سہ ماہی ” ادب سلسلہ” ( اپریل تا ستمبر 2018.ء ) “اجمالی جائزہ”

0
95

 

 

 

 

 

اسلم چشتی (پونے) انڈیا
چیئرمین ” صدا ٹوڈے” اُردو نیوز ویب پورٹل
www.sadatoday.com
Sadatodaynewsportal@gmail.com
09422006327
“ ادب سلسلہ ( اپریل تا ستمبر 2018.ء) اپنے سابقہ شماروں سے مختلف اور ایک قدم آگے نظر آیا – ترتیب و تزئین اور طباعت نے رسالے کو بہت خوبصورت بنا دیا ہے – دیگر زبانوں میں شایع ہونے والے رسائل کی صف میں اس اُردو رسالے کی شمولیت خوش کن اور فالِ نیک ہے – طباعت کی سہولت نے یہ موقع فراہم کیا ہے ” ادب سلسلہ” کے مدیران و ذمہ داران مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ایک ایسے دور میں یہ سلسلہ شروع کیا جب کہ اس روپ میں ایک ادبی رسالے کی اشد ضرورت تھی – موجودہ رسائل و جرائد اپنی جگہ اپنے طور پر ادب کو متحرک رکھنے کے جتن کر رہے ہیں ایسے میں ” ادب سلسلہ” کا جاری ہونا اُردو ادب کی صحت کے لیے بہتر ثابت ہو رہا ہے –
“ادب سلسلہ” اپریل تا ستمبر 2018.ء کئی لحاظ سے پسند آیا – تبدیلیاں بھی اچھی لگیں اس بار اداریئے میں بہت سی باتیں کھل کر کی گئی ہیں – اُردو زبان و ادب کے عصری منظر نامے کو من و عن پیش کرتے ہوئے” ادب سلسلہ” کے مقاصد اور فرائض کو بیان کیا ہے – اس میں یہ سطریں بہت ہی اہم ہیں – ملاحظہ فرمائیں ایک اقتباس –
” سہ ماہی ادب سلسلہ نے اپنے پہلے شمارے سے ہی نہ صرف ادب میں نئے تجربات کا خیر مقدم کیا ہے بلکہ نئی نسل کی حوصلہ افزائی کا بھی کام کیا ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ جس طرح درختوں سے پرانی پتیوں کے رخصت ہونے کے بعد نئی پتیاں نمودار ہوتی ہیں ٹھیک اسی طرح ادب میں بھی یہ تسلسل لازمی ہے ورنہ پرانی نسل کے رخصت یا عدم فعّال ہونے کی صورت میں ادب میں ایک ایسا خلا واقع ہو جائے گا جس کا پر ہونا نا ممکن ہوگا ”
( ص 3 ، محمد سلیم علیگ)
اس اقتباس سے زبان و ادب کے ساتھ درد مندی، خلوص اور تحفظ و ترقی کی فکر نظر آتی ہے اور مدیران ( ڈاکٹر تنویرفریدی ، سلیم علیگ) کے ارادے اور عمل کے منصوبوں کی بات بھی سامنے آتی ہے ( جس کا ذکر محمد سلیم مدیر) نے اداریئے میں کیا ہے – اداریئہ پڑھ کر مجھ جیسا ادب کا طالب بے چین ہو جاتا ہے جب رسالے کے نئے خدوخال اور مواد پر غور کرتا ہے تو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا ( یہ میرے تجربات کی بات ہے) بحیثیت قاری میں نے اس رسالے کا قسط وار مطالعہ کیا ہے – مضامین کے حصّے میں مختلف موضوعات پر مستند قلمکاروں کے مضامین ہیں – ” تحریکِ آزادی اور اُردو افسانہ” سلام بن رزاق کا لکھا ہوا ایک ایسا مضمون ہے جس کو پڑھنے سے ہندوستان کی تہذیبی، سماجی ، لسانی اور ادبی تاریخ قاری کے ذہن میں روشن ہو جاتی ہے – مُصنف نے آسان زبان میں اُردو افسانے کو تحریکِ آزادی کے تناظر میں بیان کیا ہے – یہ مضمون ادب کے طالبِ علموں کے لیے تو بے حد مُفید ہے اس مضمون کی آخری سطریں ملاحظہ فرمائیں –
” تحریکِ آزادی” یا انقلاب سے متعلق جو افسانے لکھے گئے وہ موضوعی ہونے کے باوجود ادب کی تاریخ کا ایک اہم حصّہ ہیں – جن کا مطالعہ نئی نسل کے لیے اس لیے نا گزیر ہے کہ یہ افسانے ان کے دلوں میں جذبئہ حب الوطنی کو زندہ رکھنے کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں ”
