میں جی بھر جیا میں من سے مروں۔لوٹ کر آؤں گا کوچ سے کیا ڈروں؟

0
289

الوداع اٹل جی

موت سے ٹھن گئی
جوجھنے کا میرا ارادہ نہ تھا
موڑ پر ملیں گے اس کا وعدہ نہ تھا
راستہ روک کر وہ کھڑی ہوگئی
یہ لگا زندگی سے بڑی ہوگئی
موت کی عمر کیا ہے؟ دو پل بھی نہیں
زندگی سلسلہ آجکل کی نہیں
میں جی بھر جیا میں من سے مروں
لوٹ کر آؤں گا کوچ سے کیا ڈروں؟
ایک بہترین خطیب، مقرر، اعتدال پسند، سیاست داں چلا گیا۔ اور اپنی نظم کے مطابق وہ یہ بھی کہہ کرگیا کہ لوٹ کر آؤں گا ، کوچ سے کیا ڈروں؟ مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں ہم گھر میں اٹل بہاری واجپئی کا نام سنا کرتے تھے۔ میرے بھائی تقریباً سبھی سیاست دانوں کو ان پڑھ کہہ دیا کرتے تھے لیکن وہ اٹل جی کا نام بڑے احترام سے لیتے تھے اردو کے ادیب، شاعر ان کو اس لیے عزیز رکھتے تھے کہ وہ شاعر تھے۔ نوجوان ان کو ان کی خوبصورت شخصیت اور ان کی تقریروں کی وجہ سے سراہتے تھے۔
اٹل جی تین بار وزیراعظم بنے، پہلی مدت کار صرف 13دن تھی۔ دوسری مدت 13ماہ رہی اور پھر 1999 سے 2004تک ایک پوری مدت کے لیے وہ وزیراعظم رہے، اور اس وقت وہ پہلے غیر کانگریسی لیڈر تھے جنہوں نے اپنی مدت کار مکمل کی تھی۔1957سے 2009تک لوک سبھا کے لیے 10بار منتخب ہوئے ۔ انھوں نے جب بھی الیکشن لڑاجیتے۔ جب ان کی صحت جواب دے گئی تب انھوں نے الیکشن لڑنے سے خود ہی منع کردیا۔ دو مرتبہ وہ راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ وہ پہلے ممبر آف پارلیمنٹ تھے جو ملک کی چار ریاستوں سے منتخب ہوئے۔
اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی جنیوا میں منعقد ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اس وقت نرسمہارائو وزیراعظم تھے۔ اور انھوں نے اس کانفرنس کے لیے اٹل جی کو روانہ کیا تھا۔
ہندوستانی مسلمانوں میں ان کے لیے محبت اور احترام اس وقت دیکھاگیا جب وہ 1999میں لاہور بس لے کر گئے ان کا مقصد ہندوپاک تعلقات کو بہتر بناناتھا یوں کہہ لیجئے وہ ہندو پاک مسلمانوں کا درد محسوس کررہے تھے۔ اورجانتے تھے کہ ہندوستانی پاکستانی مسلمان، ان کے رشتے دار ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کس قدر تڑپ رہے ہوں گے۔ اس سفر میں واجپئی جی خود شریک تھے ان کے ساتھ بڑے بڑے لیڈران اور دلیپ کمار بھی شامل تھے۔ اٹل جی کا یہ جملہ کہ ’’میں اپنے ملک کے عوام کی جانب سے امیداور خیرسگالی کا پیغام لایاہوں ‘‘ سنہری لفظوں میں کہے جانے کے قابل ہے۔ آج بھی اٹل جی کو پاکستان کے لوگ یاد کرتے ہیں اور بے حد پسند کرتے ہیں۔ کچھ ہی لیڈرز ایسے ہیں جن کو پاکستانی آج بھی عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، اور وہ اٹل جی ہیں۔ تبھی علی سردار جعفری نے وہ مشہو رنظم لکھی تھی۔
تم آؤ گلشن لاہور سے چمن بر دوش
ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر
ہمالیہ کی ہواؤں کی تازگی لے کر
پھر اسکے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے؟
واجپئی جی کا کہنا تھا کہ’’ انسان اپنے دوست بدل سکتا ہے پڑوسی نہیں‘‘
ایک کسک جو ہندوستانی مسلمانوں کے دل میں ہے وہ گجرات کے فساد کی ہے اور یہ بدترین فساد اس دور میں ہوا جب وہ وزیراعظم تھے لیکن اس جملے کو بھی یاد رکھا جانا چاہیے جو انھوں نے کہاتھا کہ’’ اب میں باہر کس منہ سے جائوں گا‘‘، ان کے اس ریمارک کو گجرات حکومت اور اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کے خلاف سخت ترین ریمارک ماناگیا۔ لیکن اٹل جی نے اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی سے ’راج دھرم‘ نبھانے کےلیے تلقین بھی کی اور سرزنش بھی۔
پوکھرن کا کامیاب نیوکلیئر تجربہ بھی اٹل جی کے وقت میں ہی ہوا تھا۔چار لین سڑکیں بنانے کا کام، اور بے شمار ترقیاتی کام ان کے دور میں ہوئے۔
آج سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کے بعد کچھ الگ طرح سے بھی تاثرات آرہے ہیں کہ بابری مسجد کے وقت انہوں نے کچھ الفاظ کہے تھے، کہ زمین سمتل کرنی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ کچھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ایسے سنگھی تھے جنہوں نے موجودہ حالات کے لیے زمین ہموار کی۔
مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم مرنے کے بعد کسی کو بھی برا بھلا کہیں۔
بے شک مسلمانوں کے ساتھ آزادی کے بعد بھی انصاف نہیں ہوا، لیکن اسلام غیروں کی بھی عزت و احترام کا درس دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اخلاق سے دشمنوں کو زیر کردیتے تھے۔ یہود و نصاریٰ سے زیادہ جابر کون ہوسکتے تھے۔ لیکن آپ نے ان کا بھی احترام کیا۔
ایک ہندوستانی سپوت آج ہم سے رخصت ہوگیا ہم ان کو آج صرف ان کی اچھائیوں کے لیے یاد کریں۔ وہ بہت الگ طرح کے لیڈر تھے جن کو پوری دنیا آج بھی عزت واحترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس سادہ مزاج ، خوش اخلاق، بذلہ سنج ، بے باک مقرر کو آج ہم ان ہی کے الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ہونے نہ ہونے کا کرم
اسی طرح چلتا رہے گا
ہم ہیں، ہم رہیں گے
یہ بھرم بھی سدا پلتا رہے گا
الوداع اٹل جی!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here