جو ہلکی ہلکی جھریاں آگئی ہیں۔افروز عالم کا نظمیہ ویژن۔پروفسرسعادت سعید

0
64
جو ہلکی ہلکی جھریاں آگئی ہیں۔افروز عالم کا نظمیہ ویژن۔پروفسرسعادت سعید
جو ہلکی ہلکی جھریاں آگئی ہیں۔افروز عالم کا نظمیہ ویژن۔پروفسرسعادت سعید

افروز عالم کا نظمیہ ویژن
پروفسرسعادت سعید
پروفیسر شعبہ اردو، جی سی یونیورسٹی
لاہور پاکستان
جب شاعر مرزا غالب کی طرح اپنے تصورکی گرمی سے نشاط خو ہو کر آئندہ زمانوں کا نقیب بننے کی بات کرے تو جان لینا چاہیئے کہ اس کے سینے میں ایسے سربستہ راز موجود ہیں کہ جن کی کشائش تا حال پردہ اخفا میں ہے اور اس کامان ہے کہ یہ خیالات کسی روز سینہ عالم پر کسی ماورائی وجدان کی صورت اتریں گے۔ افروز عالم نے اپنی نظم عکس بر عکس میںسیدھے سبھائو یہ بات کی ہے کہ وہ ایک شاعر ہیں اس کی فطرت آینہ سماں ہے کہ جو سماج بینی کرنے میں محو ہے۔ان کی آئینہ داری میں استق بالی شکلیں نمودار ہوتی ہیں۔وہ انہیں محفوظ کرنے پر کمر بستہ ہیں۔مستقبل بینی میں حال کی شراکت لازمی ہے اور حال میں ماضی پوشیدہ ہے کہ جو اکثر یادوں کے روپ میں صفحہ قرطاس پر نمودار ہوتا رہتا ہے۔یوں شاعر کے دائرے میں آنے والے ، موجود اور گزرے شعور کی جھلکیاں جھلملاتی رہتی ہیں۔ میر نے بھی کمال کی بات کہی تھی کہ ان کا دیوان ان کے درد و غم کی جمع پونجی ہے۔ افروز عالم کے دیدۂ نمناک منعکس شدہ مشاہدے ان کو غور و فکر کی وادیوں میں لے جاتے ہیں اور وہ نغمہ ہستی کے زیر و بم کا فکری، علمی اور احساساتی جائزہ لینے کے عمل میں مصروف ہو کر اپنے نتائج کو کبھی پابند اور کبھی آزاد شاعری میں منتقل کرنے کے در پے رہتے ہیں۔
ٹی ۔ایس ایلیٹ نے اپنے مضمون تھری وائسز آف پوئٹری میں مونو لوگ کی اہمیت پر بھی بات کی ہے۔شاعر کے خود کلامیے اسے کبھی سوال کرنے پر مائل کرتے ہیں، کبھی جواب دہی کی ذمہ داری سونپتے ہیں اور کبھی سوال و جواب کے مابین کشمکش کا روپ دھار لیتے ہیں۔سائنسی ذہن جس مفروضے پہ استوار ہوتا ہے وہ سوال کی صورت ہوتا ہے جس کی قیمت کا تعین جواب میں کیا جاتا ہے۔خود سوالی کے بعد خود جوابی ایک لازمی امر کے طور پر سامنے آتی ہے اور لا یا ایکس کیا ہے؟ کی قیمت کا تعین منطقی اور استدلالی انداز سے کیا جاتا ہے۔شاعر کا دماغ جب دلائل کی کائنات کا رخ کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہیئے شاعری تہذیب اور شائستگی کے زمانے میں بھی اتنی ہی تیزی سے پھلتی پھولتی ہے کہ بقول حالی جتنی ناشائستگی کے زمانے میں اپنی اہمیت تسلیم کرواتی ہے۔ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ نے شاعری کی جن تین آوازوں کا ذکر کیا ہے ان میں سر فہرست وہ آواز ہے جسے شاعر خود تخاطبی سے دریافت کرتا ہے۔اس کے نزدیک دوسری آواز قاری یا سامع تخاطبی ہے اور تیسری آواز کا تعلق ڈرامے سے ہے کہ ڈرامائی آواز میں شاعر کوئی کردار تخلیق کر کے اپنے منشا و مقصد کو اس کے وسیلے سے بیان کرتا ہے۔ افرو ز عالم نے پہلی دو آوازوں سے بھر پور کام لیتے ہوئے اپنی شاعری کو فکری موشگافیوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ترسیل و ابلاغ کا وسیلہ بھی بنایا ہے اس سلسلے میں عروض وغیر عروض کی شاعرانہ مہارتوں سے بھی ان کا گہرا شغف رہا ہے۔اپنی نظم ’’خود کلامی‘‘ میں افروز عالم کہتے ہیں: میرے رخسار پہ
جو ہلکی ہلکی جھریاں آگئی ہیں
یقینا اس کو بھی آگئی ہوں گی
زندگی کے سفر میں
عمر کے جس ڈھلان پر میں کھڑا ہوں
یقینا وہ بھی وہیں آگیا ہوگا