( ص 6، سلام بن رزاق)
اس کے علاوہ” بڑا ہے درد کا رشتہ ” ( ابو الکلام قاسمی) ٹیگور اور اقبال ( کوثر مظہری) مادری زبان اُردو جامعیات اور ہماری کوتاہیاں
( آفتاب احمد آفاقی) جدید شاعری میں آزاد غزل ( ڈاکٹر امام اعظم)
تنقید کی ضرورت ( ڈاکٹر جمال رضوی) ساحر میرے خوابوں میں
( نصر اللہ بن نصر) ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کی فکری معنویت
( ڈاکٹر نور النساء) قابلِ مطالعہ ہیں – قارئین کے لیے یہ مضامین ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جو اختصار میں تفصیل کا درجہ رکھتے ہیں افسانوی حصّہ بھی جاندار ہے لکھنے والے ( سلام بن رزاق، ابرار مجیب ، اسلم جمشید پوری ، ڈاکٹر صالحہ رشید، احمد صغیر، دیپک بدکی ، اور ڈاکٹر اختر آزاد) کہنہ مشق اور مشہور افسانہ نگار ہیں – رسالے میں شامل ان کے افسانے افسانوی فن کی بہترین مثالیں پیش کرتے ہیں – ( زندگی سے بھر پور ان افسانوں پر تبصرہ کرنا اجمالی جائزے میں ممکن نہیں) مجھے ذاتی طور پر یہ افسانے پسند آئے – نظموں میں ایک نثری نظم ” ٹوٹتے آدرش” صادقہ نواب سحر کی ایک طویل نظم ہے جو دو صفحات پر مشتمل ہے یہ نظم عملی زندگی میں آدرشوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا منظر نامہ ہے – شاعرہ نے حقیقت کو ” نثری نظم” میں مقّید کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے! ایک آزاد نظم ” جب جانے لگوں” شہناز نبی کی ہے – شہناز نبی کی نظم گوئی کا اپنا ایک الگ انداز ہوتا ہے – موضوع کی جہتیں زندگی کے کئی رُخوں سے آشنا کراتی ہیں – اس نظم کی روش بھی یہی ہے – ان کا فنکارانہ اظہار اور تخلیقی زبان قاری کو رُک رُک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے – ساحر داؤد نگری کی دو نظمیں آواز کے بغیر اور دھند بھی اپنے موضوعات کے ساتھ انصاف کرتی ہیں اور قاری کو متاثر بھی کرتی ہیں –
” نیا قلم نئی روشنائی” بقول مدیر نئی نسل کی ادبی تربیت اور حوصلہ افزائی کے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہے – اس میں نئے نام ہیں لیکن ان کا کام قابلِ تحسین ہے – سلیم انور نے ” بیدی کی کردار سازی” عنوان کے تحت جو مضمون لکھا ہے – چونکاتا ہے بیدی کے افسانوی فن پر لکھنا آسان نہیں اور پھر بیدی کے افسانوی کرداروں پر روشنی ڈالنا اس سے بھی زیادہ کھٹن ہے لیکن مُصنف نے تحریر کا مشکل سفر آسانی سے طئے کر لیا ہے – اس مضمون سے بیدی شناسی میں آسانی ہوگی –
اسی باب میں سعدیہ صدف نے ” ناول راجہ گدھ کی ہیروئین سیمی شاہ” کے عنوان سے مشہور ناول نگار بانو قدسیہ کے مشہور ناول
“راجہ گدھ” کے مرکزی کردار ( ہیروئین) پر سیر حاصل گفتگو کر کے اس کردار کو زندگی سے قریب بتایا ہے – طرزِ تحریر عمدہ اور زبان دلکش ہے
ایک مضمون ” غزل کے دو معمار : حسرت و جگر ” کے عنوان سے ارشد علی نے لکھا ہے – اس میں دونوں شاعروں کی غزل گوئی پر گفتگو کی گئی ہے – دونوں کی غزل پسندی اور معیار کو روشن کیا گیا ہے – اشعار کے حوالے سے مُصنف نے اپنی بات منوانے کی موثر کوشش کی ہے –
مجتبٰی حسین کی مزاح نگاری پر ان کے سفر نامہ” جاپان چلو، جاپان چلو” کے حوالے سے ایس ٹی نور اللہ نے ایک دلچسپ مضمون تحریر کیا ہے – اس سفر نامہ کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے وہ ایک جگہ لکھتے ہیں
