ایفائے عہد۔۔ یوم عاشور کا تپتا ہوا دن،ریت کا ذرہ ذرہ دہک رہا تھا

0
67
ایفائے عہد۔۔ یوم عاشور کا تپتا ہوا دن،ریت کا ذرہ ذرہ دہک رہا تھا
ایفائے عہد۔۔ یوم عاشور کا تپتا ہوا دن،ریت کا ذرہ ذرہ دہک رہا تھا

ایفائے عہد کیفی سنبھلی کا مختصر افسانہ ہے ۔ایفائے عہد سے یہاں مراد کیا ہے؟اس افسانے میں ایفائے عہد کس تاریخی پس منظر کو بیان کر رہا ہے وہ بہت ہی الگ ایفائے عہد کی مثال ہے۔اس عنوان ایفائے عہد کے تحت یہ بہت خوبصورت تحریربہے

عاشور کا تپتا ہوا دن،ریت کا ذرہ ذرہ دہک رہا تھا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔دشتِ کربلا میں آگ برس رہی تھی۔شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؑ کی لاش دہکتی ریت پر پڑی تھی کہیں دور تک سایہ نہ تھا۔
حضرت امام حسینؑ کی اہلیہ شہزادی ربابؑ نے یہ منظر دیکھا اور امام حسینؑ کی لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا کہ میرے والی و وارث جب تک میں زندہ رہوں گی نہ سائے میں سوئوں گی نہ سائے میں بیٹھوں گی نہ کبھی بستر پر سوئوں گی اسی طرح زمین پر بیٹھی رہوں گی۔
برس گذرتے گئے شہزادی نے روش نہ بدلی ہر چند شہزادی زینبؑ اور امام سجادؑ نے حد درجہ گذارش کی مگر شہزادی رباب نے کسی بات کا اثر نہ لیا۔
ایک دن آسمان پر کالے کالے بادل گھر آئے بڑی تیز بارش آئی بجلی چمکنے لگی اور اولے پڑنے لگے بی بی زینبؑ نے بہت خوشامد کی کہ بھابی جان چل کر سائے میں بیٹھئے مگربی بی ربابؑ نے انکار کر دیا۔تب مجبوراً امام سجادؑ نے جا کر کہا مادرِ گرامی میں بیٹے کی حیثیت سے نہیں امام کی حیثیت سے آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ چل کر سائے میں بیٹھئے۔
بس اب بی بی ربابؑ کے سامنے حکمِ امام کی مجبوری تھی بی بی ربابؑ نے کربلا کا رخ کیا اور حسینؑ کو مخاطب کرکے کہا میرے والی و وارث اگر حکم امام کی مجبوری نہ ہوتی تومیں کبھی اپنے عہد سے نہ پھرتی بس بی بی نے اٹھنے کا ارادہ کیا امام سجادؑ نے دیکھا بی بی ربابؑ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔

ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی
نمبر دار ہائوس،نوریوں سرائے، سنبھل،اتر پردیش
موبائل:9837759663

Afsana ehde wafa by kaifi sambhli

sada today web portal

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here