Home زبان و ادب ارد و ادب انساں تھے خوب راحت۔اقدار کے سلامت۔الفاظ میں بلاغت

انساں تھے خوب راحت۔اقدار کے سلامت۔الفاظ میں بلاغت

0
70
انساں تھے خوب راحت۔اقدار کے سلامت۔الفاظ میں بلاغت
انساں تھے خوب راحت۔اقدار کے سلامت۔الفاظ میں بلاغت

راحت اندوری ایک ایسا نام جس کو تعارف اور تعریف کی ضرورت نہیں ۔راحت اندوری ادب کا  کوہ نور تھے ۔راحت راحت اندوری اچانک ایسے چلے گئے کہ کسی کو یقین ہی نہیں ہوتا ایک سچا کھرا انسان ۔ایک ایسا شاعر جو اپنی گھن گرج کے ساتھ اہنی ادائوں سے دلون کو جیت لیتا تھا۔راحت اندوری ایک کھرا سچا شاعر تھا

———–
انساں تھے خوب راحت

اقدار کے سلامت

لہجے میں اک کھنک تھی

الفاظ میں بلاغت

اندور کے تھے ساکن

ظاہر سے بڑھ کے باطن

زندہ دلی کے پیکر

خوش خلق سچے مومن

تھارنگ ان کا کالا

آنکھوں میں اک اجالا

حلقہ بھی دوستوں کا

پروین کاتھا ہالہ

اردو کی جان تھے وہ

بھارت کی شان تھے وہ

دشمن سے پوچھ دیکھو

انساں، مہان تھےوہ

شاعر تھے آپ سچے

عزموں کے اپنے پکے

چھوڑی نہ حق بیانی

کھانے پڑے ہوں دھکے

احباب نے بتایا

وقت اجل جو آیا
ھارانہ وہ کسی سے

پر!موت نے ہرایا

راحت کی یہ دعا ہے

“تو بخش دے خدایا”

” تو بخش دے خدایا یا”
(آمین)
****
✒️ڈاکٹر راحت مظاہری،قاسمی

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here