ہر گنہ کے بعد توبہ بعد توبہ پھر گناہ۔۔آہ راحت اندوری

0
72
ہر گنہ کے بعد توبہ بعد توبہ پھر گناہ۔۔آہ راحت اندوری
ہر گنہ کے بعد توبہ بعد توبہ پھر گناہ۔۔آہ راحت اندوری

راحت اندوری ایک ایسا نام جس کو تعارف اور تعریف کی ضرورت نہیں ۔راحت اندوری ادب کا کوہ نور تھے ۔راحتندوری کا انتقال ادب کا ایک ایسا سانحہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں  ۔ راحت اندوری کے اچانک انتقال سے ادبی دنیا سوگوار ہے

ہر گنہ کے بعد توبہ بعد توبہ پھر گناہ
ہنس پڑی رحمت انوکھی فرد عصیاں دیکھ کر
راحت اندوری سے میرے تقریباً 35 برس سے مراسم تھے بے پناہ شفقت فرماتے تھے جب تک میں مشاعروں سے وابستہ تھا صرف ایک فون پر، یہ پوچھے بغیر کی کیا پیش کرونگا، تشریف لاتے اور بعد مشاعرہ کے کبھی لفافہ میرے سامنے نہیں کھولتے دوسری اہم بات کی میرے مشاعرہ میں نہ تو شراب کی فرمائش کرتے اور نہ ہی پی کر آتے میری درخواست پر کٸ بار کم ہی مدت کے لیۓ ہی سہی لیکن توبہ کرلی۔10.12 سفر یا اس سے زائد جدہ کا ہوا ہوگا عمرہ اور مدینہ کی حاضری بھی نصیب ہوتی تھی اہتمام کرتے تھے کہ حاضری سے قبل اور واپسی کے بعد بھی کچھ عرصہ کے لئے چھوڑ دیتے تھے ادھر کٸ برس سے مستقل توبہ پر قائم تھے انکی عجیب محبت تھی، اعظم گڈھ کے اطراف کے اضلاع میں بھی جب آتے تھے تو قیام اعظم گڈھ کے کسی ہوٹل میں ہی کرتے تھے کہتے تھے تم سے ملاقات مقصود تھی مشاعرہ ایک بہانہ ھے رات کو کھانا ساتھ کھا کر کبھی ساتھ میں اور کبھی تنہا مشاعرہ میں جاتے دو سال قبل بھی مشاعرہ بنارس کا اور قیام اعظم گڈھ میں
غریب شعراء کی مدد اور مرحوم شعرا کے گھر والوں کی خبر گیری خاموشی سے کرتے تھے
ایک بار غالباً طویٰ ( اعظم گڑھ)کے مشاعرہ میں کمیٹی بغیر پیمنٹ دیۓ غائب ہو گٸ تھی کٸ شعراء کو کرایہ اور کچھ رقم خاموشی سے انکی جیب میں ڈال دی مجھے مشاعرہ کی دنیا میں اس سے اچھا انسان نہیں ملا
مجھے لکھنا نہیں آتا ورنہ یادوں پر مشتمل ایک طویل مضمون ہو جاتا
اللہ مغفرت فرماۓآمین
احباب بھی سوچیں گے کہ راحت بھائی کے انتقال کے بعد بھی میں انکی مے نوشی کا تذکرہ بار بار کر رہا ہوں
ایک واقعہ یاد آ رہا ھے سید صباح الدین صاحب کا دور تھا زبیر رضوی جو اس وقت غالب یا اردو اکیڈمی سے وابستہ تھے خیر آباد کے ایک مشاعرہ میں شرکت کے لئے آئے اور شبلی منزل میں قیام کیا میں نے اسی کمرہ میں راحت بھائی کو ٹھہرا دیا میرے ذمہ ان لوگوں کو شام کو خیر آباد لے کر جانا تھا سورج غروب ہونے کے بعد زبیر رضوی نے شراب کی فرمائش کردی راحت بگڑ کر کہنے لگے کہ آپ کو احساس نہیں کہ آپ کہاں پر ٹہرے ہیں دس قدم پر سیرت النبیﷺ کا خالق سویا ہوا ھے میں نے اس احاطہ میں قدم رکھنے سے قبل اپنے بیگ میں رکھی بوتل پھینک دی اور آپ یہاں سلیم سے شراب مانگ رہے ہیں یہ تو ویسے بھی نہیں لانے کا
زبیر رضوی کی وہ شام خشک گزری موڈ بھی خراب تھا اور مشاعرہ میں عمر قریشی مرحوم سے جھگڑ پڑے وہ ایک الگ واقعہ ھے
راحت بھائی کی شاعری انکے انداز انکی جرأت پر تبصرے تو پوری دنیا میں ہو رہے ہیں لیکن مجھے انکی شخصیت کے وہ پہلو یاد آ رہے ہیں جو اسٹیج پر نظر نہیں آتے تھے اس رند کی پارسائی بھی یاد آ رہی ھے جسے ہر شخص نہیں جانتا تھا
میں زندگی میں اتنا دکھی کم ہوا ہوں جتنا آج ہوں
راحت بھائی کے جانے سے لاکھوں لوگ غمزدہ ہونگے لیکن یہ میرا ذاتی غم بھی ھے
مولاۓ کریم اس قلندر کی مغفرت فرماۓ
آمین
ہاۓ کیا کیا یاد آ رہا ھے
کم لوگوں کو معلوم ہوگا کی وہ بھوپال یا اندور میں اردو لکچرر بھی تھے لیکن انہوں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا میرے پوچھنے پر کہنے لگے کی پیشۂ مدرسی سے انصاف نہیں ہو پارہا تھا مہینہ میں پندرہ بیس دن تو باہر رہتا ہوں اور تنخواہ پوری ملتی ھے جسکو میں جائز نہیں سمجھتا وہ چاہتے تو پوری تنخواہ بھی ملتی اور مشاعرہ بھی پڑھتے لیکن حرام نوش حلال کھانا چاہتا تھا
سلیم احمد اعظمی

Artricle by saleem ahmed aazmi

SADA TODAY WEB PORTAL

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here