سماج کے ایک فرد کے بطور افروز عالم نے اپنی انسانی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اپنے حسی سطح سے لے کر فکری سطح کے مشاہدوں اور تجربوں کو احاطہ قلم میں سمیٹنے کے لیے شاعری، کالم نگاری، مضمون نویسی اور دیگر اظہاری اصناف کا سہارا لیا ہے۔ان کے شعور میں ان کی انجینرنگ کی تعلیم، ان کی کپمیوٹر سائنس سے گہری وابستگی اور ان کی بزنس کے رموز و علائم سے واقفیت اور مردم شناسی کے جوہر سے نسبت نے ان کی شاعری کو عہد حاضر کہ سہ گونہ وارداتوں سے مکمل طور پر جوڑے رکھا ہے۔سائنس، ٹیکنالوجی اور سرمایہ دارانہ تجارت میں بند گلوبل دنیا کی دھڑکتی نبضوں پر افروز عالم کے ہاتھ نے ان کی عصر شناسی کو وقئع بنایا ہے۔
اپنی کتاب ’’اردو غزل گوئی ‘‘ میں فراق گورکھپوری نے واضح اعلان کیا تھا کہ ’’ہماری زندگی ایک بحرانی دور ست گزر رہی ہے۔گھریلو زندگی، تعلیمی اداروں کی زندگی، سماجی ، سیاسی ، اقتصادی زندگی سب کے سب اس بحران کا شکار ہیں جس پر فتح پائے بغیر ذہنی و شعوری طمانیت نصیب نہیں ہو سکتی جس کے بطن سے بڑا ادب جنم لیتا ہے۔‘‘(اردو غزل گوئی از فراق گورکھپوری)
اکیسویں صدی میں بیسویں کے بحران میں کمی نہیں آئی ۔اس میں گلوبلائزیشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دنیا کو برباد کرتی بحرانی صورت حال شامل ہو چکی ہے ۔اس صورت حال کی نظریہ سازی کرنے والوں نے نوآبادیاتی ، جدید، مابعد جدید اور نسائی نظریوں کو بنیاد بنا کرایسی ایسی موشگافیاں کی ہیں کہ عقل انسانی بستر سے اچھل کر کمرے کی چھت سے جا چمٹی ہے۔دیواروں اور چھتوں پر رینگنے والی کسی مخلوق کی طرح۔افروز عالم نے اپنی شاعری کی پگڈنڈی کو الٹ پھیری فلسفوں کی آلائشات سے پاک رکھا ہے۔اور صاف صاف اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اس دور میں انسان جن مصائب کا شکار کر دیا گیا ہے وہ شدید ترین بحران کی آمد آمد کا پتہ دیتا ہے۔
عہد نو کی سرمایہ داری میں طبقاتی تفریق عروج پر ہے۔انسان حیوانی صفات کے اثرات قبول کر چکا ہے۔چھوٹی کمپنیوں نے بڑی کمپنیوں کا نوالہ بننا ہے۔بڑی کپپنیاں یا گلوبل سامراج ہی دنیا کی حاکمیت کا حق دار ہے ۔جدید دنیا میں رائج ان اصولوں کی جھلکیاں ڈارون کے عطا کردہ ارتقائی اصولوں میں نظر آ سکتی ہیں وہ کہتا ہے:ایک نوع کے افراد مماثل نہیں ہوتے۔نسل در نسل اثرات ہوتے رہتے ہیں۔فطرت میں بقائے اصلح کی تعداد زیادہ نہیں ہے اور یہ کہ وہی پیداوار دے گا جو بچے گا۔ سوزبردست کا ٹھینگا سر پرکے اصول کے ساتھ ساتھ مطابقت اور سر نیچا کر کے کام کرنے کے اصولوں کو جدید سرمایہ داری کا پارٹ اینڈ پارسل بنا دیا گیا ہے ۔اور اس میں کسی نوع کی انسانی اخلاقیات کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔عہد حاضر کی غاصبانہ غتر بودی اور انسان کشی کے پس منظر میں افروزعالم کی ڈارون کی منطق کی دست برد کے حوالے سے لکھی گئی یہ نظم ملاحظہ ہو

