ریپستان میں آپ کا خیرمقدم ہے

0
177

میرے وطن ہندوستان کو تو جیسے کسی کی نظر ہی لگ گئی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت ہندوستان کی شبیہ ریپستان اور لنچستان کی ہوگئی ہے۔ میری باہر کے ممالک میں رہنے والے کچھ دوستوں سے بات چیت ہوئی انھوں نے کہا کہ تمہارے ملک کی حالت بہت خراب ہے۔ یہاں ٹورسٹ آتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں، جس ملک میں تاج محل دنیا کا ساتواں عجوبہ موجود ہو، جس کو دیکھنے کے لیے بے تحاشہ سیاح آتے ہوں وہاں کی خبریں جب دوسرے ممالک میں جاتی ہیں تو ٹورازم پر بہت اثر پڑتا ہے۔
مظفرپور میں  34لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور عصمت دری کے واقعات کی ابھی پوری طرح تفتیش بھی نہیں ہوئی تھی کہ دیوریا شیلٹر ہوم کا واقعہ سامنے آگیا۔ بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کا نعرہ دینے والے خود ہی بیٹیوں کے ساتھ وحشت اور درندگی کا ننگا کھیل ، کھیل رہے ہیں۔ اثر و رسوخ رکھنے والے سیاسی لیڈروں اور ان کے رشتے داروں کو ہی شیلٹر ہوم چلانے کے لیے کروڑوں روپے کا فنڈ دیا جاتا ہے۔ مظفرپور میں تو یہ باتیں ٹاٹاانسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی کے آڈٹ کے بعد ہی سامنے آگئی تھیں لیکن جانے کیوں بہار حکومت نے اس پر ایکشن نہیں لیا۔ برجیش ٹھاکر جو کہ خود بھی صحافی ہے اس کے انڈر گرائونڈ پریس کا جب جائزہ لیا گیا تب پتہ چلا کہ وہاں سے سیدھی سیڑھیاں بالیکا گرہ میں جاتی تھیں۔ یعنی یہ بات طے ہوگئی کہ بڑےاثر ورسوخ رکھنے والے سیاست داں او رلیڈران اسی راستے سے بالیکا گرہ میں جاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس راستے سے کسی کو شک بھی نہیں ہوتا ہوگا تین منزل کا یہ راستہ پوری طرح سے زمین دوز ہی تھا۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ منجو ورما جو کہ سماج کلیان وزارت سے تعلق رکھتی ہیں ان کے شوہر کو بھی اس میں ملوث مانا جارہا ہے۔ ان کا آج تک کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ پریس کانفرنس میں نتیش کمار جس بے شرمی سے بچیوں کی ریپ کے معاملے میں ہنس رہے تھے اور منجوورما کابچائو کررہے تھے اس سے یہ بات تو سامنے آگئی ہے کہ جب تک بڑے بڑے عہدوں پر فائز ایسے شیطانوں کو بچاتے رہیں گے ان کا کچھ نہیں بگڑے گا ۔
اسی طرح دیوریا کا واقعہ ہے۔ یہاں سے بھی جب ایک بچی بھاگ کر پولیس کے پاس پہنچی تو پورا واقعہ سامنے آیا۔ اس میں بھی ایک عورت گرجادیوی کا بڑا ہاتھ ہے اس شیطان عورت کو بھی بچیاں بڑی ماں کہتی تھیں یہ غیر قانونی چل رہا تھا۔ پچھلے سال اس کی رجسٹریشن رد کردی گئی تھی۔ یہاں آنے والی بچیوں کا اندراج تک نہیں ہے۔
یہ بچیاں بتاتی ہیں کہ کبھی سفید اور کبھی لال کاریں وہاں آتی تھیں اور بچیوں کو ساتھ لے جاتی تھیں اور جب یہ معصوم بچیاں صبح واپس آتی تھیں تو زخمی اور روتی ہوئی آتی تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جون 2017 میں بھی جب اس شیلٹر ہوم کا لائسنس رد کردیاگیا تھا تو ابھی تک وہاں پولیس بے سہارا لڑکیوں کو کیوں پہنچارہی تھی؟ یہی سوال ہائی کورٹ نے بھی کیا ہے۔ ایک لاپتہ لڑکی گورکھپور کے وردھا آشرم سے برآمد ہوئی ہے، اور یہ آشرم بھی گرجا ترپاٹھی کا ہی چل رہاتھا۔
بچیاں کہتی ہیں کہ روزانہ ہم کو پیٹتے تھے، بھوکا رکھتے تھے، گرجا ترپاٹھی ان لڑکیوں کو نوکر بنا کر گھروں میں بھیجتی تھی۔ گرجا ٹھاکر کی بہو ان کو نوکروں کی طرح رکھتی تھی مارتی پیٹتی تھی۔ افسوس کا مقام ہے اس ملک کی حالت تو عورتوں کے معاملے میں کئی سوسال پیچھے چلی گئی ہے۔ ’بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو‘ کا نعرہ دینے والے لوگ بیٹیوں کو بیچ رہے ہیں ۔ دیوریا کے لوگوں نے بتایا کہ پولیس والے ان لڑکیوں کو لاتے تھے۔ ان پولیس والوں کی بھی جانچ ہونی چاہیے اور ان کو بھی نوکریوں سے ہٹادینا چاہیے کہ جب اس شیلٹر ہوم کا رجسٹریشن ہی رد ہوگیا تھا تو یہ وہاں لڑکیوں کو کیوں لاتے تھے؟ 48لڑکیوں میں سے ابھی بھی7لڑکیاں غائب ہیں۔ آپ دیکھ لیجئے گا ان سبھی سیکس ریکٹوں میں بڑے بڑے منسٹر، سیاسی لیڈران ہی سامنے آئیں گے۔ معصوم بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اور یہ ملک اس وقت ریپستان بن چکا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here