غزل

0
100

تاروں سے بھرا اک آسماں ہو
ہمارے واسطے ایسا جہاں ہو

خزاں کا دور اب آنے نہ پائے
کہ پھولوں سے بھرا یہ گلستاں ہو

نگاہیں ڈھونڈتی رہتی ہیں اکژ
خدا جانے کہ آخر تم کہاں ہو

میں اس کے ساتھ کچھ لمحہ گزاروں
مرا بھی کوئی ایسا مہرباں ہو

یقیں مجھ پر کرے لیکن میں چاہوں
حنا سے بھی کبھی وہ بدگماں ہو

حنا نسیم روبی
آرہ ۔بہار

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here