“اغتصاب”
شیخ فرماتے ہیں
ڈاروین جھوٹا تھا
انسان کب بندر تھا ؟
انسان تو ایسا کبھی بھی نہیں تھا !
شیخ فرماتے ہیں
لٹکنا جھپٹنا کبھی منھ چڑھانا
یہ عادت ہماری بھی بھی نہیں تھی

مری عادتوں میں یہ سب نہیں تھے
کتابیں تو کہتیں ہیں ہم بندر نہیں تھے
ماضی کے جب بھی جھروکے سے دیکھو
تاریخ کے جب بھی اوراق پلٹو
اپنے ہی گھر میں ذرا پیچھے جاکر
محلوں کی گلیوںمیں کچھ دیر رک کر
جو شہروں و ملکوں کی سرحد پر پہ جاو
ذرا دیر رک کر، کبھی سوچ لو تو
ْْْْْْْْْْ خود اپنے سے شرمندہ ہوتے رہوگے
اکیلے میں خود سے یہ کہتے رہوگے
لٹکنا جھپٹنا کبھی منھ چڑھانا
انساں کی عادت پرانی رہی ہے
اگر شیخ کچھ کہ رہیں تو کہ لیں
معصوموں پر ہم جھپٹتے رہینگے
شریفوں کو ہم منھ چڑھاتے رہینگے
ہم ظالم ہیں ظلمت بڑھاتے رہینگے
اگر شیخ کچھ کہ رہیںہیں تو کہ لیں
ہم ڈاروین کو سچ ثابت کر کے رہینگے

“امید”
چشم حیرت میں
زخموں اور لاشوں کا جو سمندر
ٹھہر ٹھہر کر ڈرا رہا ہے
میں اس کے ساحل پہ بیٹھے بیٹھے
آنے والے یوگو کی خاطر
دو چار نظمیں لکھ رہا ہوں
اگر میں ایسا نہ کروں تو

مجھے بتائو کے کیا کروں میں
عہد حاضر کے خشک دامن
سرخ لاشوں سے بھر گئے ہیں
اگر کچھ اس کے سوا بجا ہے تو
بس مشیوں کا شور سا ہے
فضا میں دھواں بھرا ہوا ہے
میں ان فضائوں میں گھٹ رہاہوں
دو چار نظمیں لکھ رہا ہوں
اگر میں ایسا نہ کروں تو
مجھے بتائو کے کیا کروں میں

