوٹ جتنی پرانی ہو اتنا ہی درد زیادہ کرتی ہے یہی حال ناصر کا تھا چوٹ پرانی ہو رہی تھی ناصر کا درد بڑھا رہی تھی۔
قاسم نے پچاس لاکھ کے عوض شراب کے بیوپاری کمل جیت سنگھ کا قتل کردیا قتل تو ہو گیا پچاس لاکھ بھی مل گئے مگر قاسم کی زندگی عذاب ہوگئی مدتوں ادھر ادھر چھپتا پھرا مگر کب تک آخرمیں ایک دن قاسم چودھری کو جیل جانا ہی پڑا اور جیل میں رہ کر عدالت نے دس سال کی سخت سزا سنائی قاسم جیل چلا گیا اب کنچن اکیلی رہ گئی کیا کرے گروہ کے سارے لوگ تتر بتر ہو گئے۔
ناصر نے موقع غنیمت جانااور اپنا پرانا حساب قاسم سے چکتا کرناچاہا سوچا دس سال کس نے دیکھے ہیں کون مرا کون جیا آخر ایک دن وہ رات کو قاسم چودھری کے گھر پر اپنے لوگوں کو لے جا کرچڑھ گیا اور کنچن کو اٹھا لایا۔

کنچن نے اسے بہت ڈرایا دھمکایا مگر وہ تو سرسے کفن باندھ کے آیا تھا کنچن کو لے جا کر ہی مانا۔
قاسم سزا کاٹ کر باہر آیا حالانکہ سارے حالات کا علم اسے جیل ہی میں ہوگیا تھا اور اس نے وہیں سے انتقام کی ساری تیاری کر لی تھی اس نے گائوں میں آتے ہی ناصر سے کہلا بھیجا کہ یا تو اب اپنی بہن کو میرے حوالے کر دے یا مرنے کو تیار ہو جا صرف کنچن ہی نہیں چاہئے۔
دونوں کے ہم درد بزرگ بدمعاشوں نے دونوں میں صلح کرانے کی بہت کوشش کی بہت سمجھایا مگر سب بیکار۔
سب نے قاسم کو سمجھایا کنچن کوئی تیری نکاہی بیوی ہے جو اتنا دل پر بات لے رہا ہے۔کوئی خانہ بدوش قبیلہ اور آئے تو کوئی اور عورت رکھ لینا۔
مگر اس نے یہی کہا کہ ناصر کی یہ جرأت ہوئی کیسے کیا اسے پتہ نہیں تھا کہ میں کنچن کو اپنی بیوی مانتا ہوں یہ کنچن کی بے عزتی نہیں یہ سیدھی میری بے عزتی ہے یہ ناصر نے مجھے للکارا ہے،مجھے چیلنج کیا ہے اب اس کا مزہ بھی تو چکھ لے۔آخر ایک دن قاسم اپنے حالی موالیوں کے ساتھ دولہا بن کر برات لے کر ناصر کے گھر جا دھمکا ناصر کہیں گیاہوا تھاقاسم نے ناصر کی بہن کو اٹھایا اور گھر لے کر چلاہی تھا کہ ناصر بھی آپہنچا۔
فائرنگ کے شور سے سارا علاقہ گونج اٹھا گلی کوچے دہل گئے اور شام کو لوگوں نے دیکھا کہ دونوں بدمعاش قاسم اور ناصر زمین پر پڑے ہیں۔
ان کا ظلم ان کی بربریت ان کی حالت پر لعنت ملامت کر رہی تھی۔گائوں میں چاروں طرف مہیب سناٹا تھا اور کوئی آواز نہ تھی۔

ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی
نمبر دار ہائوس،نوریوں سرائے، سنبھل،اتر پردیش
موبائل:9837759663

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here