مظفرپور پناہ گھر میں عصمت دری کا معاملہ

0
243

متاثرہ لڑکیوں نے کہا، ’ہنٹرانکل‘ اور’ نیتاجی‘ روزانہ عصمت دری کرتے تھے

(پٹنہ(ایجنسی) بہار کے مظفرپور میں واقع پناہ گھر میں (شیلٹر ہوم) عصمت دری کے معاملے میں متاثرہ بچیوں نے اپنی درد بھری کہانی سنائی ہے۔ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنی آب بیتی سنائی ہے۔ ایک دس سال کی متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’’جیسے ہی سورج ڈوبتا تھا، لڑکیاں ڈری سہمی رہتی تھیں۔ وہ راتیں دہشت سے بھری ہوتی تھیں۔ درندگی کے اس معاملے میں بہار سرکار نے معاملے میں ایکشن لیتے ہوئے سی بی اائی جانچ کے حکم دیے ہیں۔ لڑکیوں نے اس معاملے میں دو لوگوں کے نام بھی لیے ہیں، جس میں سے ایک کو وہ ’’نیتاجی‘‘ اور دوسرے کو’’ ہنٹر انکل ‘‘کہہ رہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ان میں سے ایک بہار سرکار کے وزیر کے شوہر ہیں۔ وہیں ہنٹر انکل پناہ گھر کے منتظم ملزم برجیش ٹھاکر کو کہا جارہا ہے۔ برجیش کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔
ایک اور متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’ہمیں ٹارچر کیا جاتا تھا، بھوکھارکھا جاتا تھا، انجکشن لگائے جاتے تھے۔ ہر رات لڑکیوں کے ساتھ ریپ ہوتا تھا۔ اگر کوئی لڑکی بات نہیں مانتی تھی اور مخالفت کرتی تھی، تو ہنٹر انکل چھڑی سے خوب پٹائی کرتا تھا۔ جیسے ہی وہ کسی کے کمرے میں آتا تھا، تو ساری لڑکیاں ڈر اور سہم سی جاتی تھیں۔ ایک دوسری متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ہم روزانہ کرن میڈم کو اس بارے میں بتاتے تھے، ان سے بچانے کی فریاد کرتے تھے،لیکن وہ کچھ نہیں کرتی تھیں۔ وہ ہماری بات نہیں سنتی تھیں۔ معلوم ہو کہ کرن سمیت تین عورتوں کو پناہ گھر میں بچیوں کی دیکھ ریکھ کے لیے رکھا گیاتھا۔ انہیں بھی گرفتار کرلیاگیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here