تو شاعر نے اس نظم میں عہد سرمایہ داری کے نقلیاتی حوالوں کو موضوع بناتے ہوئے اس میں ہونے والے غاصبانہ اعمال پر ایک مستقبل بیں مفکر کی طرح روشنی ڈالی ہے۔اس میں نعرہ بازی سے زیادہ فکری اور تجزیاتی تحقیق کا عمل دخل ہے۔اس تحقیق کا افروز عالم کی نظموں اور مضامین میں سراغ پانا مشکل امر نہیں ہے۔
افروز عالم کی شاعری کے دو مجموعے ’’الفاظ کے سائے ‘‘(۲۰۰۷ئ؁ اور ’’دھوپ کے عالم میں‘‘(۲۰۰۹ئ؁) میں شائع ہو چکے ہیں ۔علاوہ ازیںان کے ادبی مضامین کا مجموعہ ’’ نازش لوح و قلم ‘‘ انقریب شائع ہونے کے لئے تیار ہے۔جب کہ اس کے مشمولات مسلسل اخبارات اور رسائل میں شائع ہو کر قارئین سے داد وصول کر رہے ہیں ۔انہوں نے ’’راشد میواتی (فن اور شخصیت)‘‘۲۰۰۸ ئ؁پر کتاب مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ”‘کویت میں ادبی پیش رفت(۲۰۱۶ئ؁)” جیسی ادبی تاریخ رقم کی ہے۔فصل تازہ (۲۰۰۵ئ؁،کویت کے اہل قلم(۲۰۰۷ئ؁) کے نام سے ان کی مرتبہ کتابوں کو بھی بہت سراہا گیا ہے۔ان کا بیشتر ادبی کام زیر طبع ہے۔انہیں فروغ ادب کی مساعی کے سلسلے میں کئی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ان کے کاموں کی نوعیت بتاتی ہے کہ وہ شاعر، نقاد، محقق، مورخ ، مرتب ہونے کی حیثیت سے نام کما چکے ہیں۔ان کی صحافت اورجدید میڈیائی میدانوں میں بھی بڑی خدمات ہیں۔انہوں نے تاریخی مشاعرے، مذاکرے اور مباحثے کروانے کے کاموں سے بھی دلچسپی رکھی ہے۔
سر دست چونکہ ان کی نظموں کے تناطر میں بات ہو رہی ہے تو انہوں نے اپنی متعدد نظموں میںالفاظ انتہائی سلیقے سے استعمال کیے ہیں۔وہ مستعمل لفظ کے وجود کو تو پہچانتے ہی ہیں البتہ ان کی اس کے تضمن اور صوتی و معنوی کوائف سے بھی بڑی دلچسپی ہے۔الفاظ کو ان کے سایوں سمیت گرفت میں لانے سے شاعری کی تعبیری معنویت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی وہ چیزوں کو روشنی میں دیکھنے کے قائل ہیں۔ان کی نظمیں انسان اور زندگی کے مطالعوں کی رو میں ان کی روشن دانش اور علم سے جڑی رہتی ہیں۔اور شعر کی اس تعریف پر بھی پوری اترتی ہیں کہ وہ شعور سے عبارت ہے۔اس سلسلے میں ان کی چند نظمیں ملاحظہ ہوں۔
انہوں نے گلوبل سطح پر ہونے والے مظالم پر بھر پور انداز سے خامہ فرسائی کی ہے۔آزادی سے محروم کشمیر کے عوام ہوں یا فلسطین کے ۔ان کے ضمیر کی آوازیں ان کی شاعری میں بدستور نظر آتی ہیں۔ان کی نظم “نذر فلسطین ” ملاحظہ ہو۔

دیارِ تشنہ لبی میں کوئی فوار نہیں
مجھے تو لگتا ہے اب کوئی بے قرار نہیں
جو میرے قتل پہ گویائی سے گریزاں ہے
اسے میں کیسے سمجھ لوں وہ ساجھے دار نہیں
یہ کیا نگر ہے یہاں خاک بھی نہیں اڑتی
ہوا چلی ہے مگر دور تک غبار نہیں
نشے میں جھومتی پُر غم ہوا کی خاموشی
تمہارے واسطے کیا کوئی سوگوار نہیں
سیاہ دن ہیں تو راتیں سفید ہیں عالم
خدایا خیر کہ ماحول سازگار نہیں