” مجتبٰی حسین کا یہ سفر نامہ اپنے اندر جاپان کی تہذیب، وہاں کی صنعتیں ، لوگوں کی مصروفیات ، تاریخ اور فنونِ لطیفہ کے علاوہ جغرافیائی معلومات سے مزین ہے – اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مُصنف نے اپنے قیام کے دوران جاپان کو نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا ہے”
مجتبٰی حسین کی تحریر کی خصوصیات اس مضمون میں در آئی ہیں
” نیا قلم نئی روشنائی ” کے یہ نئے قلمکار اپنی تحریروں سے مشّاق اور تجربہ کار قلمکار لگتے ہیں – مُجھے اُمّید ہے کہ یہ اپنی مشق جاری رکھیں تو آسمانِ ادب پر درخشاں ستارے ثابت ہو سکتے ہیں – اس بار ” خصوصی مطالعہ” کے تحت معتبر جدید تر شاعر سلیم انصاری کی دس غزلیں خصوصی نوٹ کے ساتھ شایع کی گئی ہیں – غزلوں کا انتخاب معیاری ہے – منفرد اندازِ بیان کے اس شاعر کی غزلیہ شاعری مثالی ہے – ساری غزلیں اچھی ہیں – چند شعر مجھے بے حد پسند آئے ملاحظہ فرمائیں –
مجھے سند کی ضرورت نہیں ہے ناقد سے
مری غزل پہ حسینوں کی رائیں آتی ہیں
شجر سے ٹوٹ کے گرنے کا غم نہیں لیکن
ملال یہ ہے مجھے در بہ در ہوا نے کیا
اور کیا دوں اپنی مٹّی سے مُحبت کا ثبوت
میری پیشانی پہ بھی روشن نشاں مٹی کا ہے
کشادہ تو ہے دسترخوان اور ہم
شعورِ میزبانی کھو رہے ہیں
چار غزلیں خالد جمال کی بھی شایع کی گئی ہیں – یہ غزلیں بھی نئے لہجے نئے انداز کی ہیں – خالد جمال کی غزلیہ شاعری کے تیور دیکھئے
یہ بات الگ ہے کہ میں اس کا بھی نہیں ہوں
یہ برگ و بار کہاں جاذبِ نظر ٹھہرے
تمہارے بعد تو پھولوں سے رنگ و بو بھی گئی
ہم پہ نشہ ہے اڑانوں کا جمال
ورنہ امکانِ سفر ہے اب بھی
” یادِ رفتگاں” کے تحت “شہنشاہِ طنزومزاح مشتاق یوسفی کی یاد میں”
سہیل انجم کا مضمون یوسفی کے بے مثال فن کو خراجِ عقیدت پیش کرتا اور یوسفی کو اس عہد کا اہم نثر نگار قرار دیتا ہے – مُصنف کی تحریر سہل رواں اور معیاری ہے –
” شعبہ ہائے حیات” کالم کے تحت ڈاکٹر بلال احمد کا مضمون ” موسمِ گرما میں اپنی جلد کی نگہداشت کیسے کریں” ایک کار آمد مضمون ہے – اس کالم میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایسے مضامین شایع کرنے کی ضرورت ہے جو عصرِ حاضر کے انسان کی ضرورتوں کو پوری کریں – ہر شمارے میں کسی نہ کسی موضوع پر ایک ہی مضمون ہو اور بھر پور ہو بہرحال یہ نیا کالم بھی مجھے پسند آیا –
آخر میں ایک کتاب ” جدید ہندی کہانیاں” ( مترجم و ناشر : محمد نہال افروز) پر سلیم انصاری کا تبصرہ کتاب کا تعارف کراتا ہے مبصر نے کہانیوں پر اپنی رائے بھی پیش کی ہے
مجموعی طور پر ” ادب سلسلہ” کا یہ شمارہ ادارت ، طباعت ، برقی کتابت، تروتازہ معیاری مواد رکھتا ہے – ” ادب سلسلہ ” کو جاری رکھنے کے لیے سرکاری و غیر سرکاری، اداروں یونیورسٹیوں، کالجوں کی لائبریریوں، قارئین اور مشتہرین کا تعارف ضروری ہے تاکہ زبان و ادب کا کارواں آگے بڑھ سکے
Aslam Chishti Flat No 404 Shaan Riviera Aprt 45 /2 Riviera Society Near Jambhulkar Garden Wanowrie Pune 411040 maharashtra aslamchishti01@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here