افسانہ۔ڈونیشن۔ اسلم آزاد شمسی

1
54
افسانہ۔ڈونیشن۔ اسلم آزاد شمسی
افسانہ۔ڈونیشن۔ اسلم آزاد شمسی

اسلم آزاد شمسی ؔ اسسٹنٹ ٹیچر

8210994074

فیصل اپنی سیٹ پر بیٹھا کتابوں کا مطالعہ کر رہا تھا. اس کی بغل والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے بچوں سے باتیں کرتے ہوئے کہہ رہا تھا. بیٹا۔ بچوں کا خیال رکھنا دوپہر میں انہیں گھر سے باہر نکلنے نہ دینا بڑی سخت دھوپ ہو رہی ہے اور باہر لو چل رہی ہے دھوپ اتنی ہے کہ چہرہ جھلس جائے.. …. فیصل پہلی بار کلکتے کے سفر پر تھا وہ بھی بالکل اکیلا ۔سفر میں اس کا ساتھی اس کی کتابیں تھیں جو اس کے سفر کو دلچسپ اور آسان بنا رہی تھی۔ لیکن اسے دل ہی دل سفر پر پیش آنے والی پریشانی اور مشکلات کی فکر ستا رہی تھی. وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا پتہ نہیں کہاں ٹھہرو گا، وہاں کلکتہ شہر میں تو میرا کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے اور اوپر سے مجھے بنگلہ زبان بھی تو نہیں آتی؟ پتہ نہیں کون کون سا مسائل در پیش آنے والا ہے اور اس طرح کی کئی نامعلوم سوالات اس کی ذہن میں گردش کر رہا تھا. گاڑی آسنسول اسٹیشن سے روانہ ہو چکی تھی اور گاڑی میں بھیڑ مزید بڑھ چکی تھی.نئے داخل ہونے والے لوگ اپنی اپنی جگہ بنانے کے لیے کوشاں تھے ۔ فیصل ابھی بھی کتابوں میں کھویا ہوا تھا کہ تبھی ایک انگریزی لباس میں ملبوس شخص اس کمپارٹمنٹ میں داخل ہوتا ہے. بھائی صاحب۔ بھائی صاحب۔ارے بھائی صاحب، میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اس شخص نے فیصل کو اپنی طرف متوجہ کیا تو فیصل کا تسلسل ٹوٹا ۔ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ اس شخص نے پوچھا ہاں ہاں۔۔ ۔کیوں نہیں . آئیے۔فیصل نے جگہ بناتے ہوئے اسے اپنے پاس بٹھا لیا. وہ شخص کافی امیر، پڑھا لکھا، تہذیب یافتہ اور الیٹ کلاس ہائی پروفائل آدمی معلوم ہو رہا تھا. زیب تن انگریزی لباس، پیروں میں بوٹ، ہاتھ میں بیگ اور چہرے پر کالا چشمہ اسیکافی سوٹ کر رہا تھا اور اس کی ظاہری شخصیت میں چار چاند لگا رہا تھا۔ کہاں جا رہے ہو بیٹا؟ جی کلکتہ. فیصل نے جواب دیا. کہاں کے رہنے والے ہو؟ کانپور کا. طالبعلم ہو؟ کتنے بھائی بہن ہو؟ پتا جی کیا کرتے ہیں؟ اچھا بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟ فیصل. فیصل راہی نام ہے . فیصل کے اس جواب نے اس ماڈرن خیالات دکھنے والے شخص کو سکتے میں ڈال دیا تھا نام سن کر اس کی بھوہیں تن گئی تھی. اسکے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا. وہ فیصل سے دوری بنانا چاہ رہا تھا لیکن زیادہ جگہ نہ ہونے کے سبب وہ ناکام رہا. پر کسی طرح سے اس نے خود کو فیصل سے علیحدہ کر ہی لیا. اب وہ بالکل خاموش ہو گیا تھا ان کے درمیان چلنے والی گفتگو اختتام پذیر ہو چکی تھی.اردگرد بیٹھے لوگ فیصل کو دیکھ رہے تھے ۔فیصل کو یہ سب کافی عجیب لگ رہا تھا اور اسے شرمندگی محسوس ہونے لگی تھی ۔ فیصل نے زیر مطالعہ کتاب بیگ میں رکھا اور بیگ کو سر کے نیچے دبائے اپنی آنکھیں بند کر لیں. کچھ دیر بعد فیصل کی کانوں میں تالیوں کے ساتھ گائے جارہے کسی گیت کی آواز سنائی دی تو اس نے آنکھیں کھولی. آس پاس بیٹھے لوگ تالی بجاتے ہوئے گا رہے تھے۔ گوبندو گوبندو گوبندو گوبندو….. گیت کے بول سے کوئی بنگلہ گیت معلوم ہو رہا تھا. فیصل کو تھوڑا تعجب ہوا پر اس نے بنا وقت گنوائے ہلکی ہاتھوں سے تالیاں بجانا شروع کر دیا اور ان کا ساتھ دینے لگا. فیصل اس کلچر سے پہلی دفعہ آشنا ہو رہا تھا. رات گہری ہوتی جارہی تھی دھیرے دھیرے بوگی کا شور شرابہ سناٹے میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا دوچار بتیوں کو چھوڑ ساری بتیاں بجھا دی گئی تھی اور شور مچاتے پنکھوں کی فرفر کی آواز انسانی آواز کی جگہ لے رہا تھا. بیشتر لوگ اپنے آپ کو نیند کے آغوش میں دھکیل چکے تھے ،کچھ لوگ فرش پر گمچھا بچھائے لیٹ گئے تھے. گاڑی تیز رفتار ہواؤں سے باتیں کرتی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی.لیکن فیصل تھم سا گیا تھا ۔ فیصل کی آنکھوں سے نیند کوسو ںدور تھی حتی کہ وہ بہت تھکا ہوا تھا اور اسے آرام کی اشد ضرورت تھی لیکن اس انگریز نما شخص کے فیصل کا نام سنتے ہی اس کے ناقابل قبول ردعمل نے فیصل کو بے چین کر دیا تھا اس کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا. وہ سوچ رہا تھا کہ نام بتانے سے قبل تو وہ سوال در سوال کیے جا رہا تھا پھر نام سنتے ہی اس پر نہ جانے کون سا خوف و دہشت کا سایہ سوار ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور وہ رات بھر اسی ادھیڑ بن میں رہ گیا ۔اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے. منفی خیالات کی وجہ سے اس کا سر بھاری ہو چکا تھا اور اسے کل ہونے والے انٹرویو کی فکر ستا رہی تھی. فیصل کا ماننا تھا کہ ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو تو انٹرویو بھلا کیوں کر اچھا جائیگا. صبح کے چار بج چکے تھے اور گاڑی دھیرے دھیرے ہاوڑا اسٹیشن پر لگ رہی تھی. گاڑی کی آخری اسٹاپ بھی یہیں تھی لہذا فیصل نے اپنا بیگ کندھے میں ٹانگتے ہوئے اپنے ارد گرد سو رہے لوگوں کو جگا دیا. اس سوٹ بوٹ والے انکل کو بھی جس نے فیصل سے تو ڈھیر سارا سوال کیا پر خود کا نام بتانا گوارا نہ کیا تھا. جس نے اس کی آنکھوں سے نیند غائب کر دیا تھا ۔ باہر چائے چائے کی آواز سے اسٹیشن گونج رہا تھا. پلیٹ فارم پر ٹنگی ٹپ ٹاپ کرتی گھڑی بھی چار بجا رہی تھی ڈھیر ساری دودھیا لائٹ سے فرش جگمگ کر رہا تھا اور اسی فرش پر لوگ چادر اور پلاسٹک بچھائے نیند کی آغوش میں سمائے ہوئے تھے ۔بڑی سی ایل ای ڈی آمدورفت کرنے والی گاڑیوں کا پتہ بتا رہی تھی اور پلیٹ فارم پر لگے لاؤڈ اسپیکر ہماری گاڑی کی آمد کا اعلان اور پاکیٹ مار سے ہوشیار رہنے کا تلقین کر رہی تھی ۔ فیصل باہر کی اور چل پڑا اس کے ساتھ ساتھ وہ انگریز کی طرح دکھنے والا شخص اور آگے پیچھے اور کئی لوگ بھی راہ رواں تھے. کچھ دیر بعد فیصل پلیٹ فارم سے باہر نکلنے کے لئے الیکٹرانک سیڑھی پر تھا. ابھی اوپر پہنچا نہ تھا کہ سوٹ بوٹ میں ملبوس شخص یک بیک سیڑھیوں سے گرتے ہوئے زمین پر آ گرا. فیصل بھاگ کر نیچے آیا اور آنن فانن ایک نامعلوم شخص کی مدد سے اسے کندھے پر اٹھاے باہر آگیا. ٹیکسی. ٹیکسی…. ڈھیر ساری گاڑیاں ہونے کے باوجود کہیں سے کوئی جواب نہ ملنے پر وہ خود ٹیکسی کے پاس جا پہنچا اور ٹیکسی پر زور زور سے اپنا پیر مارتے ہوئے ڈرائیور کو جگایا. اس نے اس شخص کو بیچ والی سیٹ پر لٹا دیا. یہاں آس پاس کوئی ہسپتال ہے؟ فیصل نے ڈرائیور سے مخاطب ہو کر پوچھا ہاں صاحب. یہاں پاس میں ہی ہے. ڈی ڈی یو ھسپتال. دو کلومیٹر دور ہے. اچھا، جلدی چلو۔ فیصل نے کہا پر صاحب یہ کون ہیں؟ اور انہیں کیا ہو گیا؟ پ پ پتا نہیں ۔۔۔۔چچا چاچا ہیں میرے. تم جلدی چلو ۔فیصل نے اپنی زبان سنبھالتے ہوئے ڈرائیور سے کہا. فیصل نے اس شخص کو ہسپتال میں داخل کراتے ہوئے اس شخص کا بیگ اور موبائل فون اپنے پاس رکھ لیا اور تاخیر نہ کرتے ہوئے اس کے گھر والوں کو انفارم کرنے کے بعد خود باہر بیٹھ کر اس کے گھر والوں کا انتظار کرنے لگا ۔ ابھی فیصل کی سانسیں تھمیں نہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی “ایکسکیوز می “فیصل کانوں میں داخل ہوئی ۔وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ کیا ہوا ڈاکٹر صاحب ؟فیصل نے ڈاکٹر سے ہمکلام ہوتے ہوئے پوچھا ۔ مریض کو بی پوزیٹو خون کی سخت ضرورت ہے اور ہمارے ہسپتال میں اس وقت یہ گروپ دستیاب نہیں ہے آپ کو جلدی انتظام کرنا ہوگا ۔ڈاکٹر نے معذرت کے ساتھ کہا ۔ وہ شخص اب بھی بستر پر بے سدھ و بے حواس پڑا ہوا تھا. ڈاکٹر کی بات سن فیصل پریشان ہو گیا وہ گہری سوچ میں مبتلا تھا. کچھ سوچنے کے بعد فیصل نے ڈاکٹر سے کہا :- ڈاکٹر صاحب میرا خون بی پوزیٹو ہے آپ میرا خون ہی چڑھا دیں. اور فیصل کی رگوں میں دوڑنے والا خون اس نا معلوم شخص کے جسم کی رگوں میں داخل ہونے لگا تھا. کچھ دیر بعد ایک بڑی سی گاڑی میں دو نوجوان شخص جس کی عمر پینتیس اور چالیس برس کی رہی ہوگی، ہاسپیٹل میں داخل ہوئے ۔فیصل راہی کون ہے؟ آپ دونوں مسٹر رامانوج بنرجی….. جی جی دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا. ریسیپشن میں کھڑی لڑکی نے انکا نام پوچھا پرتاپ بنرجی سن آف رامانوج بنرجی. ایک شخص سے اپنا نام بتاتے ہوئے اپنے والد کی خیریت دریافت کی. وہ اپنا بلڈ ڈونیٹ کر رہے ہیں رامانوج بنرجی کو آپ پلیز بیٹھ جائیں. ریسیپشنسٹ نے کہا۔ایک گھنٹے بعد فیصل باہر آیا تو اس کے دونوں بیٹوں نے اسے گلے سے لگا لیا. ان کی آنکھ ہے آنسووں سے لبریز تھیں. ہاسپیٹل کی گھڑی آٹھ بجا رہی تھی فیصل نے ان سے اجازت مانگی اور وہاں سے راہ فرار اختیار کیا ۔ اسے وقت سے پہلے انٹرویو کے لئے پہنچنا تھا. وہ ہوٹل گیا اور نہا دھو کر کچھ دیر سستانے کے بعد انٹرویو کے لیے پی بی میڈیکا کے آفس پہنچ گیا جہاں پہلے سے تین لوگ اپنی اپنی باری کی راہ تک رہے تھے ۔کچھ دیر بعد فیصل اپنے انٹرویو سے فارغ ہوکر سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا کہ اس کی ملاقات پرتاب بنرجی سے ہوئی۔ پرتاپ فیصل کو لے کر آفس پہنچا اور انٹرویوور سے کہا -: اسے آج ہی جوائننگ لیٹر ایشو کرو ۔لیکن سر اس نے نہ تو ڈونیشن نہیں دیا ہے اور نہ ہی ہم نے اس بابت انہیں کچھ بتایا ہے ابھی تک ؟اور ہماری کمپنی کے ضابطے کے مطابق ہم انہیں ڈونیشن لئے بغیر ملازمت کیسے دے سکتے ہیں ؟ایک انٹرویوور نے تلخ لہجے میں کہا ۔ فیصل ان دونوں کی باتیں سن کر حیرت زدہ تھا ۔ مسٹر موہنداس بنرجی ! آپ کلکتہ شہر کے سب سے بڑے ڈر گس کمپنی میں بطور نائب مینیجر کی حیثیت سے کام کرنے والے ملازم ہیں – کمپنی کے مالک نہیں – اس نے اپنا ڈونیشن بغیر مانگے ادا کردیا ہے ۔ تبھی فون کی گھنٹی نے اخبار سے میرا تسلسل توڑا ۔میں نے اخبار ٹیبل پر رکھتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لیا تو دیکھا کہ بیٹا دیپک کا فون تھا وہ کہہ رہا تھا کہ کمپنی والے نوکری کے بدلے دو لاکھ روپے ڈونیشن کی مانگ کر رہے ہیں ۔

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here