حسی اور جذباتی سطح پر ہونے والے تجربات سے بھی افروز علم نے مکمل ربط رکھا ہے۔وہ فراق و وصال کے معاملات کو ان کے حقیقی تناظر میں دیکھتے اور بیان کرتے ہیں۔اس لیے ان کے ہاںان کے سچے جذبات نظر آتے ہیں۔فراق پر نظم ان کے کرب اور دکھ کو ظاہر کرتی ہے۔جب کوئی محبوب ، کوئی پیارا، کوئی دوست، کوئی عزیز کسی بھی سطح پر انسان سے دور ہو جاتا ہے تو اس کی جو کیفیت ہوتی ہے ان کا اظہار ان اشعار میں موجود ہے:

تیری فرقت میں اے میرے دلبر دل کہیں بھی بہلتا نہیں ہے
لمحہ لمحہ مجھے ڈس رہا ہے اور دم بھی نکلتا نہیں ہے
جب بھی چاہے تو روکے زمیں کو تو ستاروں سے گردش ہٹا لے
اور ادھر ایک میں ہوں کہ خود سے اپنا دل بھی سنبھلتا نہیں ہے
اک چراغِ محبت تھا ایسا جو کہ روشن تھا تیری جبیں پر
ہائے کیوں وہ چراغ محبت میری آنکھوں میں جلتا نہیں ہے
دور لگتی ہیں سب منزلیں اب اور تاریک ہیں راستے بھی
یہ سفر ختم ہو کیسے عالم تو میرے ساتھ چلتا نہیں ہے
اسی کیفیت سے مربوط ایک اور کیفیت ہے اور وہ کسی کی یاد کی مظہر ہے۔چاندنی کو استعارہ بنا کر افروز عالم اپنی نظم میںکسی کی یاد کا تذکرہ کرتے ہوئے سیدھے انداز سے کہتے ہیںاس کی یادانہیں صبح و شام آتی ہے۔ دل کا سکوں غائب ہے۔غم انگیزی ہے۔دل بے قرار ہے۔اس کا اس کی دھڑکن پر بھی اثر ہو رہا ہے۔ آنکھیں اشکبار رہتی ہیں۔ساون کا خوبصورت موسم بھی دل کو بھاتا نہیں ہے۔اشک افشانی سے لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ وہ کس کی یاد میں دکھ کا اظہار کر

رہا ہے۔اس کے نہ ہونے سے زندگی کے سب سپنے لٹ گئے ہیں۔لیکن شاعر مایوسی کا شکار نہیں ہے اور اسے اچھے دنوں کے آنے کی امید ہے ۔اور اسے ایسے فرد کی تلاش کا عمل جاری رکھنا ہے کہ جو وفا آشنا ہو۔ افروز عالم لکھتے ہیں:

آج پتھر کے شہر میں پھر سے اپنی تقدیر آزماتے ہیں
اپنی خوشیوں کو اپنے ہاتھوں سے بے وفا تیرے نام کرتے ہیں
اے صبا چاندنی سے کہہ دینا یاد اُسے صبح و شام کرتے ہیں

افروز عالم نے ’’تلاش‘‘ کے عنوان سے بھی ایک نظم لکھی ہے۔اس میں انسان پر مسلط کسی بھی طرح کی تاریک رات سے باہر نکلنے کے لیے جس شعور کی ضرورت ہے اس کی بات کرتے ہوئے وہ اس تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جو ان کے احساس پہ لگے زخموں کوکسی جدید سورج کے طلوع ہو نے کی مرہون منت ہے۔اس سورج کے طلوع ہونے سے معصوم جیالوں کے زخم دور ہوں گے اور انہیں نئے مظالم سے بچنے کے سلیقے میسر آئیں گے ۔اور امن کے سفید پھریرے لہرائیں گے اور انسانوں کی دعائیں مستجاب ہوں گی۔
عالم افروز کی نظمیں روز و شب کے مد و جزر،رنج و غم ، آنسو و خوشی،سردی گرمی ، صبح و شام کے ان الجھاووں ااور کوائف کو محیط ہیںجو ان کی زندگی کی مختلف ادوار میں اپنے یا دوسروں کے حوالوں سے انہیں زیر بار کرتے رہے ہیں۔

پروفیسرسعادت سعید

جی سی یونیورسٹی

لاہور(پاکستان)

sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here